راوی کنارے شہر بسانے کا منصوبہ کالعدم، حکومت کو دھچکا

وزیراعظم عمران خان کو تب ایک اور بڑا جھٹکا لگ گیا جب لاہور ہائی کورٹ نے ان کے دریائے راوی کے کنارے ایک نیا شہر بسانے کے ڈریم منصوبے راوی اربن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم پر مشتمل سنگل بینچ نے 35 جنوری کے روز اس منصوبے کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ سُنایا جس میں کہا گیا کہ منصوبے کی تکمیل کے لیے کسی طرح کے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ راوی منصوبے کے لیے ماسٹر پلان بھی مقامی حکومت کے بغیر بنایا گیا۔ خیال رہے کہ یہ منصوبہ دریائے راوی کے ساتھ شمال مشرق سے جنوب مغرب کی سمت 46 کلو میٹر پر محیط ہے۔

منصوبے کے تحت 12 زونز اور 18 لاکھ رہائشی یونٹس قائم کیے جانے تھے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا ترمیمی آرڈیننس بھی غیر قانونی ہے، کیونکہ زرعی اراضی صرف قانونی طور پر ہی حاصل کی جا سکتی ہے، اس منصوبے میں 1894ء کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے زمین حاصل کی گئی۔ عدالت نے دفعہ 4 کا اراضی ایکوائرمنٹ کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاہور اور شیخوپورہ کے کلکٹر زمین حاصل کرنے کے لیے قانون پر عمل کرنے میں ناکام رہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے ریور اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو پنجاب حکومت سے لیا گیا قرضہ واپس کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے راوی اربن منصوبہ غیر قانونی قرار دے دیا۔ منصوبے کے خلاف دائر درخواستوں میں اس پراجیکٹ کے لیے اراضی کے حصول میں قواعد کی خلاف ورزی اور منصوبے کے ماحولیاتی اثرات کو نظر انداز کرنے کے بارے میں بھی نکات اٹھائے گئے تھے۔

عدالت نے درخواستوں پر گذشتہ ماہ کی 21 تاریخ کو دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا اور 25 جنوری کو فیصلہ سُنایا دیا۔ پنجاب حکومت نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے بتایا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی۔

صحافی حسنین شاہ کو اُجرتی قاتلوں سے قتل کرانے کا انکشاف

اس سے پہلے جسٹس شاہد کریم نے فیصلہ سُناتے ہوئے قرار دیا کہ ماسٹر پلان کے بغیر بنائی گئی کوئی بھی سکیم غیر قانونی ہوتی ہے۔ کورٹ قرار دیا کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کا ماسٹر پلان ہی بنیادی دستاویز ہے اور تمام سکیمز ماسٹر پلان کے ہی طابع ہوتی ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ زرعی اراضی کو ایک باقاعدہ قانونی طریقہ کار یعنی لیگل فریم کے تحت ایکوائر کیا جا سکتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اراضی حاصل کرنے کے لیے جاری کردہ نوٹیفکیشن کی حیثیت بھی غیرقانونی ہے کیونکہ لاہور اور شیخوپورہ میں زمین ایکوائر کرنے کے لیے قانون پر عمل نہیں کیا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے یہ بھی حکم دیا کہ روڈا اتھارٹی پنجاب حکومت سے حاصل کردہ قرضہ دو ماہ میں واپس کرے۔

یاد رہے کہ راوی اربن ڈیویلپمنٹ پراجیکٹ کا سنگ بنیاد اگست 2020 میں رکھا گیا تھا اور اس کا افتتاح وزیر اعظم عمران خان نے ستمبر 2021 میں کیا تھا۔ اس منصوبے کا کل رقبہ ایک لاکھ دو ہزار ایکٹر پر محیط تھا۔ حکومت پنجاب کی جانب سے جب یہ منصوبہ شروع کیا گیا تو اعلان کیا گیا کہ اسے تین فیز میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلے فیز کے لیےحکومت کی جانب سے ضلع شیخوپورہ کی تحصیل فیروز والا کے ارد گرد کے 16 دیہاتوں میں تقریباً 4,300 ایکڑ سے زیادہ اراضی حاصل کی گئی تھی۔

نقشے کے مطابق منصوبے کے فیز ون کا کل رقبہ 22,705 ایکڑ پر مشتمل ہے جس میں دریائے راوی کے بائیں کنارے پر واقع 9,515 ایکڑ، اس کے دائیں کنارے پر 7,034، دریا کے کنارے پر 6,156 ایکڑ، 2,200 ایکڑ پر پھیلا جزیرہ اور 612 ایکڑ پر پھیلی ہوئی بستیاں شامل ہیں۔ ان علاقوں کے رہائشیوں اور زرعی زمین کے مالکان کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا تھا کہ وہ اپنی زمین کو اس پراجیکٹ کے لیے دینے پر رضامند نہیں ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا تھا کہ حکومت کی جانب سے ان پر اس بارے میں دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

علاقے کے کسانوں اور روای پراجکٹ سے متاثر ہونے والے دیگر افراد کی جانب سے احتجاج بھی کیے گئے تھے لیکن اس کے باوجود بھی اس پراجیکٹ پر کام جاری تھا۔

Back to top button