حکومت کہیں نہیں جا رہی، سہیل وڑائچ نے یوٹرن لے لیا

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے جولائی یا اگست میں اتحادی حکومت کے خاتمے کی پیش گوئی پوری نہ ہونے کے بعد اپنے سابقہ موقف سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے نتیجے میں ملک میں کسی سیاسی تبدیلی کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔
یاد رہے کہ سہیل وڑائچ پچھلے کچھ مہینوں سے یہ چورن بیچ رہے تھے کہ حکومت کے دن پورے ہو گئے ہیں اور جولائی یا اگست میں اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔ تاہم اب انہوں نے اپنے موقف میں 90 ڈگری کی تبدیلی لاتے ہوئے یہ کہہ دیا ہے کہ انہیں حکومت گھر جاتی ہوئی نظر نہیں آتی۔
سہیل وڑائچ نے روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کو ’’پدّی استاد‘‘ اور ’’زِدّی استاد‘‘ کے استعاراتی کرداروں کے ذریعے بیان کیا ہے۔ ان کے تجزیے میں ’’پدّی استاد‘‘ سے مراد وزیراعظم شہباز شریف جبکہ ’’زِدّی استاد‘‘ سے مراد عمران خان ہیں، جبکہ ’’فلکی شاہ‘‘ کے استعارے سے انہوں نے فوج اور بالخصوص فیلڈ مارشل کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ان کے مطابق دونوں سیاسی فریق مذاکرات تو کر رہے ہیں لیکن بڑے فیصلوں کی حتمی گنجائش ان کے پاس نہیں۔
ان کے مطابق شہباز شریف حکومت کے سربراہ ہونے کے باوجود تمام اہم فیصلے آزادانہ طور پر کرنے کی پوزیشن میں نہیں، جبکہ عمران خان مقبول اور مضبوط سیاسی فریق ہونے کے باوجود اپنے تمام مطالبات فوری طور پر منوانے کی پوزیشن میں نہیں۔ اسی لیے انکے خیال میں مذاکرات میں پیش رفت محدود رہے گی اور حتمی فیصلوں میں فوج کا کردار اہم ہو گا۔
سہیل وڑائچ نے مذاکرات کے ذریعے عمران خان کی فوری رہائی یا حکومت کی تبدیلی کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ عمران خان کے طبی معائنے یا ہسپتال جانے کی اجازت مل سکتی ہے اور بشریٰ بی بی کو بنی گالہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم حکومت کے حلقوں کے مطابق قانون میں ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں کہ کسی سزا یافتہ شخص کو جیل سے نکال کر ہسپتال یا گھر پہنچا دیا جائے۔ ادھر سہیل وڑائچ یہ سمجھتے ہیں کہ اب بھی بشری بی بی کو جیل سے نکال کر بنی گالہ منتقل کیا جا سکتا ہے تاکہ تحریک انصاف کے اندر مختلف گروپس کی آپسی چپکلش کو بڑھاوا دے کر پارٹی کو مزید کمزور کیا جا سکے۔ ان کے مطابق حکومت اور فوج تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بیانیے اور یوٹیوبرز کے کردار سے بھی پریشان ہیں اور پارٹی کے اندر مختلف دھڑوں کو الگ سیاسی سمتوں میں دیکھنا چاہتی ہیں۔
سہیل وڑائچ کے مطابق تحریک انصاف کو ابھی مذاکرات کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں کرنا چاہیے اور اسلام آباد میں دھرنوں سے گریز کی یقین دہانی سیاسی ماحول میں بہتری کا باعث بن سکتی ہے۔ دوسری طرف حکومت کو بھی سیاسی کارکنوں کے لیے اظہارِ رائے اور سیاسی سرگرمی کی گنجائش پیدا کرنا ہوگی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ مذاکرات سے کسی انقلاب یا فوری حکومت تبدیلی کی توقع رکھنا درست نہیں۔ تاہم اگر سیاسی درجہ حرارت کم، پارلیمان فعال، حکومت اور اپوزیشن کے رابطے بحال اور عمران خان سمیت زیرحراست افراد کے معاملے میں کچھ نرمی آتی ہے تو اسے مذاکرات کی اہم کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔
لانگ مارچ کامیاب ہو یا ناکام، آفریدی کی چھٹی یقینی
سہیل وڑائچ کے مطابق شہباز شریف اور عمران خان کے درمیان مذاکرات سیاسی کشیدگی کم کرنے کا راستہ تو بن سکتے ہیں، لیکن موجودہ طاقت کے توازن میں بڑے فیصلوں کا انحصار صرف ان دونوں فریقوں پر نہیں۔ ان کے بقول اگر حکومت اور تحریک انصاف کے مابین لانگ مارچ روکنے کے لیے دوبارہ مذاکرات نہیں ہوتے تو ملک میں سیاسی تعطل نہ صرف برقرار رہے گا بلکہ اس میں اضافہ ہو جائے گا جس سے نقصان حکومت یا اپوزیشن کا نہیں بلکہ پاکستان کا ہوگا۔
