پی ٹی آئی کو کل جلسہ کی اجازت مل گئی،علی امین گنڈاپور کی معافی مانگنےکی شرط عائد

  تحریک انصاف کو  کل قصور روڈ پرکاہنہ کے قریب جلسہ کی مشروط اجازت دے دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخواعلی امین گنڈاپور کےمعافی مانگنےکی شرط بھی عائد کی گئی۔

لاہور ہائیکورٹ نےڈپٹی کمشنر کو پی ٹی آئی کوجلسےکی اجازت دینےکیلئےآج شام 5 بجے تک درخواست پر فیصلہ کرنےکاحکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ پہلے جلو پارک میں جلسےکی اجازت کی خبریں سامنےآئی تھیں۔

ضلعی انتظامیہ نے43 شرائطو ضوابط کےساتھ پی ٹی آئی کوجلسے کی اجازت دی ہےاورڈپٹی کمشنر نےجلسےکی اجازت کانوٹیفکیشن جاری کردیا۔

نوٹیفکیشن کےمطابق پی ٹی آئی کاجلسہ21ستمبر کو دوپہر3 بجےسےشام6 بجےتک ہوگا۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخواعلی امین گنڈاپور کو8ستمبر کےجلسےمیں سخت زبان پرمعافی مانگنا ہوگی اورجلسےکی سکیورٹی آرگنائزرزکےذمےہوگی۔

دوسری جانب اس حوالےسےمیڈیا سےگفتگو میں پی ٹی آئی رہنمااشتیاق اےخان کا کہنا تھاکہ ہم علی امین کی طرف سےذمہ داری نہیں لےسکتےہیں وہ کوئی معافی مانگیں، ان کی اپنی مرضی ہے، جو بہترہوگا وہ اپنی تقریرکریں گے۔

اُدھر ڈپٹی کمشنر اور اپوزیشن لیڈراحمد خان بھچر کی ملاقات ہوئی۔ذرائع نے بتایاکہ اپوزیشن لیڈر نے جلسہ رات11 بجےختم کرنےکی تجویز دی ہے۔

خیال رہےکہ پی ٹی آئی نےمینار پاکستان پرجلسےکااعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ  لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا جلسہ رکوانےکی درخواست ناقابل سماعت قرار دےکر مستردکر دی تھی

 ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کے لاہور میں جلسے کی اجازت سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت تین رکنی فل بینچ نے کی۔  پی ٹی آئی کاجلسہ رکوانےکی درخواست ایڈووکیٹ ندیم سرور نے دائرکی تھی۔

دوران سماعت جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ آپ متاثرہ فریق نہیں ہیں جبکہ جسٹس طارق ندیم نے چیف سیکرٹری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا چیف سیکرٹری صاحب یہ ملک ہے تو ہم سب ہیں، آج جو لوگ منصب پر ہیں وہ ماضی میں اپوزیشن میں تھے، ماضی میں جو اپوزیشن میں تھے وہ بھی تحفظات کا اظہار کرتے رہے، آپ تب بھی سروس میں تھے اور آج بھی سروس میں ہیں، ہمیں چاہیے ہم اس ملک کے لیےکچھ اچھاکرکے جائیں، آپ پنجاب میں جلسہ کرنے کے لیے ایک جگہ مقرر کردیں، لاہور میں جلسے کے لیے دو تین جگہیں مختص کر دیں تاکہ عوام کو مشکلات نہ ہوں۔

جسٹس طارق ندیم نے کہا کہ تمام افسران سارا کام چھوڑ کر ہائیکورٹ میں بیٹھے ہیں، ساری عمر انسان عہدے پر نہیں رہتا، دنیا کہاں کی کہاں پہنچ گئی ہے، ہم دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟

جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ آئی جی پنجاب صاحب آپ کے ہوتے ہوئے ہم ایسی توقع نہیں کرتے ، کیا آپ سیاسی جماعتت کے ورکرز کو ہراساں کر رہے ہیں؟ جس پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان نے کہا ہماری طرف سے کسی کو ہراساں نہیں کیا جا رہا، ہماری طرف سے ایسی کوئی ہدایات جاری نہیں ہوئیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کا جلسہ رکوانے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی اور ڈپٹی کمشنر کو جلسےکی اجازت کے لیے درخواست پرفیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔

جسٹس منیب اخترججزکمیٹی سے باہر،جسٹس امین الدین خان رکن نامزد

جسٹس فاروق حیدر نے ہدایت کی کہ ڈپٹی کمشنر لاہور کو شام5بجے تک جلسے کی درخواست پر فیصلے کرنے کاحکم دیاتھا

Back to top button