قومی اسمبلی سے PTI کی چھٹی کروا کر حکومت کیا کرنے والی ہے

الیکشن کمیشن کو پارلیمنٹ کی پاس کردہ حالیہ الیکشن ایکٹ آئینی ترمیم کی بنیاد پر مخصوص نشستیں تقسیم کرنے کا مطالبہ کرنے کے بعد اب سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے قومی اسمبلی میں نئی پارٹی پوزیشن کا بھی اعلان کر دیا ہے جس کے مطابق تحریک انصاف کا قومی اسمبلی میں وجود ختم ہو گیا ہے اور تمام 80 اراکین کو سنی اتحاد کونسل سے منسلک ظاہر کیا گیا یے۔ آئینی ماہرین کے مطابق ایاز صادق کے اس فیصلے سے الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں کی تقسیم کا فیصلہ کرنے میں ذیادہ آسانی ہو جائے گی۔ یاد رہے کہ پچھلے ہفتے سپریم کورٹ کے 8 ججوں نے جسٹس منصور علی شاہ کی قیادت میں الیکشن کمیشن کو ایک دھمکی آمیز خط لکھتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ قومی اسمبلی کی مخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دینے کے حکم پر فوری عمل درآمد کرتے ہوئے اسکے اراکین اسمبلی کو نوٹیفائی کیا جائے۔
لیکن 20 ستمبر کے روز قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے نئی پارٹی پوزیشن جاری کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو فارغ کر دیا اور اس کے تمام 80 اراکین کو سنی اتحاد کونسل کے اراکین ڈیکلئیر کر دیا۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں ن لیگ، پیپلز پارٹی، جے یو آئی سے واپس لی جانے والی نشستوں کا پارٹی پوزیشن میں ذکر کیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق حکومتی بینچز پر قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن 110 اور پیپلز پارٹی کی 69 نشستیں ہیں جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کے 22، ق لیگ کے 5، آئی پی پی کے 4، مسلم لیگ ضیا، بلوچستان عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کا ایک ایک رکن ہیں۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق حکومتی بینچز پر 20 مخصوص نشستوں کے سوا 213 اراکین ہیں جبکہ اپوزیشن بینچز پر سنی اتحادکونسل کے 80، جے یو آئی کے 8، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ 8 آزاد اراکین، پختون خواہ ملی عوامی۔پارٹی، بی این پی مینگل اور متحدہ وحدت مسلمین کا ایک ایک ممبر ہے۔ اپوزیشن بینچز پر موجود ایک آزاد رکن نے ن لیگ میں شمولیت اختیار کر رکھی ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کو 15، پیپلز پارٹی پارٹی کو 5 اور جے یو آئی کو 5 مخصوص نشستیں دی گئیں تھیں تاہم مخصوص نشستیں گنتی میں شامل نہیں ہیں، قومی اسمبلی میں اراکین کی کل تعداد 23 مخصوص نشستوں کے بغیر 313 ہے، جبکہ خالی اور متنازع 23 نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کے بعد تعداد 336 ہو جائے گی۔
اس سے پہلے مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کے حوالے سے سپیکر قومی اسمبلی اور سپیکر پنجاب اسمبلی نے چیف الیکشن کمشنر کو خطوط لکھے تھے جن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ترمیم شدہ الیکشن ایکٹ کے تحت مخصوص نشستیں الاٹ کی جائیں۔ ان خطوط میں کہا گیا تھا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد مخصوص نشستیں تبدیل نہیں کی جاسکتیں، اور الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہو سکتا۔ یہ خطوط ایسے وقت میں لکھے گئے جب الیکشن کمیشن مسلسل تین روز سے اعلی سطح کا اجلاس منعقد کر رہا ہے جس میں سپریم کورٹ کے 12 جولائی کے مخصوص نشستوں کے حوالے سے فیصلے پر عمل درآمد اور اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے سپریم کورٹ سے فیصلے کی وضاحت سے متعلق دائر کی گئی درخواست کے جواب میں سپریم کورٹ کے 8 ججوں کی وضاحت پر غور و خوض کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ مخصوص سیٹوں کے کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد پارلیمینٹ نے ایک آئینی ترمیم کے ذریعے اگست میں الیکشن ایکٹ 2024 میں دو اہم ترامیم شامل کی تھیں۔ پہلی ترمیم الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 66 میں کی گئی جس کے تحت اسمبلی کا کوئی بھی رکن اپنی سیاسی جماعت کی وابستگی کا پارٹی سرٹیفکیٹ تبدیل نہیں کر سکتا۔ یعنی جب تک آزاد ارکان سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے وہ اب تحریک انصاف میں جانے کے لیے سرٹیفکیٹ جمع نہیں کروا سکتے جس کے لیے الیکشن کمیشن نے 12 جولائی کے فیصلے میں 15 دن کا وقت دیا تھا۔ جب کہ دوسری ترمیم الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 104 میں کی گئی، جس کے مطابق مخصوص نشستوں کے لیے جماعتوں کو لازمی طور پر مقررہ وقت پر امیدواروں کی فہرست جمع کرانا ہوگی۔ اس شق کا مقصد یہ تھا کہ چونکہ تحریک انصاف کے پاس انتخابی نشان نہیں تھا اور اس نے 8 فروری کے الیکش سے قبل کوئی ترجیحی فہرستیں جمع نہیں کرائی تھیں لہازا سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں اسکی ترجیحی فہرستیں قبول نہیں کی جا سکتیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے عدالتی ریفارمز پر مبنی ائینی ترامیم کا پیکج منظور کرانے میں حکومت کا ساتھ دینے سے انکار کے بعد اب یہ راستہ اختیار کیا گیا ہے تاکہ حکومتی اتحاد کی پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت بحال ہو جائے اور وہ مذکورہ ائینی پیکج کو پاس کروانے کی پوزیشن میں آ جائے۔
