انڈیا کا علاج: 1000 کلومیٹر رینج کا فتح 4 کروز میزائل تیار

پاکستان آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے اپنے قیام کے ایک برس بعد ہی مقامی طور پر زمین سے داغا جانے والا فتح 4 نامی کروز میزائل تیار کر لیا ہے جس کی رینج ایک ہزار کلومیٹر تک ہے، یہ میزائل انتہائی نیچے پرواز کرتے ہوئے ہمسایہ ملک بھارت میں کسی بھی ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کے بعد دونوں ملکوں کی جنگی صلاحیتوں میں ڈرونز، کروز میزائلوں اور طویل فاصلے کے درست نشانے والے ہتھیاروں کی اہمیت نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔ ایسے میں فتح 4 ای آر کا سامنے آنا پاکستان کی روایتی میزائل صلاحیت کو مزید آگے بڑھانے کی طرف ایک اور انقلابی قدم ہے۔ اگرچہ آئی ایس پی آر نے اس نئے میزائل کی حتمی رینج اور مخصوص اہداف کی فہرست جاری نہیں کی، تاہم دفاعی تجزیوں کے مطابق ایک ہزار کلومیٹر یا اس سے زیادہ رینج رکھنے والا یہ نظام پاکستان کو بھارت کے اندر گہرائی تک روایتی حملے کی صلاحیت فراہم کر سکتا ہے اور آئندہ کسی جنگ میں دونوں ملکوں کے درمیان میزائل مقابلے کو مزید اہم بنا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان فوج نے فتح 4 کے توسیعی ورژن فتح 4 ای آر کے کامیاب تجربے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جدید ایویونکس اور جدید نیوی گیشن نظام سے لیس یہ کروز میزائل طویل فاصلے پر موجود اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق تجربے کے دوران میزائل کی درستگی اور مجموعی صلاحیت بڑھانے والے مختلف ذیلی نظاموں کے اضافی تکنیکی پیرامیٹرز کی بھی تصدیق کی گئی جبکہ تجربے کا مشاہدہ آرمی کے اعلیٰ افسران اور میزائل تیار کرنے والے ادارے کے سائنسدانوں اور انجینئروں نے کیا۔
پاک فوج کے مطابق فتح 4 ای آر کی سب سے اہم خصوصیت اس کی انتہائی کم بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت ہے، جس کے باعث دشمن کے ریڈار اور میزائل دفاعی نظام کے لیے اسے بروقت تلاش کرنا اور روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دفاعی امور کے ماہرین کے مطابق یہ صلاحیت کروز میزائل کو روایتی بیلسٹک میزائلوں سے مختلف بناتی ہے کیونکہ یہ زمین کی سطح کے قریب پرواز کرتے ہوئے ریڈار کوریج سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور طویل فاصلے پر موجود زمینی اہداف تک پہنچ سکتا ہے۔
پاک فضائیہ کے سابق ایئر کموڈور (ر) اویس خان کے مطابق فتح 4 تقریباً 330 کلوگرام روایتی پے لوڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ اس کا نیوی گیشن نظام شدید جیمنگ کے باوجود کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق میزائل کی رفتار تقریباً میک 0.7، یعنی 864 کلومیٹر فی گھنٹہ، جبکہ ہدف کو نشانہ بنانے کی درستگی تقریباً پانچ میٹر بتائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فتح 4 کے 750 کلومیٹر تک مار کرنے کے تجربات پہلے ہی کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید فاصلے کے لیے کم بلندی پر آزمائشیں بھی کی گئی ہیں۔
ٹورنٹو میں قائم ڈیفنس نیوز اینڈ اینالسس گروپ قوة کے بانی اور دفاعی امور کے محقق بلال حسین خان کے مطابق پاک فوج کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ تجربہ فتح 4 کے نئے ویریئنٹ فتح 4 ای آر کا ہے جو بنیادی ورژن کے مقابلے میں حجم میں بڑا دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مطابق آئی ایس پی آر نے نئے ویریئنٹ کی رینج بڑھنے کی تصدیق کی ہے، جبکہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر اسکی رینج ایک ہزار کلومیٹر سے زائد ہو سکتی ہے۔
دفاعی محقق کے مطابق فتح 4 ای آر کی رینج بڑھانے کے لیے اس کا ایئر فریم بڑا کیا گیا ہے تاکہ زیادہ ایندھن رکھنے کی گنجائش پیدا ہو سکے جبکہ اس کے فولڈ ہونے والے پر بیرونی حصے میں شامل کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں میزائل کی تیاری کو نسبتاً آسان بنانے کے ساتھ ساتھ اس کی رینج بڑھانے میں بھی مدد دے سکتی ہیں۔ ان کے مطابق فتح 4 ای آر سب سونک کروز میزائل ہے جسے طویل فاصلے پر زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے اور اس کا کردار فتح ون، فتح 2 اور فتح 3 سے مختلف ہے۔
فتح سیریز پاکستان کی روایتی طویل فاصلے کی میزائل صلاحیت میں بتدریج اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔ پاکستان نے 2021 میں فتح ون متعارف کرایا جس کی رینج 140 کلومیٹر بتائی گئی، 2024 میں فتح 2 شامل کیا گیا جس کی مار 400 کلومیٹر تک ہے جبکہ بعد ازاں فتح 3 اور فتح 4 کے ذریعے اس صلاحیت کو مزید آگے بڑھایا گیا۔ گزشتہ برس پاکستان بھارت جنگ کے دوران بھی فتح سیریز کے میزائلوں کے استعمال کا دعویٰ کیا گیا تھا، جب بھارت کی جانب سے براہموس سمیت مختلف میزائلوں کے استعمال کے جواب میں پاکستان نے فتح ون سے جوابی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
حکومت کہیں نہیں جا رہی، سہیل وڑائچ نے یوٹرن لے لیا
پاکستان آرمی راکٹ فورس کمانڈ کا قیام بھی اسی بدلتے ہوئے جنگی منظرنامے میں اہم پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔ دفاعی امور کے ماہر ڈاکٹر طغرل یمین کے مطابق راکٹ فورس کمانڈ کا بنیادی مقصد روایتی میزائلوں کو پاکستان کے سٹریٹیجک جوہری میزائل نظام سے الگ رکھنا ہے تاکہ روایتی جنگ کی صورت میں میزائلوں کے استعمال سے متعلق فیصلہ سازی تیز اور مؤثر ہو سکے۔ اس کمانڈ کے قیام کے بعد روایتی میزائلوں اور راکٹ سسٹمز کو ایک مربوط آپریشنل ڈھانچے کے تحت لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق فتح سیریز کے میزائل بنیادی طور پر دشمن کی اہم فوجی تنصیبات اور ہائی ویلیو اہداف کے خلاف سٹینڈ آف حملوں کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں، جن میں فضائی اڈے، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ایمونیشن ڈپو اور اہم لاجسٹک مراکز شامل ہیں۔ ان میزائلوں کی ’شوٹ اینڈ سکوٹ‘ صلاحیت بھی اہم سمجھی جاتی ہے، یعنی میزائل داغنے کے فوراً بعد لانچر اپنی جگہ تبدیل کر سکتا ہے جس سے دشمن کے لیے جوابی حملے میں لانچر کو نشانہ بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔
