کپتان دور میں پاکستان میں کرپشن کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ملک سے کرپشن ختم کرنے کے بلندوبانگ دعوؤں کو تب ایک بڑا دھچکا پہنچا جب کرپشن پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیم ’ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل‘ نے دنیا کے 180 ممالک بارے سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں گزشتہ ایک برس کے دوران کرپشن مزید بڑھ گئی ہے لہذا اس کی درجہ بندی تین پوائنٹس کم ہونے کے بعد 124 سے گِر کر 140 تک پہنچ گئی ہے۔ یاد رہے کی پچھلے 11 برسوں میں یہ پاکستان کے لیے سب سے بُری درجہ بندی رہی ہے۔
دوسری جانب 2021 کی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ جاری ہونے کے بعد حسب معمول وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے ٹوئٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ کو شریف خاندان کی لکھی رپورٹ سمجھ کر پڑھا جائے۔
دوسری جانب مفکر پاکستان علامہ اقبال کی بہو اور جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی بیوہ ناصرہ اقبال نے بطور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی نائب چئیرپرسن اس رپورٹ کے بارے میں کہا ہے کہ ’قانون اور ریاست کی بالادستی کی عدم موجودگی پاکستان کے کم سکور کی وجہ بنی ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی چئیرپرسن ڈیلیا فریرا روبیو نے اس رپورٹ کے بعد کہا کہ ’آمرانہ سوچ بدعنوانی کو روکنے کی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔
یاد رہے کہ ہر برس اس رپورٹ کو مرتب کرنے کے لیے بدعنوانی جانچنے والے 13 مختلف سروے اور کم از کم تین مختلف ڈیٹا ذرائع کو استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ معلومات اکٹھا کرنے والے ادارے عالمی طور پر معتبر سمجھے جاتے ہیں، جیسا کہ ورلڈ بینک اور ورلڈ اکنامک فورم وغیرہ۔ پاکستان کے اعداد و شمار جمع کرنے کے لیے ورلڈ بینک، ورلڈ اکنامک فورم، اکنامک انٹیلیجنس یونٹ وغیرہ جیسے اداروں کی رپورٹس کا استعمال کیا گیا ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں ممالک کے لیے ان کا انفرادی سکور شمار کیا جاتا ہے جس کے بعد ان کی درجہ بندی مرتب کی جاتی ہے۔ سکور کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی ملک کے پبلک سیکٹر میں ہونے والی کرپشن کے بارے میں عوامی تاثر کیا ہے۔ اس کے مطابق اگر کسی ملک کا سکور صفر ہے تو وہ انتہائی کرپٹ ملک ہے اور اگر 100 ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہاں بدعنوانی بالکل نہیں ہے۔ اسی سکور کی بنیاد پر ملکوں کی درجہ بندی طے کی جاتی ہے اور اگر فہرست میں ممالک کی تعداد میں اضافہ ہو تو درجہ بندی تبدیل ہو سکتی ہے۔
چناچہ اس کا مطلب یہ ہے کہ درجہ بندی سے زیادہ کسی بھی ملک کے سکور کی زیادہ اہمیت ہے جو کسی بھی ملک میں ہونے والی بدعنوانی میں اضافہ یا کمی کو جانچتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان کے لیے گذشتہ سال کافی بُرا رہا ہے اور 2015 کے بعد پہلی بار پاکستان کا سکور 30 سے بھی کم ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا سکور 31 سے گر کر 28 تک پہنچ گیا ہے اور اس کی وجہ سے درجہ بندی میں تنزلی دیکھنے میں آئی ہے جو کہ 124 سے 140 تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے پڑوسی ممالک پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ انڈیا نے اپنی گذشتہ سال کی درجہ بندی اور سکور کو برقرار رکھا ہے۔ انڈیا کا سکور 40 جبکہ درجہ بندی میں وہ 85ویں نمبر پر ہے۔ بنگلہ دیش نے بھی اپنی پوزیشن برقرار رکھی جس کے بعد اُن کا سکور 26 جبکہ درجہ بندی 147 ہے۔ چین نے البتہ ملک میں کرپشن کے خلاف جنگ کو جاری رکھا اور گذشتہ برس کے مقابلے میں اُن کے سکور میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
دوسری جانب ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو عمران خان حکومت کے خلاف چارج شیٹ قرار دیتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان 2020 میں دنیا کے کرپٹ ترین ممالک کی فہرست میں 124ویں نمبر پر تھا، تازہ رپورٹ بتا رہی ہے کہ ایک سال کے اندر ہم 140ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل دنیا کے 180 ممالک میں کرپشن کا جائزہ لیتا ہے، یہ ادارہ کسی کے ماتحت نہیں ہے، تمام ممالک کے معاملات کو دیکھ کر رپورٹ شائع کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی ملک کا ایک سال کے اندر 16 ممالک سے زیادہ کرپٹ ہو جانا نیا ریکارڈ ہے، جس سے پاکستانی عوام کو موجودہ حکومت کی کرپشن کا اندازہ ہوگیا ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان ہر ایک پر چوری کا الزام لگاتے تھے لیکن آج پوری دنیا نے ان کی اپنی کرپشن پر مہر ثبت کردی ہے، یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ قومی سانحہ ہے۔
راوی کنارے شہر بسانے کا منصوبہ کالعدم، حکومت کو دھچکا
انہوں نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے ترقیاتی اخراجات کے معاملے میں پاکستان 152ویں نمبر پر ہے، یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک میں کوئی ترقیاتی پراجیکٹ موجود ہی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے جب اقتدار سنبھالا تو پاکستان کرپٹ ممالک کی فہرست میں 127ویں نمبر پر تھا اور جب پارٹی نے حکومت چھوڑی تو پاکستان 117ویں نمبر پر آچکا تھا، جبکہ تحریک انصاف کے 3 سالوں میں پاکستان 117 سے 140ویں نمبر پر پہنچ گیا۔ لیگی رہنما نے کہا کہ ملک میں آج جتنی بھی مہنگائی ہے اسی کرپشن کی وجہ سے ہے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں مہنگائی اور کرپشن کم ترین سطح پر تھی اور آج تحریک انصاف کی حکومت میں مہنگائی اور کرپشن رکارڈ سطح پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ جس شخص کو سپریم کورٹ نے صادق اور امین کا لقب دیا وہ پاکستان کا کرپٹ ترین حکمران نکلا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی کابینہ میں کونسا آدمی ہے جو کرپٹ نہیں ہے؟ کوئی ایک ایسا آدمی نہیں ہے جو اپنی وزارت میں ناکام نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ جب آپ حکومتی اہلکاروں کے تبادلے کرتے رہیں گے اور کرائے کے مشیر رکھیں گے تو یہ حکمت عملی بھی کرپشن کی وجہ بنے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں واضح ہے کہ کرپشن کی فہرست میں 120 سے 144 پر پہنچنے کی وجہ طرز حکمرانی ہے، دنیا الزام لگارہی ہے کہ آپ ایک کرپٹ حکومت ہیں اور کرپٹ ترین ہوتے جارہے ہیں، ہم سب کو افسوس ہے کہ آج ہمارا ملک دنیا کے کرپٹ ترین ممالک میں شامل ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی چیئرپرسن ناصرہ اقبال کا اس رپورٹ پر مختصر تبصرہ ضرور پڑھیں کہ انہوں نے کیا کہا ہے۔ واضح رہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے جاری کردہ کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) برائے سال 2021 میں پاکستان 180 ممالک میں سے 140ویں درجے پر آگیا جبکہ گزشتہ برس پاکستان سی پی آئی رینکنگ میں 124ویں نمبر پر تھا۔
