وکیل ایمان مزاری کے برے دن ختم کیوں نہیں ہو پا رہے؟

اپنے اسٹیبلشمنٹ مخالف نظریات کے باعث عتاب کا سامنا کرنے والی انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ کے برے دن ختم ہوتے نظر نہیں آتے، اب اسلام آباد کی انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے دونوں میاں بیوی پر وفاقی دارالحکومت میں ایک غیر ملکی کرکٹ ٹیم کی آمد کے موقع پر روٹ میں رکاوٹ ڈالنے اور لوگوں کو اشتعال دلانے کے الزامات پر فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے مہینے سپریم کورٹ نے ایک اور کیس میں وکیل جوڑے کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا لیکن پولیس نے عدالتی حکم کی تکمیل کے فوراً بعد انہیں دوبارہ ایک اور کیس میں گرفتار کر لیا تھا۔
اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے مقدمے کی سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا۔ پولیس کے مطابق دونوں پر اسلام آباد میں ایک احتجاج کے دوران حکومت مخالف نعرے لگانے، سڑکیں بلاک کرنے، سرکاری امور میں مداخلت کرنے، انٹرنیشنل کرکٹ ٹیم کی آمد کے موقع پر روٹ میں رکاوٹ ڈالنے اور لوگوں کو اشتعال دلانے کے الزامات ہیں۔ مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 سمیت تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔
فردِ جرم عائد کیے جانے سے قبل ہادی چٹھہ نے عدالت میں اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں ابھی تک مقدمے کی نقول فراہم نہیں کی گئیں اور جب تک قانونی تقاضے پورے نہیں ہوتے، اس وقت تک فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔ وکیلِ دفاع زینب جنجوعہ نے بھی عدالت کو بتایا کہ نہ تو دونوں ملزمان کو مقدمے کی نقول فراہم کی گئی ہیں اور نہ ہی انہیں اپنے وکلا سے ملاقات کا موقع دیا گیا ہے، اس لیے عدالت کو فردِ جرم عائد کرنے سے پہلے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے چاہئیں۔
تاہم عدالت نے دفاع کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے دونوں ملزمان پر فردِ جرم عائد کر دی۔ سماعت کے دوران جج طاہر عباس سپرا نے وکیلِ دفاع زینب جنجوعہ سے کہا کہ وہ عدالت کے اس حکم کو چیلنج کر سکتی ہیں۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے استغاثہ کے گواہوں کو بھی طلب کر لیا۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ اس وقت جس مقدمے میں زیرِ حراست ہیں، وہ ان کے خلاف درج ایک الگ کیس ہے۔ دونوں کو ستمبر میں اس وقت دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا جب سپریم کورٹ نے ایک دوسرے مقدمے میں ان کی سزائیں معطل کرتے ہوئے ضمانت پر رہائی کا حکم دیا تھا۔ یوں سپریم کورٹ کی جانب سے رہائی کا حکم نامہ جاری ہونے کے باوجود پولیس نے دونوں کو ایک دوسرے مقدمے میں گرفتار کرکے دوبارہ اڈیالہ جیل پہنچا دیا تھا۔
اس سے قبل جنوری 2026 میں اسلام آباد کی سیشن عدالت نے سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو مجموعی طور پر 17،17 سال قید اور جرمانوں کی سزا سنائی تھی۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے اگست 2025 میں درج کیے گئے مقدمے میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ دونوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ریاستی اداروں کو نشانہ بنایا، لسانی بنیادوں پر تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی اور ریاستی اداروں کے خلاف عوامی اعتماد کو متاثر کرنے والا مواد پھیلایا، تاہم دونوں وکلا نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔
بعدازاں سپریم کورٹ کے جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے 17 ستمبر کو دونوں کی سزائیں معطل کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت اپیلوں کے حتمی فیصلے تک ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے دونوں کے لیے دو، دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے مقرر کیے تھے۔ سپریم کورٹ نے اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھی زیرِ التوا درخواستیں جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم رہائی کے منتظر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ایک دوسرے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف مقدمات کا معاملہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ دونوں انسانی حقوق، جبری گمشدگیوں اور ریاستی پالیسیوں پر تنقید سے متعلق مقدمات کی پیروی کرتے رہے ہیں۔ دونوں کا مؤقف رہا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی ان کی انسانی حقوق کی وکالت اور ریاستی اداروں پر تنقید کے باعث کی جا رہی ہے، جبکہ حکام اور استغاثہ ان کے سوشل میڈیا مواد اور احتجاجی سرگرمیوں کو ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال، ریاست مخالف بیانیے اور دیگر قابلِ تعزیر اقدامات سے جوڑتے ہیں۔
حکومت کہیں نہیں جا رہی، سہیل وڑائچ نے یوٹرن لے لیا
انسانی حقوق کی بعض بین الاقوامی تنظیمیں بھی ان کے مقدمات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے منصفانہ ٹرائل اور اظہارِ رائے کے حق سے متعلق سوالات اٹھا چکی ہیں۔ اب فردِ جرم عائد ہونے کے بعد مقدمے کا باقاعدہ ٹرائل آگے بڑھے گا، جبکہ دونوں وکلا کی قسمت اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ان کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں اور دیگر مقدمات میں ہونے والی عدالتی کارروائی سے جڑی ہوئی ہے۔
