پی ٹی آئی پر پابندی لگوانے کیلئے ریفرنس کی تیاری تیز

وفاقی حکومت نے فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں ایف آئی اے حکام کو پی ٹی آئی کی غلط کاریوں کے ناقابلِ تردید ثبوت اکٹھے کرنے کی ہدایت کر دی ہے تاکہ سپریم کورٹ میں تحریک انصاف پر پابندی لگانے کے لیے ریفرنس دائر کیا جا سکے، وزارت قانون کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مطلوبہ شواہد اکٹھے ہونے پر ریفرنس کو ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر سپریم کورٹ میں دائر کر دیا جائے گا اور اُمید ہے کہ یہ کام جلد مکمل ہو جائے گا۔
وفاقی وزیر قانون سینٹر اعظم نذیر تارڑ نے تصدیق کی کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں پی ٹی آئی کو کالعدم قرار دلوانے کے لیے تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں اور پابندی کا ریفرنس تیار ہوتے ہی سپریم کورٹ میں دائر کر دیا جائے گا، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کے ریفرنس کے نتیجے میں تحریک انصاف کو کالعدم قرار دے دیا تو پی ٹی آئی کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیئے جائیں گے، اس کے دفاتر سیل کر دیئے جائیں گے اور اس کے تمام اراکین پارلیمنٹ بطور قانون ساز فارغ ہو جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے وفاقی حکومت کو فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ باقاعدہ موصول ہو گیا ہے جس کے بعد آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت پی ٹی آئی کے خلاف سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے کا راستہ ہموار ہو گیا ہے، خیال رہے کہ ذوالفقارعلی بھٹو کے دور حکومت میں وفاقی حکومت کی جانب سے ریفرنس دائر کیے جانے کے بعد سپریم کورٹ نے نیشنل عوامی پارٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ اب یہ جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے نام سے موجود ہے اگر تحریک انصاف پر پابندی عائد ہوتی ہے تو یہ پاکستان کی دوسری سیاسی جماعت ہوگی۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس بارے متفقہ فیصلے میں کہا تھا کہ ثابت ہو گیا کہ پی ٹی آئی نے 34 غیر ملکی، اور 351 کاروباری اداروں اور کمپنیوں سے فنڈز لیے، اسکے علاوہ یہ اپنے 13 نامعلوم اکاؤنٹس بارے بھی الیکشن کمیشن کو آگاہ کرنے میں ناکام رہی۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں یہ بھی بتایا گیا کہ عمران خان نے فارم ون میں غلط بیانی سے کام لیا اور پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس بارے انکا بیان حلفی جھوٹا نکلا۔ الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہونے پر پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس بھی جاری کر رکھا ہے۔
الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی دائر درخواست میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ تحریک انصاف نے بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے علاوہ غیر ملکیوں سے فنڈز حاصل کیے، جس کی پاکستانی قانون اجازت نہیں دیتا۔ تحریک انصاف نے ان الزامات کی ہمیشہ تردید کی ہے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس کو ملنے والے فنڈز پاکستانی قوانین کے تحت حاصل کیے گئے۔ تاہم رواں برس تحریک انصاف کی طرف سے جو تحریری بیان الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کو پیش کیا گیا، اس میں مؤقف اختیار کیا کہ اگر بیرون ممالک سے حاصل فنڈز میں کوئی بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس کی ذمہ داری جماعت پر نہیں بلکہ اْس ایجنٹ پر عائد ہوتی ہے جس کی خدمات اس کام کیلئے حاصل کی جاتی ہیں۔
اسی جواب کو بنیاد بناتے ہوئے لی ٹی آئی کی مخالف سیاسی جماعتوں نے یہ دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ اْنھوں نے ممنوعہ ذرائع سے فنڈز حاصل کیے ہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے اکاؤنٹس کا آڈٹ کرنے والی لاہور کی آڈٹ فرم نے واضح کیا ہے کہ اگر پارٹی کے اکاؤنٹس میں کوئی گڑبڑ نکلی ہے تو اس کی ذمہ داری پی ٹی آئی پر عائد ہوتی ہے چونکہ کہ آڈٹ کے لیے تمام تر ڈیٹا انہیں پارٹی کی جانب سے فراہم کیا گیا تھا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے اپنے بینک اکاؤنٹس چھپانا غیر قانونی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ فارن فنڈنگ اور ممنوعہ فنڈنگ میں کیا فرق ہے اور کیا سیاسی جماعتوں کو بیرونِ ملک سے ملنے والی تمام فنڈنگ ممنوعہ ہے۔ ممنوعہ اورفارن فنڈنگ کا معاملہ 1962سے ہی پاکستان کی سیاست میں زیر بحث رہا ہے۔ اس دور میں پولیٹیکل پارٹی ایکٹ بنایا گیا جسکے بعد سیاسی جماعتوں کو فارن فنڈنگ اور ممنوعہ فنڈنگ لینے سے روک دیا گیا۔ الیکشن کمیشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 204 کے سب سیکشن 3 کے تحت کسی بھی سیاسی جماعت کو بلواسطہ یا بلاواسطہ حاصل ہونے والے فنڈز جوکسی غیرملکی حکومت، ملٹی نیشنل، پرائیویٹ کمپنی یا فرد سے حاصل کیے گئے ہوں وہ ممنوعہ فنڈز کے زمرے میں آتے ہیں جبکہ الیکشن ایکٹ کے تحت اگر کوئی ملک یا اس کا کوئی ادارہ کسی دوسرے ملک کی سیاسی جماعت کو مالی مدد فراہم کرتا ہے اور الیکشن کمیشن کواس کے ثبوت ملتے ہیں تو ایسی فارن فنڈنگ پراس جماعت کی رجسٹریشن کو منسوخ اور ان کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی کیلئے وفاقی حکومت کو سفارشات بھیجنے کااختیار ہے، جبکہ کسی جماعت کو کالعدم قرار دینے کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے۔

عمران خان کیسے کہہ سکتے ہیں کہ کوئی آرمی چیف محب وطن ہے یا نہیں

اگر کوئی شخص جو پاکستانی نہ ہو اور یا اپنی پاکستانی شہریت چھوڑ چکا ہو اور وہ کسی سیاسی جماعت کوفنڈز دے تو ایسے فنڈز ممنوعہ فنڈنگ کے ذمرے میں آتے ہیں۔اس ایکٹ کا دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانی پر اطلاق نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ سیکشن 204 کے سب سیکشن 4 کے تحت اگر ثابت ہو جائے کہ کسی سیاسی جماعت نے ممنوعہ ذرائع سے فنڈز اکٹھے کیے ہیں تو جتنی بھی رقم پارٹی کے اکاؤنٹ میں آئی ہے اس کو بحق سرکار ضبط کرنے کا اختیار بھی الیکشن کمیشن کے پاس ہے، غیر ملکی کمپنیوں یا حکومتوں سے فنڈزحاصل کرنے والی پارٹی کو دیا جانے والا انتخابی نشان بھی واپس لیا جا سکتا ہے اور پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے، اس جماعت کے سربراہ کو بھی غلط بیان حلفی دینے پر چارج شیٹ کر سکتا ہے کیونکہ ہر سال گوشوارے جمع کرواتے وقت جماعت کا سربراہ یہ بیان حلفی دیتا ہے کہ ان کی جماعت نے فارن فنڈنگ یا ممنوعہ فنڈنگ حاصل نہیں کی، الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 17کے سب سیکشن ون کے تحت وفاقی حکومت 15 روز میں سپریم کورٹ کو ریفرنس بھجوائے گی اورعدالت عظمیٰ اس ریفرنس پر فیصلہ کرے گی۔

Back to top button