پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا کی نگراں کابینہ مسترد کر دی

خیبرپختونخوا میں اپنی صوبائی حکومت تحلیل کرنے کے بعد وجود میں آنے والی نگران کابینہ کو تحریک انصاف کی قیادت نے مسترد کر دیا ہے حالانکہ نگران وزیر اعلیٰ اعظم خان کا تقرر اپوزیشن اور تحریک انصاف کی قیادت نے باہمی اتفاق رائے سے کیا تھا۔ عمران خان کی خواہش پر وزیر اعلیٰ محمود خان کی جانب سے پچھلے ہفتے صوبائی اسمبلی تحلیل کئے جانے کے بعد عام انتخابات کے انعقاد کے لیے خیبرپختونخوا کی 15 رکنی نگراں کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے۔ تاہم تحریک انصاف کی قیادت نے کابینہ اراکین پر سیاسی وابستگیوں کے الزامات عائد کر دیے ہیں۔
نگراں وزرا میں عبدالحلیم، سید مسعود شاہ، حامد شاہ، ساول نذیر، بخت نواز اور فضل الٰہی، عدنان جلیل، شفیع اللہ اور شاہد خٹک، حاجی غفران، خوشدل خان، تاج آفریدی، محمد علی شاہ اور منظور آفریدی شامل ہیں۔ کابینہ میں ایک خاتون رکن بھی شامل ہیں جن کا نام جسٹس ریٹائرڈ ارشاد قیصر خان ہے۔ وہ پشاور ہائیکورٹ کی جج رہ چکی ہیں، تحریک انصاف نے الزام لگایا ہے کہ صوبائی کابینہ میں عوامی نیشنل پارٹی، پیپلزپارٹی، جمعیت علماء اسلام اور نواز لیگ کے ہمدردوں کو شامل کیا گیا ہے۔ عدنان جلیل عوامی نیشنل پارٹی کے سابق سینیٹر حاجی عدیل کے بیٹے ہیں۔ شاہد خٹک کا تعلق بھی عوامی نیشنل پارٹی سے رہا ہے اور وہ ماضی میں عوامی نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑ چکے ہیں، اسی طرح عبدالحلیم کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے اور وہ پیپلز پارٹی کے ایم پی اے بھی رہ چکے ہیں۔ دو مزید سابق ایم پی اے حامد شاہ اور منظور آفریدی جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان اور سابق اپوزیشن لیڈر اکرم درانی کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں، کابینہ کے ایک اور رکن حاجی غفران کا تعلق ملاکنڈ سے ہے جن کی سیاسی وابستگی قومی وطن پارٹی سے ہے اور انہیں سابق وزیر اعلیٰ آفتاب احمد شیرپاؤ کے قریب سمجھا جاتا ہے۔
اسی طرح محمد علی شاہ کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے اور وہ سوات کے رہنے والے ہیں، وہ ماضی میں ناظم بھی رہ چکے ہیں، اسی طرح ایک اور نگراں وزیر ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے تاج محمد آفریدی پہلے سینیٹر رہ چکے ہیں اور وہ سابق ایم این اے شاہ جی گل آفریدی کے بھائی ہیں۔
فضل الٰہی نامی وزیر صنعت کار ہیں جبکہ مسعود شاہ آئی جی رہ چکے ہیں۔ وہ موجودہ نگراں وزیراعلیٰ اعظم خان کے سمدھی بھی ہیں۔ لہذا نگراں کابینہ کی تشکیل پر سابق صوبائی وزیر اور تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے ترجمان شوکت یوسفزئی نے شدید تنقید کی ہے، انکا کہنا ہے کہ نگراں سیٹ اپ میں اپوزیشن کے نامزد لوگوں کو شامل کرنا افسوسناک ہے۔ ان کے مطابق ’نگراں کابینہ کو غیرجانبدار رکھنے کے لیے پی ٹی آئی نے کوئی نام نہیں دیا تھا مگر اپوزیشن نے اپنے اکثر قریبی رشتہ دار کابینہ میں شامل کروا دیے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ نگراں کابینہ اب کس طرح غیر جانبدار ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب سابق صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے ٹوئٹر پر نگراں کابینہ کو پی ڈی ایم کی کابینہ قرار دیتے ہوئے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تاہم اپوزیشن حلقوں نے ان الزامات کو سختی سے رد کیا ہے اور کہا ہے کہ جو لوگ کابینہ کا حصہ بنے ہیں وہ کافی عرصہ پہلے سیاست سے دوری اختیارکرچکےہیں۔
نہیں چاہتےپاک بھارت کشید گی سے دونوں طرف لاشیں گریں
