جسٹس منیب اخترججزکمیٹی سے باہر،جسٹس امین الدین خان رکن نامزد

پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس پر عملدرآمد شروع، جسٹس منیب ججز کمیٹی سے باہر،جسٹس امین الدین خان کو رکن نامزدکردیاگیا۔

صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس پر دستخط کے بعد پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس پر عملدرآمد شروع ہوگیا۔

رجسٹرار سپریم کورٹ نے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا۔ جسٹس امین الدین خان سینیارٹی لسٹ میں پانچویں نمبر پر ہیں۔تین رکنی ججزکمیٹی بینچزکی تشکیل اور انسانی حقوق کےمقدمات کاجائزہ لیتی ہے۔

تین رکنی ججز کمیٹی میں چیف جسٹس کے علاوہ سینیئرترین جج جسٹس منصور علی شاہ بھی شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تین رکنی ججز کمیٹی کا اجلاس پیر کو بلائے جانے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد صدر مملکت آصف زرداری نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس پر دستخط کیے تھے جس کے بعد وہ نافذ ہوگیا تھا۔

پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے سیکشن 2 کی ذیلی شق ایک کے مطابق پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کمیٹی مقدمات مقرر کرے گی، کمیٹی چیف جسٹس، سینیئر ترین جج اور چیف جسٹس کے نامزد جج پر مشتمل ہو گی۔

وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظوری دی تھی ۔صدرمملکت آصف زرداری نے بھی دستخط کرکے آرڈیننس کی منظوری دیدی۔

وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کےذریعے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظورکیاتھا۔وزارت قانون نے گزشتہ روز آرڈیننس وزیر اعظم اور کابینہ کو بھجوایا تھا۔

اس آرڈیننس سے چیف جسٹس کا سپریم کورٹ کے قدمات مقرر کرنےکا دائرہ اختیار بڑھ جائےگا۔آرڈیننس کےمطابق چیف جسٹس، سپریم کورٹ کا سینئر جج اور چیف جسٹس کا مقرر کردہ جج کیس مقرر کرے گا، اس سےپہلے قانون میں چیف جسٹس اور دو سینئر ترین ججوں کا تین رکنی بینچ مقدمات مقرر کرتاتھا۔

آرڈیننس کےمطابق بینچ عوامی اہمیت اور بنیادی انسانی حقوق کو مد نظر رکھتےہوئے مقدمات کو دیکھےگا، ہر کیس کو اس کی باری پر سنا جائےگا ورنہ وجہ بتائی جائےگی۔

ترمیمی آرڈیننس میں کہاگیا ہےکہ ہر کیس اور اپیل کو ریکارڈ کیاجائے گا اور ٹرانسکرپٹ تیار کیا جائےگا۔

پی ٹی آئی کو کل جلسہ کی اجازت مل گئی،علی امین گنڈاپور کی معافی مانگنےکی شرط عائد

تمام ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹ عوام کےلیے دستیاب ہوں گی۔

Back to top button