لانگ مارچ ٹھس ہوچکا ، فیس سیونگ نہ دی جائے

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے عمرا ن خان کا لانگ مارچ ٹھس ہو چکا ہے، اب اس کی کوئی حیثیت نہیں ، میرا خیال یہ ہے کہ یہ راستے سے واپس ہو جائیں گے، وزیراعظم کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ کو کوئی فیس سیونگ نہیں دینی۔

ڈی آئی خان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انکا کہناتھاپاکستان کو معاشی اور سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، اور اس کے لیے ہم کسی قسم کے سمجھوتے کے لیے تیار نہیں، جو لوگ سیاسی طور پر ملک میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام پیدا کررہے ہیں، 2017 سے بین الاقوامی قوتوں کی مداخلت کے ساتھ سیاسی عدم استحکام پیدا کیا گیا، جب چین کے صدر پاکستان آرہے تھے اس موقع پر دھرنے دیے گئے، اور کوشش کی گئی کہ چین جیسا پاکستان کا دوست پاکستان میں سرمایہ کاری نہ کرسکے، اس کوشش کو ناکام بنایا گیا، ملک کو بچایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 2018 میں تاریخ کی بدترین دھاندلی کے نتیجے ملک پر جعلی حکمران مسلط کیا گیا، جس نے ملکی معیشت کو تباہ و برباد کردیا، آئی ایم ایف سے ایسے معاہدے کیے جن کے نتیجے میں پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے نام گروی رکھ دیا گیا، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس کی آزادی کے نام پر آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا گیا، آج پاکستان کا اسٹیٹ بینک اور اس کا گورنر نہ ملک کے وزیراعظم کو جوابدہ ہے، اور نہ ہی ملک کی کابینہ اور پارلیمنٹ کو جوابدہ ہے۔

پی ڈی ایم سربراہ نے کہا جب پاکستان کا وزیراعظم چین کے سفر پر چلا گیا ہے اور وہاں پر پاکستان میں سرمایہ کاری پر بات کررہا ہے، اس موقع پر وہ اسلام آباد میں مسلح طور پر داخل ہونے کی بات کررہے ہیں، ان کے وزرا ایسی گفتگو کررہے ہیں کہ جیسے پی ٹی آئی کوئی دہشت گرد تنظیم ہو، جو سیاست اور دلیل پر یقین نہیں رکھتی، وہ حکومت کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں،اپنے وزیراعظم کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ (عمران خان) کو کوئی فیس سیونگ نہیں دینی، کسی قسم کی کوئی مفاہمت نہیں کرنی، ان کا لانگ مارچ ٹھس ہو چکا ہے، اب اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے، وہ دو ہزار سے زائد لوگ اکٹھے نہیں کر پارہے ہیں، اسلام آباد میں آنے کے لیے تاریخ پہ تاریخ دے رہے ہیں، میرا خیال یہ ہے کہ یہ راستے سے واپس ہو جائیں گے، یہ اسلام آباد آنے کے متحمل نہیں۔

مولانا فضل الرحمن نے دعویٰ کیا کہ یہ اسلحہ پہنچا رہے ہیں، تاکہ کچھ لاشیں گریں اور ان لاشوں پر وہ سیاست کرے، یہ ہے سیاست؟ یہ ہے جمہوریت؟،بنیادی چیز یہ ہے کہ جمہوری نظام میں سیاسی استحکام ناگزیر عمل ہے، سیاسی استحکام ہوگا تو معاشی استحکام آئے گا، اس کے بعد آئین اور قانون کی بالادستی ہوگی، ہم آئین اور قانون کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات واضح کر دینا چاہتے ہیں، الیکشن کمیشن میں بھی جج صاحبان اور آئین و قانون کے ماہرین بیٹھے ہیں، وہ آئین و قانون کے حوالے سے ایک فیصلہ کرتے ہیں، وہی کیس جب عدالت میں جاتا ہے، تو وہاں دوسرا فیصلہ آ جاتا ہے، ایک زمانے میں وہی عدالت اسی قانون کے تحت ایک طرح کا فیصلہ دیتی ہے، ایک زمانہ گزر جاتا ہے پھردوسرا فیصلہ آ جاتا ہے، عدالت کی جانب سے کنفیوژن پید اکی جارہی ہے، اس سے عوام کا اعتماد عدلیہ پر ختم ہو جائے گا، اور پھر عدلیہ اس اعتماد کو بحال کرنے میں انتہائی مشکل محسوس کرے گی۔

امیر جے یو آئی نے کہا اس بارے میں آئین و قانون کی بالادستی اور حقائق تک پہنچنے کے حوالے سے بھی رعایتیں کریں، اور ہم جانتے ہیں کہ اس وقت اداروں کے اندر کچھ لوگ کیوں وفادار بن گئے ہیں، لاڈلے پن کی سیاست ختم ہونی چاہیے، چاہے فوج میں ہو، عدلیہ میں ہو، چاہے الیکشن کمیشن میں ہو، آئین اور قانون کی بالادستی ہونی چاہیے،ایک عدالت کہتی ہے کہ وزیراعظم کون ہوتا ہےکہ حرم نبوی کی توہین کرنے والوں کو معاف کرتا ہے، اور دوسری عدالت اسی قانون و آئین کے تحت کہتی ہے کہ یہ تو سعودی عرب کا معاملہ ہے، وہ جانے ان کا کام جانے، ہمارا اس سے کیا تعلق، ان تضادات کے ہوتے ہوئے قوم کیسے اعتماد کرے گی؟

کیا لانگ مارچ اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی ناکام ہو چکا؟

صحافی صدف نعیم کے حادثے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ آج ان کے جلوس میں صدف نعیم کا جو حادثہ ہوا ہے، اس پر مطالبہ کرتا ہوں کہ عدالتی کمیشن بٹھایا جائے، یہ حادثاتی طور پر کسی کی دھکم پیل سے گری ہے، یا کسی ہراسمنٹ کی بنیاد پر گری ہے، اور پھر ایک صوبائی وزیر فوری طور پر ان کے خاوند کو تھانے میں لے جاتا ہے، اور وہاں اس سے انگوٹھے لگوا کر دستخط لیتا ہے، تو پھر معاملہ اور بھی مشکوک ہو جاتا ہے، لہٰذا عدالتی تحقیقاتی کمیشن ہونا چاہیے،ارشد شریف کے بارے میں یہی کہنا چاہتا ہوں، پاکستان کا بیٹا ہے، ہم ان کے خاندان کے صدمے میں شریک ہیں لیکن یہ بتایا جائے کہ وہ کس بنیادوں پر کس کی پشت پناہی کے ساتھ پاکستان سے باہر گیا، تھریٹ لیٹر کس نے جاری کیا، اس کی صرف ایک کاپی ہے جو وزیراعلیٰ کے پاس ہے، اس لیے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کو شامل تفتیش کیا جائے، اس پر بھی عدالتی کمیشن قائم کیا جائے۔

انہوں نےکہا پہلی مرتبہ ریاستی ادارے کیوں میدان میں آئے، ریاستی ادارے کیوں پھٹ پڑے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کو خطرہ ہوا ہے، ان کے اقدامات سے سیاسی و معاشی عدم استحکام آیا، آئین و قانون اور اداروں پر اعتماد ختم ہورہا ہے، اس لیے ڈی جی آئی ایس آئی ڈی جی آئی ایس پی آر میدان میں آئے، ہماری افراد سے نہیں ادارے سے شکایات رہی ہیں، اگر وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ہم سے غلطیاں ہوئیں ہیں اور ہم تلافی کرنا چاہتے ہیں اور خون دے کر تلافی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کا راستہ نہیں روکنا چاہیے، ہم کوئی ایسے جملے نہ استعمال کریں کہ تلافی کی طرف جانے کا سفر متاثر ہو، ہم بھی آپ (عمران خان) سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اس بات کی وضاحت کیوں نہیں کرتے کہ رات کی تاریکی میں پاؤں کیوں پکڑ رہے تھے؟

انکا کہناتھا یہ چاہتا ہے کہ میری مرضی کا آرمی چیف آئے، اور اگر میری مرضی کا نہیں آتا تو مارشل لا لگ جائے، ایسے حالات پیدا کرنا کہ وہ برتن میں کوئی حصہ نہیں دے رہا تو برتن کو توڑ دینے کی بات کرتا ہے،اس قوم کو گمراہ نہیں ہونے دیں گے، اس فتنے کا مقابلہ کررہے ہیں، اور عزم ہے کہ جب تک اس فتنے کا خاتمہ نہیں ہوگا ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

ایم کیو ایم لندن کے سربراہ الطاف حسین سے متعلق سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کی تمام تقاریر، گفتگو ہمارے میڈیا پر بلاک ہے لیکن کبھی اس کے خلاف ریاستی ادارے میدان میں نہیں آئے، آج اس کے خلاف کیوں ضرورت پڑ گئی۔

انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے دوستانہ اور مضبوط تعلقات کے خواہاں ہیں، افغان طالبان اور ان کی 20 سالہ قربانیوں کے نتیجے میں امارت اسلامیہ کا قیام ہوا ہے، اور بڑی قوتوں نے اعتراف کر لیا ہے کہ افغانستان پر جبری حکومت نہیں کی جاسکتی، وہاں پر حکومت قائم ہونے کے بعد میری رائے یہ ہے کہ پاکستان کے مفادات کی بنیاد پر ہمیں افغانستان کی امارت اسلامیہ کو تسلیم کر لینا چاہیے تاکہ باہمی تعلقات کی بنیاد پر ہم پاکستان کے مفادات کا تحفظ کر سکیں، اگراس میں کوئی رکاوٹ ہے، کچھ چیزیں جو باہمی عدم اعتماد کا سبب بن رہی ہیں، یا افغانستان کی امارت اسلامیہ کی طرف سے پاکستان کے لیے یا ہماری طرف سے امارت اسلامیہ کے لیے، اس کا حل میرے ذہن میں یہ ہے کہ معلومات کے تبادلے کا نظام ہونا چاہیے، تو ہم باہمی عدم اعتماد کو روک سکتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا خیبرپختونخوا میں جو نئی صورتحال بنتی جارہی ہے، اس سے لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے، ہم ہر پاکستانی کو پُرامن اور باعزت زندگی کا حق دینا چاہتے ہیں۔

Back to top button