سینیٹ اجلاس:وزراکی عدم موجودگی پر اپوزیشن کی تنقید

سینیٹ اجلاس میں وزراکی عدم موجودگی پراپوزیشن کی جانب سے حکومت کوشدید تنقید کا نشانہ بنایاگیا۔

بیرسٹر علی ظفر علی ظفر کا سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایوان میں کوئی وزیر موجود نہیں ،ہمارے مطالبات کا کون جواب دے گا،وزیر خزانہ کو ایوان میں ہونا چاہئے تھا۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وزارت خزانہ کے حکام وزیر خزانہ کو اطلاع کریں کہ وہ ایوان میں آئیں۔

بیرسٹرعلی ظفر نے کہاکہ یہ ٹیکسوں والا ناکام بجٹ ہے ،بجٹ میں ٹیکس منظور ہو گئے تو جلد انقلاب آئے گا،بجٹ عوامی امیدوں کے عکاسی نہیں کر رہا،وزیر خزانہ تسلیم کر چکے کہ معاشی ترقی سست وری کا شکار ہے۔حکومتی مداخلت مبنی معیشت نہیں ہونی چاہئے۔

علی ظفرکا مزید کہنا تھا کہ حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ 3.8ٹریلین روپے کی آمدنی کر ی ہے۔سیلری ، پینشنرز اور رئیل سٹیٹ  سیکٹر سے یہ ٹیکس وصول کرنا ہے۔کل لوگ یہ ٹیکس نہیں دے سکیں گے تو انقلاب آئیگا۔1700بلین کے اخراجات جوں کے توں موجود ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ بجٹ بنانے والے لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ مڈل کلاس لوگ کیسے رہتے ہیں۔8500بلین روپے کہاں سے آنا ہے ، اتنا بڑا ڈیفیسٹ کہاں سے پورا ہو گا۔لوکل  بنک سے قرضہ لے لیں گے تو انوسٹر کیلئے پیسہ نہیں بچے گا۔سٹیٹ بنک اگر پیسے پرنٹ کرے گا تو مہنگائی بڑھے گی۔یہ بجٹ ڈیزاسٹر کی ایک ریسیپی کے علاؤہ کچھ بھی نہیں۔

کیا حکومت تنخواہ دار طبقے پر مجوزہ ٹیکس ختم کرنے والی ہے؟

 

سینیٹرعلی ظفرکاکہنا تھا کہ 40فیصدٹیکسیشن بڑھانے سے اکنامک گروتھ ختم ہو جائیگی۔کہا گیا کہ مینوفیکچررز پرودہولڈنگ ٹیکس لگائیں گے، جو اکانومی کو جانتا ہے وہ بتائے گا کہ یہ بوجھ کا محالہ اینڈ یوزر پر پڑتا ہے۔انرجی پر بات کریں تو کمپنیاں ٹیکس ٹیرف بھی بڑھائیں گیں اور عوام ٹیکس بھی دے گی۔یہ کہاں کا انصاف ہے۔یہاں اتنی سیاسی کشیدگی ہے کہ اس ماحول میں آپ بجٹ بنا ہی نہیں سکتے۔جب  تک لوگوں کا چرایا مینڈیٹ واپس نہیں کیا جاتا ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔آئندہ چند دنوں میں منی بجٹ آئیں گے کیونکہ حکومت کے پاس اس کے علاؤہ کوئی چارہ نہیں۔

علی ظفرکاکہنا تھاکہ پراپرٹی پر جو ٹیکس بڑھایا گیا ہے اس سے پراپرٹی بزنس بھی ختم ہو کر رہ جائیگا۔ملک میں موجود سیاسی بحران کی اصل جڑ الیکشن کمیشن آف پاکستان ہے۔اور الیکشن کمیشن آف پاکستان ہی کی وجہ سے آج عوام پر یہ بم گرایا جا رہا ہے۔اپر ہاؤس کا ایک مقصد ہے ، اس میں صوبوں کو برابر نمائندگی دی گئی تھی۔آج اس ہاؤس میں ایک اہم صوبہ کی نمائندگی ہی نہیں ہے۔آئی ایم ایف کو کہتا ہے وہ کہتا رہے ہم پارلیمنٹ ہیں ہمیں اپنے فیصلہ خود کرنا چاہیئے

سینیٹرہدایت اللہ نے کہا کہ اس بجٹ میں ٹیکس کی بھرمار کر دی گئی ہے۔ایک طرف تنخواہ بڑھائی گئی ہے دوسری طرف ٹیکس لگا دی گئی۔میرے خیال میں کاغز گندہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔وہ کہتے ہیں نہ کہ نہ چاچا آیا نہ چاچا گیا۔کنسٹریکشن کا شعبہ اس ٹیکس سے بہت متاثر ہو گا۔جب کوئی گھر نہیں بنائے گا تو غریب مزدور کیا کرے گا۔زراعت کیلئے اس بجٹ میں 115ارب روپیہ رکھا گیا ہے۔بلوچستان اور کے پی میں باغات اور لائیو سٹاک سے لاکھوں ٹن گندم کی پیداوار کے سکتے ہیں۔پنجاب میں کسان کارڈ بنا دیا گیا ہے لیکن دوسرے صوبوں کیلئے کچھ نہیں رکھا۔

سینیٹر فلک ناز نے کورم کی نشاندہی کی۔سینیٹ اجلاس کل دن ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیاگیا۔

Back to top button