شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور

سعودی عرب کی درخواست پر شام نے حوثیوں کے خلاف جنگ لڑنے کےلیے یمن میں فوج بھیجنے پر غور شروع کردیا ہے۔
برطانوی اور امریکی خبر رساں اداروں نے رپورٹ کیا ہےکہ شام سعودی عرب کو فوجی معاونت فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لےرہا ہے،زیرغور تجاویز میں دفاعی تعاون سے لےکر حوثیوں کےخلاف برسرِ پیکار یمنی فورسز کی مدد کےلیے شامی اہلکاروں کی ممکنہ تعیناتی تک مختلف آپشنز شامل ہیں۔
ایک امریکی اہلکار کےمطابق سعودی عرب نے شام سے حوثیوں کےخلاف جنگ میں تعاون کی درخواست کی ہے،تاہم ایک شامی سفارت کار کاکہنا ہےکہ شام اس وقت بنیادی طور پر اپنی داخلی ترجیحات،بحالی اور تعمیرنو پر توجہ مرکوز کیے ہوئےہے۔
شامی سفارت کار کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کسی قسم کے فوجی تعاون یا مہارت کے تبادلے کی درخواست کرتا ہےتو اس پر دونوں ممالک کے درمیان موجود سرکاری اور دوطرفہ معاہدوں کےتحت غور کیا جائےگا۔
سعودی ایئرپورٹس پر حملوں کا جواب، یمن میں حوثیوں کے 82 ٹھکانے تباہ
ایک امریکی اہلکار نے خبردار کیاہے کہ شامی فورسز اور حوثیوں کے درمیان براہِ راست تصادم حساس نوعیت کے علاقائی ردعمل کو جنم دےسکتا ہے،جس سے تمام فریق گریز کرنا چاہتےہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق شام کے عبوری سربراہ احمد الشرع نے حال ہی میں ریاض کا دورہ کیاتھا جہاں انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔
امریکی حکام کے مطابق شامی صدر احمد الشرع سعودی درخواست پر سنجیدگی سے غور کررہے ہیں اور امکان ہےکہ وہ اسے قبول کرلیں گے۔
