مومنہ اقبال ہراسانی کیس، ثاقب چدھڑ پھرFIAکے ریڈار پرآ گئے

مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے مقدمے میں نئے ڈیجیٹل شواہد سامنے آنے کے بعد معاملے نے ایک بار پھر نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے نے اداکارہ مومنہ اقبال، مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ اور دیگر متعلقہ افراد کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی ازسرِنو تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ یوں پہلے کی تفتیش میں بے قصور قرار دیے جانے کے باوجود معاملہ دوبارہ زیرِتحقیق آ گیا ہے۔
قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے کے مطابق خصوصی ٹیم کی سربراہی ڈپٹی ڈائریکٹر سطح کے افسر کریں گے، جو نئے ڈیجیٹل شواہد، سابقہ ریکارڈ اور دیگر متعلقہ معلومات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ تحقیقاتی ٹیم کو ایک ماہ کے اندر اپنی کارروائی مکمل کرکے رپورٹ ڈائریکٹر جنرل قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جس کی روشنی میں آئندہ قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک کسی بھی فرد کو گنہگار یا بے گناہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نئے شواہد کی جانچ پڑتال کے بعد ہی یہ طے کیا جائے گا کہ مقدمے میں مزید کارروائی کی ضرورت ہے یا نہیں۔
اس سے قبل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے مقدمے میں مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرا کو فی الحال بے قصور قرار دیا تھا۔ تفتیشی افسر نے سیشن عدالت لاہور کو بتایا تھا کہ دونوں کی گرفتاری درکار نہیں اور این سی سی آئی اے نے مقدمے کی تفتیش تبدیل کرکے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی۔
مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے مقدمے کی ازسرِنو تفتیش کے بعد اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کی تھی۔ تفتیشی افسر کے بیان کی روشنی میں ثاقب چدھڑ نے اپنی عبوری ضمانت واپس لے لی، جس پر عدالت نے ان کی اور ان کی اہلیہ سمیرا کی درخواستِ ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔
اس وقت ثاقب چدھڑ نے کیس میں بے قصور قرار دیے جانے پر کہا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ انہیں جھوٹے الزام سے بری کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دوبارہ بھی تفتیش ہوتی ہے تو وہ اس میں پیش ہوں گے، انہیں اداروں پر اعتماد ہے اور وہ ہر صورت قانون کی پاسداری کریں گے۔
اب نئے ڈیجیٹل شواہد سامنے آنے کے بعد قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے نے معاملے کو دوبارہ کھولتے ہوئے خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے۔ نئی ٹیم نہ صرف سامنے آنے والے ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لے گی بلکہ سابقہ تحقیقات اور دستیاب ریکارڈ کو بھی سامنے رکھے گی تاکہ کسی حتمی نتیجے تک پہنچا جا سکے۔
اس پیش رفت کے بعد کیس میں آئندہ ایک ماہ اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ ہی یہ طے کرے گی کہ نئے شواہد کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی بنتی ہے یا پہلے کی تحقیقات ہی حتمی سمجھی جائیں گی۔
