پاگل انقلابی نے اپنے خاندان کے نوجوانوں کا مستقبل کیسے برباد کیا؟

خبطی انقلابی عمران خان نے نہ صرف ملک کی نوجوان نسل کے ایک حصے کو گمراہ کر کے نومتی جیسا سانحہ کرایا۔ بلکہ اپنے خاندان کے کئی نوجوانوں کا مستقبل بھی داؤ پر لگا دیا۔عمران خان خود تو جیل میں مزے سے مہنگی سائیکل پر ورزش اور نیٹ فلیکس پر فلمیں دیکھ رہے ہیں اور ان کے بیٹے لندن میں عیاشیاں کر رہے ہیں جبکہ سانحہ 9 مئی کی وجہ سے جیلوں میں قید یا روپوش ان نوجوانوں کے اہل خانہ جوان بیٹوں کی جدائی کی وجہ سے اپنی زندگی کے تلخ ترین دور سے گزررہے ہیں۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق عمران خان کے قریبی عزیزوں میں سے ایک نے اپنے خاندان پر بیتنے والی روداد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ حسان نیازی تو گرفتار ہو چکا اور اس کے والدین اپنے بیرسٹر بیٹے کے مستقبل کے بارے میں انتہائی فکر مند ہیں۔ خاندان کے کئی اور نو جوانوں کے اہل خانہ کو بھی اسی نوعیت کی صورت حال کا سامنا ہے۔ ان میں چیئر مین پی ٹی آئی کے دیگر بھانجے، بھتیجے اور ایک فرسٹ کزن شامل ہے۔ یہ تمام نوجوان سانحہ نوئی کے حوالے سے مطلوب ہیں۔ ابھی قانون کی گرفت میں نہیں آسکے اور روپوش ہیں۔
یادر ہے کہ حسان نیازی سانحہ نومئی کے مطلوب ترین ملزمان میں شامل تھا۔ لیکن پولیس کے ہاتھ نہیں آرہا تھا۔ آخر کار پکڑا گیا اور اس وقت فوج کی تحویل میں ہے۔ یہ گرفتاری کیسے عمل میں آئی ؟ اس کی تفصیل بڑی دلچسپ ہے۔ قابل اعتماد ذرائع نے "امت” کو بتایا کہ سانحہ نومئی کے بعد حسان نیازی اپنے سسرال میں جا چھپا تھا۔ حسان نیازی کی شادی اپنے ایک دور کے رشتہ دار اوگی کے رہائشی وجیہ الرحمن کی صاحبزادی سے ہوئی تھی۔ اوگی خیبر پختو نخوا کے ضلع مانسہرہ کا ایک قصبہ ہے۔ روپوشی کے ابتدائی دن حسان نیازی نے وہیں اپنے سسرال میں گزارے۔ کچھ عرصہ بعد اسے شک گزرا کہ اس کا یہ ٹھکانہ نظروں میں آ گیا ہے۔ اس پر سسرالی بھی پریشان ہو گئے۔ چنانچہ حسان نیازی ایبٹ آباد میں اپنے ایک اور عزیز کے گھر منتقل ہو گیا۔ جو پی ایم اے کا کول اکیڈمی کی قریبی آبادی میں ہے۔ پی ایم اے کا کول میں کسی تقریب سے پہلے سیکورٹی نقطہ نظر سے قریبی آبادیوں میں عموماً کومبنگ آپریشن ہوتے رہتے ہیں۔ ایک دن ایسے ہی ایک کومبنگ آپریشن کے دوران جب سیکورٹی اہلکار گھر گھر کی تلاشی اور مکینوں کا ڈیٹا لے رہے تھے تو وہ اس مکان پر بھی پہنچے۔ جہاں حسان نیازی نے پناہ لے رکھی تھی۔ معلومات پر چوکیدار نے بتایا کہ صاحب تو نہیں ہیں۔ لیکن گھر میں لاہور سے آئے کچھ مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں“۔ جب مہمانوں کی شناخت کی گئی تو ان میں سے ایک حسان نیازی نکلا۔ حسان نیازی کے ایک قریبی رشتہ دار نے بتایا کہ میں اسے سمجھانے کی بہت کوشش کیا کرتا تھا کہ وہ جس راستے پر چل رہا ہے، اسے ترک کر دے۔ میں اسے کہتا کہ بندہ کسی اعلیٰ مقصد کے لئے لڑ رہا ہوتو الگ بات ہے۔ لیکن کسی ایسے شخص کے لئے اپنا مستقبل داؤ پر لگانا کہاں کی دانشمندی ہے جو محض اقتدار ہوس کی خاطر اپنے پیروکاروں کو اندھے کنویں میں دھکیل رہا ہو۔ لیکن ملک کے دیگر نو جوانوں کی طرح حسان نیازی کی بھی اس قدر برین واشنگ ہو چکی تھی کہ اس نے میری کسی نصیحت پر کان نہیں دھرا۔ بلکہ میری ڈانٹ ڈپٹ بڑھی تو اس نے میری فون کال ریسیو کرنا ہی چھوڑ دیا تھا۔

حسان نیازی کے قریبی رشتہ دار کے بقول اپنے ماموں عمران خان کے گمراہ کن پروپیگنڈے میں آکر لندن سے قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے جواں سال وکیل کو اب سنگین مقدمے کا سامنا ہے ۔ کچھ نہیں پتہ کہ مستقبل کیا ہوگا۔ دوسری طرف اس کے والدین الگ کرب سے گزر ر ہے ہیں۔ قریبی رشتہ دار کا کہنا تھا ” حسان نیازی کی والدہ دو دو دن تک کھانا نہیں کھاتی اور نیند کے لئے انھیں خواب آور گولیاں لینی پڑتی ہیں۔

عمران خان کے دیگر دو قریبی عزیز ز بیر نیازی اور احمد نیازی بھی کور کمانڈ ر ہاؤس یعنی جناح ہاؤس پر حملے کے وقت بہت متحرک تھے۔ زبیر نیازی پی ٹی آئی لاہور کا جنرل سیکریٹری ہے۔ عدالت نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں پی ٹی آئی کے جن رہنماؤں کو اشتہاری قرار دیا ہے۔ ان میں زبیر نیازی بھی شامل ہے۔ عمران خان کا بھتیجا احمد نیازی بھی سانحہ نومئی کے حوالے سے مطلوب ہے۔اسے عمران خان نے بطور وزیر اعظم اپنا کو آرڈی نیٹر مقرر کر رکھا تھا۔ زبیر نیازی اور احمد خان نیازی دونوں اس وقت مفرور ہیں ۔ کیونکہ ابھی پکڑے نہیں گئے۔ اس لئے ٹویٹر پر ان کا "انقلاب” جاری ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسے جہادیوں کے پکڑے جانے کے بعد ہی ان کا انقلاب ایک انٹرویو یا پریس کانفرنس میں بہہ جاتا ہے۔ عمران خان کے ایک فرسٹ کزن کے دو بھانجے بھی سانحہ نومئی میں مطلوب ہیں اور تاحال روپوش ہیں۔ اسی طرح عمران خان کا ایک اور فرسٹ کزن عرفان اللہ نیازی بھی نومتی کے واقعات کے حوالے سے مطلوب ہے اور ابھی تک ہاتھ نہیں لگ سکا ہے۔ عرفان اللہ نیازی پہلے نون لیگ میں تھا۔ تاہم چند برس پہلے عمران خان کے حقیقی آزادی کے نعرے سے متاثر ہوکر تحریک انصاف میں چلا گیا تھا۔ عمران خان نے عرفان اللہ نیازی کو جولائی دو ہزار بائیس میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر بھکر سے ضمنی الیکشن لڑا کر پنجاب اسمبلی میں پہنچایا تھا۔

Back to top button