لانگ مارچ کامیاب ہو یا ناکام، آفریدی کی چھٹی یقینی

 

 

 

 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ایک ایسے سیاسی بھنور میں پھنس چکے ہیں جہاں ان کے سامنے کنواں اور پیچھے کھائی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک انصاف کا لانگ مارچ کامیاب ہو یا ناکام، دونوں صورتوں میں سہیل آفریدی کے لیے اب وزارتِ اعلیٰ برقرار رکھنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر لانگ مارچ کامیاب ہوتا ہے اور اسلام آباد پہنچ جاتا ہے تو وفاقی حکومت خیبر پختون خواہ میں آئینی آپشن استعمال کرنے کا اصولی فیصلہ کر چکی ہے، لیکن اگر مارچ راستے میں ہی بکھر جاتا ہے تو اس ناکامی کی ذمہ داری بھی وزیراعلیٰ پر ہی عائد ہو گی اور پارٹی کے اندر ان کے مخالف دھڑے کو ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا موقع مل جائے گا۔

 

اس کے علاوہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سہیل آفریدی کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان میں نااہلی کا ایک ریفرنس بھی چل رہا ہے۔ اس حوالے سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر وفاق خیبر پختون خواہ میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے سے گریز برتنا چاہے تو سہیل آفریدی کو الیکشن کمیشن کے ہاتھوں نااہل کروایا جا سکتا ہے یوں سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی۔

 

یاد رہے کہ سہیل آفریدی نے پہلے 27 ستمبر کو لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، جسے بعد میں ملتوی کرکے 5 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی۔ ابتدا میں اسے ’’اسلام آباد لانگ مارچ‘‘ کا نام دیا گیا، تاہم ماضی کے مقابلے میں موجودہ مارچ کو وہ سیاسی پزیرائی حاصل نہیں ہو سکی جو علی امین گنڈاپور کی قیادت میں تحریک انصاف کے احتجاجی مارچوں کو حاصل ہوتی رہی ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ سہیل آفریدی اب اپنی تقاریر اور میڈیا گفتگو میں اس سوال کا واضح جواب دینے سے گریز کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کے لانگ مارچ کی آخری منزل اسلام آباد ہوگی یا نہیں۔ یہی ابہام اس بات کی علامت سمجھا جارہا ہے کہ خود صوبائی حکومت بھی مارچ کے سیاسی انجام اور ردعمل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر لانگ مارچ اسلام آباد پہنچنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو سہیل آفریدی کے لیے ایک نیا بحران کھڑا ہوسکتا ہے۔ وفاقی حکومت پہلے ہی خیبرپختونخوا کے حالات، امن و امان اور صوبائی حکومت کے ساتھ اختلافات کے تناظر میں آئینی راستوں پر غور کے اشارے دے چکی ہے۔ ان میں آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت صوبے میں آئینی نظام کی ناکامی کی صورت میں اقدامات شامل ہیں۔ تاہم دونوں دفعات مختلف آئینی حالات اور طریقہ کار سے متعلق ہیں، اس لیے ان کا اطلاق محض سیاسی اختلاف کی بنیاد پر نہیں بلکہ آئینی شرائط پوری ہونے کی صورت میں ہی ممکن ہوگا۔ یوں اسلام آباد تک مارچ کی کامیابی سہیل آفریدی کے لیے سیاسی فتح کے بجائے وفاق کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی کا آغاز بھی بن سکتی ہے۔

 

لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق دوسری صورت میں اگر لانگ مارچ اسلام آباد نہ پہنچ سکا اور راستے ہی میں بکھر گیا تو سہیل آفریدی کے لیے صورتحال کسی طور بہتر نہیں ہوگی۔ تحریک انصاف کے اندر پہلے ہی ان کی قیادت اور سیاسی حکمت عملی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا پہلے ہی لانگ مارچ ادھورا چھوڑ کر واپس آنا اور اب ان کے تقریباً 30 حمایتی ارکان صوبائی اسمبلی کے ساتھ مل کر سہیل آفریدی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تیاری کی اطلاعات وزیراعلیٰ کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ ایسے میں مارچ کی ناکامی کو مخالف دھڑا سہیل آفریدی کی سیاسی کمزوری قرار دے کر وزارتِ اعلیٰ سے ہٹانے کی مہم تیز کرسکتا ہے۔

 

سہیل آفریدی کی مشکلات صرف لانگ مارچ اور پارٹی کے اندرونی اختلافات تک محدود نہیں۔ وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان دہشت گردی اور سکیورٹی پالیسی پر اختلاف بھی شدت اختیار کرچکا ہے۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے معاملے پر صوبہ وفاق سے الگ پالیسی اختیار نہیں کرسکتا اور ملک بھر میں ایک مربوط قومی حکمت عملی ضروری ہے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت اپنے بعض مؤقف اور مطالبات پر قائم ہے۔ اس کشمکش نے سہیل آفریدی کو ایک مشکل پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے، کیونکہ انہیں ایک طرف اپنی جماعت کی سیاسی پالیسی کا دفاع کرنا ہے اور دوسری طرف صوبے میں امن و امان اور وفاق کے ساتھ سکیورٹی تعاون کی آئینی ذمہ داری بھی نبھانی ہے۔

 

وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے تحریک انصاف سے دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد، افغان سرزمین سے مبینہ دراندازی، سکیورٹی فورسز کی حمایت اور صوبے میں بھتہ خوری و غیر قانونی معیشت کے خلاف اقدامات سے متعلق سوالات نے بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ وفاق کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں طویل عرصے تک حکومت کرنے والی تحریک انصاف کو اپنی سکیورٹی پالیسی اور کارکردگی کا جواب دینا ہوگا۔ اس طرح سہیل آفریدی کو سیاسی محاذ کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اور انتظامی محاذ پر بھی وفاق کے سخت سوالات کا سامنا ہے۔

خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور وفاق و صوبے کے درمیان اختلافات نے معاملے کو محض سیاسی تنازع کے بجائے ایک آئینی مسئلہ بھی بنا دیا ہے۔

اسلام آباد یا خیبر پختونخوا؟PTIلانگ مارچ کی اصل منزل کہاں؟

یوں سہیل آفریدی کے لیے لانگ مارچ ایک سیاسی ٹیسٹ کیس بن چکا ہے۔ اگر لانگ مارچ کامیاب ہوتا ہے تو وفاق کے ساتھ تصادم، ممکنہ آئینی اقدامات اور صوبائی حکومت کے مستقبل کا سوال سامنے آتا ہے، لیکن اگر مارچ ناکام ہوتا ہے تو تحریک انصاف کے اندر انکے مخالفین کو انہیں وزارتِ اعلیٰ سے ہٹانے کے لیے مضبوط جواز مل سکتا ہے۔ اس صورتحال میں وزیراعلیٰ جس راستے پر بھی آگے بڑھتے ہیں، ان کے لیے سیاسی خطرہ موجود ہے۔

Back to top button