PTIمائنس، اگلی حکومت بھی اتحادی جماعتیں بنائیں گی؟

پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد ملکی سیاست میں بڑے پیمانے پر ہلچل پیدا ہو چکی ہے۔سیاسی مبصرین اب سیاسی منظر نامے کو نواز شریف کی واپسی کے بعد کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ دوسری مسلم لیگ ن کی جانب سے لاہور میں پاور شو کے بعد دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی اپنی آئندہ کی منصوبہ بندی پر کام شروع کر دیا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عام انتخابات میں بھی کوئی سیاسی جماعت دو تہائی اکثریت لینے میں کامیاب نہیں ہو گی بلکہ اگلی حکومت بھی نون لیگ کی قیادت میں اتحادی جماعتوں پر مشتمل ہو گی۔

نواز شریف سے ملاقات کیلئے جاتی امرا پہنچنے والے اے این پی کے غلام بلور نے عندیہ دیا کہ مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کے چلا جا سکتا ہے۔اسی طرح بلوچستان عوامی پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی اور جی ڈی اے کی طرف سے مقامی میڈیا پر ایسی خبریں چل رہی ہیں جیسے مسلم لیگ ن کےساتھ انتخابی اتحاد کے لیے اکثر پارٹیاں پر تول رہی ہیں۔

سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی حکمت عملی تو سامنے آ رہی ہے تاہم ابھی نواز شریف کیا چاہتے ہیں اس کا فوری سامنے آنا مشکل ہے کیونکہ’ابھی تو اگلے چند ہفتے وہ اپنی قانونی موشگافیوں سے نمٹیں گے۔ پھر وہ باضابطہ سیاسی ملاقاتیں شروع کریں گے تو اس وقت سیاسی کہانی آگے بڑھے گی۔ کیونکہ ابھی بہت کچھ حل طلب ہے۔ ویسے تو تاثر یہی ہے اور ان کی تقریر سے بھی ظاہر ہے کہ وہ چوتھی مرتبہ وزیراعظم بننے کی تیاری کر رہے ہیں، لیکن اس کے ساتھ اس فیکٹر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ انہیں ڈکٹیٹ نہیں کیا جا سکتا۔‘

سلمان غنی نے کہا کہ ’پیپلز پارٹی جیسے شور مچا رہی ہے اس سے یہ تاثر بھی آ رہا ہے کہ اس بار شائد سندھ میں وہ پہلے کی طرح مضبوط نہ ہو تو اس صورت میں ایم کیو ایم، جی ڈی اے، مسلم لیگ ن ایک ٹف ٹائم دے سکتے ہیں۔‘’لیکن نواز شریف ایسا نہیں چاہیں گے البتہ شہباز شریف کے یہ مسائل نہیں ہیں۔ نواز شریف کی سیاست کو جتنا میں جانتا ہوں وہ اب دباؤ میں فیصلے نہیں کریں گے بلکہ ان کے فیصلے سیاسی ہوں گے۔ وہ پیپلز پارٹی کو بھی ساتھ ملانے کی کوشش کریں گے اور لیول پلیئنگ فیلڈ کی بات بھی کریں گے کیونکہ ان کو کریڈیبلٹی بھی چاہیے۔ اس لیے اگلے چند ماہ پاکستانی سیاست کے بڑے ہنگامہ خیز ہوں گے اور بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔ کچھ لوگ تو یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ شائد نواز شریف وزیراعظم کی دوڑ سے خود ہی الگ نہ ہو جائیں، لیکن یہ آنے والے وقت میں واضع ہو گا۔‘سلمان غنی کا مزید کہنا تھا کہ جس طرح کا تاثر ہے کہ ہر چیز پہلے سے طے ہے ایسی صورت میں کریڈیبلٹی نہیں ہو گی اور یہ بات نواز شریف کی اب طبیعت سے میل بھی نہیں کھاتی۔

دوسری جانب سینیئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے مطابق ’نواز شریف کی تقریر سے یہ واضع تھا کہ وہ وزیراعظم بننے کے لیے آئے ہیں۔ مگر ابھی بھی تحریک انصاف والا معاملہ بیچ میں ہے اور لیول پلیئنگ فیلڈ دیے بغیر حکومت کرنا مشکل ہو گا۔ مجھے یہ لگ رہا ہے کہ سیاسی جمع تفریق سے کوئی ایسا حل نکالا جائے گا جو سب فریقوں کو قابل قبول ہو۔‘انہوں نے کہا کہ ’ملکی معیشت کو جس سیاسی استحکام کی ضرورت ہے اس کا اظہار نواز شریف خود بھی کر چکے ہیں۔ صحیح چیزیں واضع سیاسی میدان سجنے کے بعد ہوں گی۔ ابھی تو شروعات ہے لیکن مجھے منظرنامہ یہی لگ رہا ہے کہ حکومت مسلم لیگ ن بنائے گی اور باقیوں کو بھی حصہ بقدرے جثہ ملے گا۔‘

دوسری جانب بعض دیگر مبصرین کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن نے نواز شریف کی واپسی پر بھرپور پاور شو کر کے مخالفین کی نیندیں اڑا دی ہیںچونکہ اب انتخابات کی آمد آمد ہے اس لئے اس جلسے کے بعد سیاسی جماعتوں پر عوامی رجحان واضح ہو گیا ہے اور اب ہر سیاسی جماعت ضرور چاہے گی کہ وہ بھی اپنی عوامی پذیرائی دکھانے کے لئے کوئی اس کے مقابلے کا جلسہ کر کے دکھائے کیونکہ پاکستان کی سیاسی ثقافت میں ایسے جلسوں سے سیاسی ہوا کے رخ تبدیل ہوتے ہوئے دیکھے گئے ہیں جو عوامی رائے کو ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے انتخابات پر بہت گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اس جلسے سے ایک طرح سے اگلے انتخابات کی کمپین کا آغاز ہو گیا ہے۔

مبصرین کے مطابق جلسے سے خطاب میں نواز شریف نے اپنے بیانیے کو بھی واضح کر دیا ہے کہ ان کا بیانیہ ان کی کارکردگی ہے۔ ان کے دور میں روٹی، پٹرول، ڈالر اور بجلی کی قیمت ہی ان کا بیانیہ ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی بھی سیاسی جماعت کارکردگی میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ ان کی تقریر کے لب لباب کو لیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ نواز شریف نے انتقام کو چھوڑ کر خوشحالی کے انتظام کی بات کی ہے اور واضح طور پر کہا ہے کہ اب ترقی و خوشحالی کے لئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اور عوام اور اداروں کو ایک ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا۔ تاہم دیکھنا ہے کہ ان کا مفاہمتی بیانیہ نون لیگ کے ووٹرز اور عوام کو کس حد تک اپنی جانب مائل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ اس کا حتمی فیصلہ تو آئندہ انتخابات میں ہی ہو گا۔

Back to top button