اے آر وائی کو ایک اور جھٹکا، گل بخاری کیس جیت گئیں

پاکستانی ایجنسیوں کے ہاتھوں ہراسانی کا شکار ہو کر بیرون ملک چلی جانے والی معروف ایکٹوسٹ گل بخاری اے آر وائی کے یوکے چینل کے خلاف ہتک عزت کا دعوی جیت گئی ہیں۔ یوکے میڈیا ریگولیٹری باڈی آف کام نے فیصلہ دیا ہے کہ اے آر وائی کے یوکے چینل نے گل بخاری کے بارے میں ایف آئی اے کی جانب سے نوٹس جاری کیے جانے کی جھوٹی خبریں چلائیں۔ اے آر وائی نے اپنے دفاع میں یہ بھونڈا دعوی کیا کہ "اسے خبر براہ راست سیکیورٹی ایجنسیوں کی طرف سے آئی تھی، اس لیے اس پر بھروسہ کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ پاکستان میں اے آر وائے نیوز کو ایجنسیوں کا چینل سمجھا جاتا ہے چونکہ یہ اسٹیبلشمنٹ کے بھونپو کا کردار ادا کرتا ہے۔گل بخاری کی جانب سے اے آر وائی نیوز کے خلاف دائر کردہ ہتک عزت کیس میں یوکے میڈیا ریگولیٹری باڈی آف کام نے فیصلہ دیا کہ اے آر وائی کے یوکے چینل، نیو ویژن ٹیلی ویژن نے گل بخاری کے بارے میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے نوٹس جاری کرنے کی جھوٹی خبریں چلائیں۔

یاد رہے کہ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی شدید ناقد سمجھی جانے والی گل بخاری 2019 سے لندن میں مقیم ہیں، انہیں اپنی جان بچانے کے لئے تب بیرون ملک جانا پڑا جب 5 جون 2018 کو انہیں خفیہ ایجنسیوں نے لاہور کینٹ سے اغوا کر لیا۔ رہائی کے کچھ عرصہ بعد وہ بیرون ملک روانہ ہوگئی تھیں۔

گل بخاری نے فروری 2020 میں اے آر وائی کے ذریعے نشر کیے گئے ہتک اور توہین آمیز ریمارکس کے حوالے سے آف کام پر اپنی ہتک عزت کی شکایت کی تھی۔ زیر بحث نشریات کے دوران، اے آر وائی نے اپنے رپورٹر ذوالقرنین حیدر کی ایک بریکنگ نیوز میں دعویٰ کیا تھا کہ “عوام کو قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف اکسانے پر ایف آئی اے حرکت میں آیا اور اسکی انسداد دہشت گردی ونگ نے گل بخاری کو نوٹس دے کر پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا ہے۔

اے آر وائی کے رپورٹر نے بتایا کہ گل بخاری کے پاس ایف آئی اے کے سامنے پیش ہونے کے لیے 30 دن ہیں۔ رپورٹر نے مزید کہا، “پیش نہ ہونے کی صورت میں گل بخاری کے خلاف انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔ اس نے یہ دعوی بھی کیا کہ عدالتی حکم کے بعد ایک معاہدے کے تحت محترمہ گل بخاری کو وطن واپس لایا جائے گا، انٹرپول سے رابطہ کیا جائے گا اور ان کی جائیداد بھی ضبط کی جا سکتی ہے۔

بزدار نے 40 ماہ میں ڈی جی خان کے دس کمشنر بدل دیے

جواب میں گل بخاری نے تردید کی کہ انہیں ایف آئی اے نے کوئی نوٹس بھیجا تھا اور کہا کہ ان ‘بے بنیاد’ خبروں میں ان پر دہشت گردی اور تشدد میں ملوث ہونے کے جھوٹے الزامات عائد کیے گئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے خاندان کو اے آر وائی کی جھوٹی رپورٹ کے بعد دھمکیاں دی گئی تھیں۔گل بخاری کی جانب سے اے آر وائے نیوز کے خلاف شکایت درج کروانے کے بعد تقریباً دو سال تک ہونے والی تحقیقات کے نتیجے میں آف کام نے یہ فیصلہ دیا کہ اے آر وائی کی خبر حقائق کے منافی تھی۔

آف کام نے یہ بھی موقف اختیار کیا کہ اے آر وائی نے مس گل بخاری کو اپنے بارے میں نشر کیے گئے الزامات کا جواب دینے کے لیے مناسب وقت اور موقع فراہم نہیں کیا۔ اے آر وائی نے اپنے دفاع میں کہا کہ ایف آئی اے نے بخاری کے خلاف ان کے ذاتی ٹویٹر اکاؤنٹ پر موجود خیالات کے خلاف ایک مقدمہ شروع کیا تھا۔ خاص طور پر، ایک ٹویٹ کو بنیاد بنایا گیا جو انہوں نے 12 جنوری 2020 کو پوسٹ کی جو وائرل ہو گئی۔

اے آر وائی نے کہا کہ اسے ایف آئی اے کی جانب سے نوٹس موصول ہوا تھا، جسے دیگر میڈیا اداروں کو بھی فراہم کیا گیا تھا۔ تاہم گل بخاری کے وکیل کی پوچھ گچھ پر ایف آئی اے نے کہا کہ وہ نوٹس کے ثبوت پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اس کے بعد اے آر وائی نے اپنی پوزیشن تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ “یہ خبر اسے براہ راست سیکیورٹی ایجنسیوں کی طرف سے آئی تھی اس لیے اس پر بھروسہ کیا گیا تھا۔”

آف کام نے اے آر وائی کے دفاع کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ، “پروگرام میں گل بخاری کے بارے میں کیے گئے تبصرے سنگین نوعیت کے تھے اور، ہماری نظر میں، ایسے الزامات تھے جو مس گل بخاری کے بارے میں ناظرین کی رائے کو منفی طور پر متاثر کرنے کی واضح صلاحیت رکھتے تھے۔ چنانچہ اے آر وائی کا عمل غیر منصفانہ تھا۔

آف کام نے کہا کہ براڈکاسٹر کا فرض تھا کہ وہ گل بخاری کو جواب دینے کا مناسب اور بروقت موقع فراہم کرتا، یا اگر اس موقع کی پیشکش کی گئی اور انکار کر دیا گیا، تو یہ پروگرام میں واضح ہونا چاہیے تھا۔

اگرچہ اے آر وائی نے دعویٰ کیا کہ اس نے گل بخاری سے انکا ورژن حاصل کرنے کے لیے رابطے کی کوشش کی تھی، لیکن آف کام نے کہا کہ زیر نظر پروگرام کے نشر ہونے سے پہلے اے آر وائے آف کام کو گل بخاری کا بیانیہ حاصل کرنے کے لیے کی گئی کسی بھی کوشش کا دستاویزی ریکارڈ فراہم نہیں کر سکا تھا۔

Back to top button