واحد حل مفاہمت!

تحریر:حفیظ اللہ نیازی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
نواز شریف قدم بڑھائیں اور بڑے بڑوں کی صلح کرائیں ، پاکستان کو بچائیں ۔ پہلے کے حل طلب مسائل موجود کہ کئی اور بڑوں کی بڑوں سے ٹھن گئی ۔ پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان بھی جارحانہ سیاست کا راستہ اپنا چکے ہیں ۔ بظاہر صدر آصف علی زرداری پورے خاندان کیساتھ طویل رخصت پر ، کیا نیم جلاوطنی پر تو نہیں چلے گئے ؟اگر ایسا ہوا تو ملکی بدنصیبی ہو گی۔ 27 اگست کو جیسے ہی زرداری صاحب کا طیارہ ہوا میں بلند ہوا ، اگلے دن سندھ اسمبلی میں صوبوں کیخلاف قرارداد آگئی ۔ سندھ کے اندر سیاسی درجہ حرارت یکدم آسمان کو چھونے لگا ۔
پیپلز پارٹی نے مقتدرہ کے موجودہ صوبوں کی تقسیم کے منصوبے کو جس گھن گرج کیساتھ للکارا ، اسکے علیحدہ نمبر ملنے چاہئیں ۔ وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ و نثار کھوڑو سمیت دیگر رہنماؤں نے صوبوں کی تقسیم کیخلاف اسمبلی میں سخت اور دوٹوک موقف اپنایا ۔ اب یہ خبر کہ زرداری صاحب کا قیام بڑھ گیا ہے ۔ نیم جلاوطنی کے آئیڈیے کو تقویت ملی ہے ۔ شاید واپسی کسی فیصلہ کن مذاکرات یا نتیجہ خیز بات چیت کے بعد ہی ہو گی۔ آج کا منظرنامہ 2015 ءسے ملتا جلتا ہے ، جب 16جون 2015کو پشاور میں زرداری صاحب نے اداروں کو مخاطب کرکے سخت زبان میں للکارا ۔ اس تقریر کے فوراً بعد 25 جون 2015 ءکو وہ دبئی چلے گئے اور تقریباً ڈیڑھ سال بعد ، 23دسمبر 2016کو جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد واپس آئے ۔ کیا تاریخ پھر اپنے آپکودہرائے گی؟ زرداری صاحب کی کامیاب حکمتِ عملی ہی ہے کہ انکی غیر موجودگی میں قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی بھی پیپلز پارٹی کا ہے ۔
زرداری صاحب کی سیاسی چالوں پر دل عش عش کر اٹھتا ہے۔ کس مہارت سے زرداری صاحب نے پہلے صدر کا عہدہ ہتھیایا، پھر اپنے لیے تاحیات صدارتی استثنیٰ حاصل کیا۔ دو اہم آئینی عہدے پیپلز پارٹی کے پاس رکھنے کا مقصد شاید اسی منظرنامے کو چشمِ تصور میں رکھ کر ہی لئے ہونگے ۔
مذاکرات اور مفاہمت کی مد میں دو واقعات درج کرنے ہیں ۔ 1979ءمیں جنرل ضیاء الحق کا مارشل لا طمطراق سے نافذ تھا ۔ جنرل ضیاء الحق اس لحاظ سے خوش قسمت کہ 5 جولائی 1977 کو مارشل لا لگایا تو دائیں بازو کی تمام مذہبی جماعتیں و سیاسی تنظیموں کی حمایت مل گئی ۔ دائیں بازو کی سپورٹ ہی کہ وطنی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ جنرل ضیاء الحق کا جبکہ پہلی برسی جنازے سے زیادہ پُرہجوم اور پُرجوش تھی ۔ آج میرا موضوع جنرل ضیاء الحق یا ان سے میرا تعلق نہیں بلکہ ایک واقعہ بیان کرنا ہے ۔
میرا موضوع مختلف ، غالباً جولائی 1979ءکو معلوم ہوا کہ اسلام آباد سیکریٹریٹ کے سامنے ملک بھر کے اہل تشیع جوق در جوق جنرل ضیاء الحق کے اسلامی قوانین کیخلاف پہنچ چکے ہیں ۔ میرے زمانہ کے سیاسی ایکٹویسٹ ہر جلوس ، دھرنا میں جاناسعادت سمجھتے تھے ۔ عادتاً مجبور ، اہل تشیع کی اسلام آباد چڑھائی کا سنا تو دیکھنے پہنچ گیااور پلک جھپکتے گھل مل گیا ۔ بہت بڑا مجمع مگر تکلیف دہ بات کہ جنرل ضیاء الحق اور مارشل لا کیخلاف انتہائی نازیبا اور ناگفتہ بہ نعرے لگا رہے تھے ، جو مجھے چبھ رہے تھے ۔ چند ایک دیرینہ دوست بھی مل گئے ، وہاں سے واپسی پر دیر ہو گئی ، لگ بھگ رات 11بجے گھر پہنچا تو وہاں جنرل ضیاء الحق کے بیٹے ڈاکٹر انوار الحق کی گاڑی کو کھڑے پایا ۔ ڈاکٹر صاحب چند گھنٹوں سے میرے منتظر تھے کہ جنرل ضیاء الحق مجھے شدت سے ڈھونڈ رہے تھے۔
CMLA سیکریٹریٹ ( وزیراعظم ہاؤس چکلالہ ) پہنچا تو فوراً ملٹری سیکریٹری کے پاس اور لمحہ ضائع کئے بغیر جنرل کے ایم عارف کے کمرے میں پہنچا دیا گیا ، جہاں جنرل ضیاء الحق بیٹھے تھے ۔ کمرے میں جنرل عارف ، جنرل اختر عبدالرحمٰن کے علاوہ 7/8 آدمی وردی میں ، 2سویلین ڈریس میں موجود تھے۔ جنرل ضیاء الحق نے تعارف کرایا، لیفٹیننٹ جنرل اختر عبدالرحمن، میجرجنرل کے ایم عارف اور 6/7 جنرل جن کے نام یاد نہیں ، وزیرداخلہ محمود ہارون ، سیکریٹری داخلہ روئیداد خان وغیرہ ۔مجھے وہاں اسلئے بلایا گیا تھا کہ ملک بھر سے آئے اہل تشیع کے جم غفیر سے کیسے نبٹا جائے ، جنرل ضیاء الحق کی ایک خوبی کہ وہ عام آدمی سے مشورہ لیتے ہچکچاتے نہیں تھے ، جبکہ میں اوائل جوانی میں بمشکل 26 سال کا تھا ۔ میں چونکہ دیکھ آیا تھا کہ اسلام آباد سیکریٹریٹ مکمل طور پر انکے حصار میں تھا ۔ میرا مشورہ دو حرفی تھا، ’’ہجوم بہت بڑا ہے اور مشتعل ہے ۔ اب جبکہ ہجوم اسلام آباد سیکریٹریٹ پر قبضہ کر ہی چکا ہے تو آپ لوگوں کو صرفمذاکرات کرنا ہونگے کہ صرف بات واحد حل ہے ‘‘۔ مودبانہ عرض کی کہ سارے مطالبات تسلیم کرنا ہونگے ۔ محمود ہارون سے زیادہ مناسب کوئی اور بندہ نہیں جو ان سے مذاکرات کرے ۔ جب تک بات چیت چل رہی ہے ، براہ مہربانی CDA سے کہیں کہ وہاں پانی کے TANKERS اور کل صبح ناشتہ دھرنے کی دہلیز پر پہنچائیں ۔ اللہ کا کرنا یہی ہوا کہ محنت مشقت سے گھنٹوں کی گفت و شنید کے بعد مذاکرات کامیاب ہو گئے ، مطالبات مان لئے گئے، مجمع بخیر و خوبی منتشر ہو گیا ۔ فاسٹ فارورڈ : اسی مد میں ایک واقعہ اور بھی ، 23 اکتوبر 2023 عمران خان اٹک جیل میں مقید جبکہ ڈاکٹر عارف علوی صدارتی محل میں مقیم تھے ۔ میں اسلام آباد میں تھا اور ملکی صورتحال سے پژمردہ ، بے کیفی کی حالت میں سِرا تلاش کرنا تھا ۔ صدر مملکت کو میسج کیا کہ آپکو ملنا ہے ، انہوں نے مجھے فوراً بلا لیا ۔ 2012ءکے بعد میری ان سے پہلی ملاقات تھی ، غیرضروری باتیں برطرف ، میں نے ان سے ہاتھ جوڑ کر مودبانہ گزارش کی کہ پاکستان ڈوب رہا ہے ، آپ کچھ کریں ۔ نواز شریف کو بیچ میں ڈالیں اور بڑوں کی صلح کرائیں ۔ صدر محترم میری باتوں سے پریشان ہو ئے مگر بات کو سنجیدگی سے سنا مگر انکی بے بسی اور عدم استطاعت ساتھ نتھی تھی ۔ میں نے عرض کی کہ محترم ! آج شاید مفاہمت ہو جائے مگر ایک سال بعد مفاہمت کے تمام امکانات معدوم ہو جائیں گے ۔ عمران خان کیلئے میرے دل میں زیرو ہمدردی تھی ،میں صرف پاکستان بارے پریشان تھا اور اپنے تئیں کچھ کرنا چاہتا تھا ۔مئی 2025اور 28فروری 2026ءکے بعد دلی خواہش تھی کہ عمران خان کے پیچھے خلقت جبکہ عسکری قیادت کی عزت و مقام ساتویں آسمان پر ، دونوں کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا ۔ دونوں مل جائیں تو شرطیہ کہتا ہوں سندھ ، بلوچستان ، KPK ، کشمیر ، ہر طرف امن بھی ہوگا اور صوبے بھی بن جائینگے ۔ عمران خان خلقت کو پاکستان کے حوالے کردیں ، دوسری طرف مقتدرہ پاکستان کو راستہ دے ۔ عمران خان اور مقتدرہ کے کرتا دھرتا سے ہاتھ جوڑ کر اپیل ہے کہ پاکستان کو راستہ دیں تاکہ خلقت خدا آپکی کامیابیوں اور کمالات سے مستفید ہو سکے ۔ یہ ممکن ہے ، نواز شریف صاحب اسکو ممکن بنا سکتے ہیں ۔ سارے بڑے نواز شریف کی بات سنیں گے اور سب کو سننی پڑے گی۔ نواز شریف اپنی پارٹی سے بالاتر ہوکر پاکستان کیلئے اپنا رول ادا کر جائیں اور امر ہو جائیں ۔ پاکستان میں تناؤ ٹکراؤ ختم ہوگا، معافی تلافی کیساتھ سب ایک صفحے پرہونگے تو ملک آسماں پر، وگرنہ قوم و ملک دونوں اس تناؤ میں خرچ ہو جائیں گے ! داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔
