عمرانڈو جسٹس ثاقب نثار کیخلاف شکنجہ کسے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عمران خان کیلئے عدلیہ میں سہولتکاری کرنے والے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثارکیخلاف شکنجہ کسنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد عمرانڈو قرار پانے والے جسٹس ثاقب نثار بڑی مصیبت میں پھنستے نظر آتے ہیں۔ پی ٹی آئی ٹکٹوں کی فروخت بارے بیٹے کی آڈیو لیک ہونے کے بعد جہاں سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے جسٹس ثاقب نثار کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے وہیں سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم ثاقب کی آڈیو لیک کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نےکمیٹی کی تشکیل کا باضابطہ نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے، محمد اسلم بھوتانی کمیٹی کے چیئرمین مقرر کیے گئے ہیں۔کمیٹی میں شامل دیگر ارکان میں شاہدہ اختر علی، محمد ابوبکر، چوہدری محمد برجیس طاہر، شیخ روحیل اصغر شامل ہیں۔علاوہ ازیں سید حسین طارق، ناز بلوچ، خالد حسین مگسی، وجیہہ قمر اور ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ بھی کمیٹی کے ارکان میں شامل ہیں۔نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی اپنی تحقیقات اور انکوائری کے سلسلے میں کسی بھی تحقیقاتی ادارے کی مدد لے سکے گی اور اپنی جامع تحقیقات کرکے رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 29 اپریل کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی تھی جس میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا۔مبینہ آڈیو میں حلقہ 137 سے امیدوار ابوذر چدھڑ سابق چیف جسٹس کے بیٹے سے کہتے ہیں کہ آپ کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں، جس پر نجم ثاقب کہتے ہیں کہ مجھے انفارمیشن آگئی ہے۔اس کے بعد نجم ثاقب پوچھتے ہیں کہ اب بتائیں اب کرنا کیا ہے؟ جس پر ابوزر بتاتے ہیں کہ ابھی ٹکٹ چھپوا رہے ہیں، یہ چھاپ دیں، اس میں دیر نہ کریں، ٹائم بہت تھوڑا ہے۔پھر نجم ثاقب ان کو ثاقب نثار سے ملنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بس بابا کو ملنے آجانا شکریہ ادا کرنے کے لیے، اور کچھ نہیں جس پر ابوذر کہتے ہیں کہ یقیناً، کیسی بات کر رہے ہیں۔نجم ثاقب کہتے ہیں کہ وہ 11 بجے تک واپس آجائیں گے، ان کو جھپی ڈالنے آجانا بس، انہوں نے بہت محنت کی ہے، بہت محنت کی ہے۔اس کے بعد ابوذر کہتے ہیں کہ اچھا میں سوچ رہا تھا کہ پہلے انکل کے پاس آؤں یا شام کو ٹکٹ جمع کراؤں جس پر نجم ثاقب کہتے ہیں کہ وہ مرضی ہے تیری، لیکن آج کے دن میں مل ضرور لینا بابا سے جس کے بعد ابوذر کہتے ہیں کہ یقیناً، سیدھا ہی ان کے پاس آنا ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ ثاقب نثار کے بیٹے نجم ثاقب پر تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر ابو ذر کو ٹکٹ دلانے کے عوض ایک کروڑ 20 لاکھ روپے لینے کا الزام بھی ہے۔اس حوالے سے تحقیقات کے لیے 2 مئی کے روز قومی اسمبلی میں تحریک کثرت رائے سے منظور کی گئی تھی۔سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کے بیٹے کی مبینہ آڈیو کی تحقیقات سے متعلق تحریک جے یو آئی (ف) کی رہنما شاہدہ اختر علی نے پیش کی تھی
خیال رہے کہ 2 مئی کے روزسابق وزیراعظم و سربراہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نواز شریف نے بھی قانون کی مبینہ خلاف ورزیوں پر عدلیہ کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا تھا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ناقابل معافی جرائم کیے، ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔انہوں نے قانون اور آئین کی خلاف ورزی کی، کوئی دوسرا ایسا کرے تو اسے جیل جانا پڑتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’سابق چیف جسٹس کے بارے میں جو باتیں میرے ذہن میں آرہی ہیں وہ میں مائیک پر نہیں کہہ سکتا‘۔
نواز شریف نے سابق چیف جسٹس کے دور میں کیے گئے فیصلوں پر بھی تنقید کی، انہوں نے ریٹائرڈ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’کل ٹی وی پر شوکت صدیقی نے ثاقب نثار کا نام لیا، اب وہ کس کس چیز کا دفاع کریں گے؟ انہوں نے قوم کے خلاف ایسے جرائم کیے ہیں جو ناقابل معافی ہیں‘۔واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران سابق وزیر اعظم نواز شریف نے عدلیہ کے ساتھ ساتھ سابق جرنیلوں کو بھی جوابدہ ٹھہرانے کا بارہا مطالبہ دہرایا ہے اور مبینہ سیاسی انجینئرنگ میں عدلیہ کے کردار پر کڑی تنقید کی ہے۔
نواز شریف کی بیٹی مریم نواز بھی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف کئی سنگین الزامات عائد کر چکی ہیں اور ان پر عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لیے سہولت کاری کا الزام عائد کیا ہے۔گزشتہ ماہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار پر ماضی میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
