نفسیاتی تجزیے میں عمران خان خود پسند سائیکوپیتھ قرار

 

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سلیم صافی نے روزنامہ جنگ میں ادارتی سنسر شپ کا شکار ہو جانے والی اپنی ایک تحریر میں انکشاف کیا یے کہ امریکہ کے ایک ماہر سائیکائٹرسٹ نے وزیر اعظم عمران خان کی شخصیت کا نفسیاتی تجزیہ کیا ہے جس کے مطابق ان میں سائیکوپیتھی، نرگسیت یعنی خود پسندی اور میکیاولین ازم کے عناصر بیک وقت اور بدرجہ اتم جمع ہو چکے ہیں۔ صافی کے بقول شاید اسی وجہ سے عمران خان کی سیاست اور حکومت جھوٹ، فریب اور یوٹرن سے عبارت ہے۔

سلیم صافی کی یہ تحریر روزنامہ جنگ نے حکومتی دباؤ پر شائع کرنے سے معذرت کر لی تھی۔ اپنی تحریر میں سلیم صافی لکھتے ہیں کہ عمران ایک جانب تو کرشماتی شخصیت کے حامل ہیں اور لاکھوں لوگ ان کے گرویدہ ہیں لیکن دوسری جانب وہ اپنے ساتھیوں کو لمبا عرصہ ساتھ لیکر چلنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ ان کے ایک قریبی ساتھی کے مطابق عمران خان کے ہاں سمسٹر سسٹم چلتا ہے، یعنی ایک سمسٹر میں ایک بندہ انکے قریب اور انہیں عزیز ہوتا ہے جبکہ دوسرے سمسٹر میں دوسرا ۔

اسی طرح ایک طرف انہیں نہایت سیدھا سادا سمجھا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف وہ لاکھوں عالی دماغ پاکستانیوں کو بلکہ پورے پورے اداروں کو بے وقوف بنا دیتے ہیں۔ ایک طرف انہوں نے خود کو مسٹر کلین مشہور کر رکھا ہے جبکہ دوسری جانب وہ صاحب دولت لوگوں سے نہ صرف ذہنی طور پر مرعوب نظر آتے ہیں بلکہ بطور سیاستدان اور بطور حکمران بھی وہ ہمہ وقت مافیاز اور حرام خوروں کے جھرمٹ میں گھرے نظر آتے ہیں۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ اپنی والدہ کے نام پر ہسپتال بناکر عمران خان نے انسانیت کا درد رکھنے والے شخص ہونے کا تاثر دیا لیکن دوسری طرف وہ نہایت سفاک واقع ہوئے ہیں۔ وہ باتیں ریاست مدینہ کی کرتے ہیں، مثالیں خلفائے راشدین کی دیتے ہیں لیکن ان کے سینے میں ہمہ وقت سیاسی اور صحافتی مخالفین کے خلاف انتقام کی آگ بھڑک رہی ہوتی ہے۔

جب وہ بولتے ہیں تو اپنے چہرے کے تاثرات ایسے بناتے ہیں کہ مخاطب ان کی بات پر یقین کرنے لگ جاتا ہے لیکن دراصل ان کی سیاست اور حکومت جھوٹ، فریب اور یوٹرن سے عبارت ہے۔ بعض اوقات وہ نہایت ضدی اور غیرمصلحت پسند نظرآتے ہیں لیکن پھر وقت آنے پر وہ لیٹ بھی جاتے ہیں جس کی توقع کسی قومی لیڈر تو کیا شبلی فراز سے بھی نہیں کی جاسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ ان سے شدید عقیدت رکھتے ہیں اور بعض لوگ ان سے شدید نفرت کرتے ہیں۔

سلیم صافی بتاتے ہیں کہ ماں کی دعاوں کی برکت سے اللہ رب العالمین نے مجھے عمران کی سیاست کے ابتدائی دنوں میں یہ توفیق بخشی تھی کہ ان کی شخصیت اور کردار کے بارے میں ایک رائے قائم کر لوں، لیکن ظاہر ہے کہ میں نہ تو ماہر نفسیات ہوں اور نہ ہی دانشور، اس لئے پوری طرح کڑیوں کو ملا نہیں سکتا تھا، لیکن اب میری یہ مشکل امریکہ کی ایک اعلیٰ یونیورسٹی میں پڑھانے والے سائیکاٹرسٹ نے سائنسی اور طبی طور پر آسان کر دی ہے۔ صافی بتاتے ہیں کہ امریکہ میں مقیم سائیکائٹرسٹ کی طرف سے عمران خان کی شخصیت کے نفسیاتی تجزیے کی پوری رپورٹ میرے پاس موجود ہے، اس ماہر نفسیات نے عمران کا جو تجزیہ کیا ہے وہ صرف بطور سیاستدان اور بطور حکمران ان کے رویے، اقدامات اور بیانات کی بنیاد پر کیا ہے۔

تاہم اس سٹڈی کے دوران عمران کی ذات بارے موجود اطلاعات اور افواہوں سے سروکار نہیں رکھا گیا۔ یہ کام صرف عمران کی ذات سے متعلق ہی نہیں کیا گیا بلکہ امریکہ اور مغرب میں یہ عام روایت ہے کہ ماہرین نفسیات، سیاست دانوں اور اہم ترین شخصیات کے نفسیاتی تجزیے کرکے قوم کے سامنے رکھتے ہیں تاکہ عوام کو رائے قائم کرنے میں آسانی ہو۔ یہ اور بات کہ پاکستان میں ایسا رواج نہیں ہے۔

سلیم صافی بتاتے ہیں کہ عمران خان کی شخصیت کا تجزیے کرتے وقت دو فارمولے استعمال کیے گے۔ پہلا فارمولا
Millon Inventory of Diagnostic Criteria
کہلاتا ہے جو شخصیت کی مختلف جہتیں جاننے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ طریقہ 1999 میں دو ماہرین نفسیات املمین اور سٹائین برگ کی تحقیق سے ماخوذ ہے۔ دوسرا فارمولا جو اس تجزیے کے لیے استعمال کیا گیا وہ
Dark Triad of Personality
کہلاتا ہے جسے پالہس اور ولیمز نامی ماہرین نفسیات نے تجویز کیا جس کی رو سے تین باہم جڑے ہوئے مختلف نفسیاتی عناصر شخصیت کی تشکیل کرتے ہیں۔ یہ ماہرین انہیں سائیکوپیتھی، نرگسیت یا خود پسندی اور میکیاولی ازم کے تحت بیان کرتے ہیں۔

بقول سلیم صافی، عمران کی میڈیکل ہسٹری، ذاتی انٹرویو اور کلینکل ٹیسٹ کے بغیر میڈیا میں موجود مواد کی بنیاد پر انکا کا جو نفسیاتی تجزیہ کیا گیا ہے اس کی رو سے ان کی شخصیت میں نرگسیت، سائیکوپیتھی اور میکیاولین ازم کے عناصر بیک وقت بدرجہ اتم جمع ہوگئے ہیں۔ نفسیاتی تجزیے کی رو سے عمران کی شخصیت میں نرگسیت کے عناصر بدرجہ اتم موجود ہیں جو انہیں ایک ایسا شخص بناتے ہیں جو کہ خود کو پسند کرتا ہے، اور اچھا سمجھتا اور خود کو ہر کام انجام دینے کے لیے قابل سمجھتا ہے۔

وہ کسی معاملے پر اپنی سوچ صرف اپنی ذاتی پسند و ناپسند یا پھر اپنے فائدے اور نقصان کی بنیاد پر ترتیب دیتا ہے۔ ایسا شخص عام طور پراپنی رائے حقائق یا عقل کی بجائے جذبات، دقیانوسی تصورات، گھسے پٹے فقروں اور عوامی طور پر مقبول تصورات کی بنیاد پر بناتا ہے۔

بقول سلیم صافی، امریکی نفسیاتی ماہر نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ عمران خان کے میکیاویلین ازم کے آوٹ گوئنگ پیمانوں پر انکا سکور کافی بہتر ہے جو انہیں موقع شناس بھی بناتا ہے۔ جبکہ ان کی نرگسیت انہیں خود پسند اور خود صالح بناتی ہے۔ اسی کے ساتھ ہی ان کا میکیاولین ازم انہیں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک چلے جانے، جھک جانے اور کچھ بھی کرنے کا اہل بناتا ہے۔

انکا میکیاولین ازم انہیں اپنے ٹارگٹ کے حصول کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کا اہل بناتا ہے ۔اسی طرح یہ عنصر انہیں بڑی شخصیات اور غیر ملکیوں سے ایسے بھاؤ تاؤ میں مدد دیتا ہے جس کا دورانیہ کم ہو لیکن اگر میل ملاپ کا دورانیہ زیادہ ہو تو وہ ایکسپوز ہوجاتا ہے۔

حکومت کا شہباز شریف کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی پر غور

نفسیاتی تجزیے کی رپورٹ کے مطابق ایسے شخص کا یہی اونچا سکور اسے خود اپنے اعمال کا جائزہ لینے، اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنے اور اپنی خامیوں پر قابو پانے سے روکتا ہے۔ اس عنصر کی وجہ سے وہ اپنی غلطیوں کو بار بار دھراتا ہے۔ میکیاولین ازم میں عمران جیسے شخص کا یہی اونچا سکور انہیں کسی مقصد کے لیے موبلائزر اور متحرک کرنے والا بناتا ہے۔ اس صفت کی وجہ سے وہ لوگوں کو اپنی طرف کھینچنے کا سبب بنتا ہے۔

تخفیف بیانی اور سادہ نتائج نکال کر وہ لوگوں کو آسانی سے ایسی بات سمجھا سکتا ہے جو وہ سمجھانا چاہتا ہے۔ لیکن دوسری طرف اس کے لئے کسی عام آدمی جیسا نظر آنا اور اسکے ساتھ جڑنا ممکن نہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان کی نرگسیت یو خود پسندی انہیں مستقل اپنی ذات کے پرچار اور تعریف میں مشغول رکھتی ہے۔ ان کا رجحان اپنی کامیابیاں بار بار اور بڑی کر کے بیان کرنے اور خود اپنی تعریف و ستائش کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

ان کی ذات جذبات سے مکمل عاری ہوتی ہے جس وجہ سے وہ ہمہ وقت اپنی وفاداری تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو کسی سیاسی مقصد کو حاصل کرنے میں تو مددگار ہوسکتی ہے لیکن یہ خاصیت اسے تنہا بھی کر دیتی ہے۔

سلیم صافی بتاتے ہیں کہ امریکی سائٹ کی رپورٹ کے مطابق عمران جیسے لوگوں کی جذباتیت انہیں پیچیدہ اور کثیر الجہت معاملات کو حل کرنے سے عاری کر دیتی ہے۔ ان کی شخصیت کا یہ عنصر کسی بھی ایسے کام میں رکاوٹ ڈالتا ہے جس کے لیے پائیدار توجہ اور زیادہ ذہنی مشقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انکی ناسمجھی اور جلد بازی ان کے توجہ دینے اور غور کرنے کے دورانیہ کو تب کم کردیتی ہے جب انہیں کسی مشکل کا سامنا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ عام طور پر سوچ سمجھ کر اور تدبیر سے عمل کرنے کے بجائے لڑنے یا بھاگنے کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ کسی قابل اعتماد مشیر یا معاون کے بغیر کسی بڑے گروپ کو ساتھ نہیں چلاسکتے۔

سلیم صافی عمران خان کی شخصیت کی نفسیاتی رپورٹ کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ سائیکوپیتھی میں ان کے ہائی سکور سے واضح ہوتا ہے کہ ان میں اپنا گروپ چھوڑ کر جانے والوں کو منانے یا سمجھا کر واپس لانے کی استعداد موجود نہیں ہوتی۔ ایسے لوگ اپنے مخالفین کے ساتھ مل بیٹھ کر ایک مشترکہ مقصد کے لیے مذاکرات کرنے اور انہیں قائل کرنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہوتے ہیں۔

یہ اپنے کٹر پیروکاروں کے ایک ایسے گروپ کو تو آسانی سے سنبھال لیتے ہیں جو اس کی کرشماتی اور سحر انگیز شخصیت سے متاثر ہوں لیکن ایسے لوگوں میں نہ تو اپنی سطحی سوچ کی وجہ سے بلند اور اعلیٰ سوچ سمجھ رکھنے والے لوگوں کو متاثر کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے مخالفین کو اپنے لڑاکا رویے کی وجہ سے قائل کر سکتے ہیں۔

Back to top button