پی ٹی آئی مطالبات تحریری شکل میں پیش کرنے کے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئی : عرفان صدیقی

مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے دونوں مذاکراتی اجلاسوں میں صرف دو مطالبات زبانی پیش کیے گئے،پی ٹی آئی نے یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ مطالبات تحریری شکل میں پیش کریں گے لیکن اب وہ مؤقف تبدیل کررہے ہیں۔
حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی جن اسٹیک ہولڈرز کی بات کررہی ہے،وہ دو ڈھائی سال ان سے اپنی بات منوانے کی کوشش کرتے رہےہیں لیکن انہوں نے دروازہ نہیں کھولا۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاکہ ایک طرف پی ٹی آئی کہتی ہےکہ حکومت کو اسٹیک ہولڈرز کا اعتماد حاصل ہے اور دوسری طرف اپنا ہی مؤقف تبدیل کرکے شکوک و شہبات پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
انہوں نےکہا کہ پی ٹی آئی بار بار مؤقف تبدیل کرےگی تو مذاکراتی عمل مثبت طور سے آگے نہیں بڑھ سکےگا۔
عرفان صدیقی نے کہاکہ پی ٹی آئی نے اپنے مؤقف میں اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ تحریری مطالبات پیش کریں گے لیکن اب وہ مؤقف تبدیل کررہے ہیں۔
ان کاکہنا تھاکہ اسد قیصر کے بیان سے لگتا ہےکہ وہ اپنے وعدے اور یقین دہانی کو پورا کرنے میں مشکلات کا سامنا کررہے ہیں،پی ٹی آئی کو حکومتی مذاکراتی ٹیم پر اعتماد کرناچاہیے اور سنجیدہ طور پر مذاکراتی عمل کو آگےبڑھانے میں تعاون کرنا چاہیے۔
لیگی رہنما عرفان صدیقی نے مزید کہاکہ پی ٹی آئی کی ٹیم نے عمران خان کے علاوہ دیگر قائدین سے ملاقات کا اجلاس میں کبھی ذکر نہیں کیا،دونوں اجلاس کا متفقہ اعلامیہ ریکارڈ پر ہے،اگر ان کا ایسا کوئی مؤقف ہوتاتو اس کا ذکر اس اعلامیے میں ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریری مطالبات پیش کرنے کی یقین دہانی اس اعلامیےمیں موجود ہے جس سے اب پیچھے ہٹنے کی کوشش کی جارہی ہے،مذاکرات اور عدالتی کارروائیاں دو الگ الگ چیزیں ہیں۔
پیپلزپارٹی کافیصلوں پرعدم اعتماد،حکومت چھوڑنے کی دھمکی دیدی
خیال رہے کہ سینئر رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر کا ایک بیاں میں کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کسی صورت مذاکراتی عمل کو نقصان نہیں پہچانا چاہتی،پی ٹی آئی اور اپوزیشن کمیٹی کے ارکان جو بات کریں گے وہ حتمی ہو گی۔
رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر نےکہا تھاکہ پی ٹی آئی کے نکات واضح ہیں اور تحریری طور پر دینا رسمی کارروائی ہے،عمران خان اور پارٹی قیادت سے ملاقات کےبعد تیسری نشست میں چیزیں واضح ہوں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی کمیٹی کو وقت دےرہے ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرے،تاکہ حتمی فیصلے میں ابہام نہ ہو ۔
یاد رہےکہ حکومت اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹیوں کے دو دور ہو چکے ہیں۔
