اسرائیل سے تعلقات مضبوط ہیں، قطر اجلاس میں امریکا شریک نہیں ہوگا ، امریکی وزیر خارجہ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ قطر میں حالیہ واقعات پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ سخت ناخوش ہیں، اسرائیلی حملے سے جاری مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں، تاہم اس کے باوجود امریکا اور اسرائیل کے تعلقات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

مارکو روبیو کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے تعلقات نہایت مضبوط ہیں اور مستقبل میں بھی ایسے ہی رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ممالک قطر میں پیش آنے والے واقعے پر ناراضی کا اظہار کر رہے ہیں، لیکن امریکا دوحہ میں ہونے والی میٹنگ میں شریک نہیں ہوگا۔

امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ توجہ اس امر پر مرکوز ہے کہ اب آگے کیسے بڑھنا ہے، قطر پر حملے کے اثرات پر وہ اسرائیلی وزیراعظم سے براہِ راست بات کریں گے۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ یرغمالیوں کی رہائی اور تنازع کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔

مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں حماس کا خطرہ ختم ہو اور اگلے مرحلے کی طرف پیش رفت ہو، جس میں غزہ کی تعمیر نو اور سکیورٹی فراہم کرنا شامل ہے۔

انہوں نے اسرائیل کے قطر میں حملے پر امریکی حمایت سے متعلق سوال کا جواب دینے سے گریز کیا، البتہ واضح کیا کہ جن ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا، انہیں ردعمل سے خبردار کیا گیا تھا۔ ان کے بقول اسرائیل کا یہ ردعمل انہی فیصلوں کا نتیجہ ہے اور فلسطینی ریاست کی بڑھتی عالمی حمایت پر اسرائیل نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔

دوسری جانب برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے اسرائیل کی قطر میں کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات امن معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

Back to top button