گولڈ کنگ سیٹھ عابد کا بیٹا اور بیٹی کیسے قتل ہوئے؟

ایک زمانے میں پاکستان کی امیر ترین اور طاقتور ترین شخصیت سمجھے جانے والے سونے کے معروف سمگلر سیٹھ محمد عابد اس لحاظ سے بد قسمت نکلے کہ ان کا اکلوتا بیٹا زمین کے تنازعے پر ان کی زندگی میں ہی قتل ہو گیا جبکہ ان کی اکلوتی بیٹی سیٹھ عابد کی وفات کے ایک سال بعد اپنے ہی لے پالک بیٹے کے ہاتھوں قتل ہو گئیں۔ یوں سیٹھ عابد کا خاندان مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ لاہور کے علاقے مسلم ٹاؤن میں سیٹھ عابد کی 62 سالہ بیٹی کو ان کے لے پالک بیٹے فہد نے ہی گولی مار کر قتل کیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم فہد نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا ہے کہ وہ پسند کی شادی کرنا چاہتا تھا، مگر اس کی ماں نہیں مان رہی تھی۔ فہد کا پولیس کو دیے گئے بیان میں کہنا ہے کہ قتل کے بعد الزام سے بچنے کے لیے اس نے کرائم سین کو خراب کر دیا تھا۔ ملزم نے بتایا کہ واردات میں استعمال ہونے والا پستول سکیورٹی گارڈ کے نام پر رجسٹرڈ ہے جس کو اس نے گھر میں زمین کھود کر دبا دیا تھا۔ فہد کے مطابق اس نے والدہ کے قتل کو خود کشی کا رنگ دینے کی خاطر واردات کے بعد بستر کی خون آلود چادر تبدیل کر دی تھی۔فہد کو پولیس نے متضاد بیانات کی وجہ سے مشکوک ہونے پر حراست میں لیا تھا۔
مقتولہ فرح مظہر کے شوہر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنے خلاف چار ارب روپے کے فراڈ کا کیس درج ہونے کے بعد پاکستان چھوڑ کر آج کل امریکا میں مقیم ہیں، مقتولہ نے لا اولاد ہونے کی وجہ سے تین لے بچے گود لے کر انکی پرورش کی تھی جن میں دو لڑکے اور ایک لڑکی شامل ہیں۔
کیس کے حوالے سے ایس پی اقبال ٹاؤن عمارہ شیرازی نے بتایا ہے کہ مقتولہ کے چھوٹے لے پالک بیٹے فہد نے ماں کے قتل کا اعتراف کرلیا ہے۔ انکے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ فہد نے شادی کے تنازع پر والدہ کو گولی مار کر قتل کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم نے پہلے کہا کہ ان کی والدہ نے خود کشی کی ہے لیکن پولیس نے جو شواہد اکٹھے کیے ان سے اندازہ ہوا کہ خاتون کو ایک کمرے میں قتل کیا گیا جہاں فرنیچر کی توڑ پھوڑ کی گئی اور پستول غائب کر دیا گیا۔ پولیس نے خاتون کے بیٹے اور ملازمین کو حراست میں لیا اور ملازمین نے انکشاف کیا کہ فہد پسند کی شادی کرنا چاہتا تھا جبکہ ان کی والدہ رشتے پر راضی نہیں تھیں اور اسی بات پر انہوں نے اپنی والدہ کو گولی مار کر قتل کیا۔ بعد میں قتل کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی جبکہ قتل کے بعد جائے وقوعہ کو بھی مسخ کرنے کی کوشش کی اور پستول فرش میں دبا دیا۔
فرح مظہر کی ایک قریبی جاننے والی خاتون نے بتایا کہ مقتولہ اپنے بچوں اور شوہر کی وجہ سے پریشان تھیں۔ انکے شوہر تو پہلے ہی پیسوں کا غبن کرکے امریکہ جا چکے تھے جبکہ ان کے تینوں بچے لے پالک تھے اور سیٹھ عابد کی وفات کے بعد ان کے بیٹے انکے کہنے میں نہیں رہے تھے۔ خاتون کے مطابق: ’فرح نے ان ہی تنازعات کی بنا پر ان سے کئی بار اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ انہیں ڈر ہے کہ ان کے بچے کسی دن انہیں قتل کروا دیں گے۔ پولیس کے مطابق خاتون کے شوہر پر بھی نیب میں چار ارب روپے کے فراڈ کی انکوائری چل رہی ہے، جس وجہ سے وہ امریکہ جاچکے ہیں۔
یاد رہے کہ سیٹھ عابد ایک زمانے میں ملک کی امیر ترین کاروباری شخصیات میں سے ایک تھے جو کچھ روز علیل رہنے کے بعد سال 2021 میں کراچی میں 85 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ سیٹھ عابد کے بارے زیادہ مصدقہ معلومات موجود نہیں۔ ماضی میں ان کے بارے میں کئی قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ لاہور میں واقع ایک بڑی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک تھے اور کچھ خیراتی ادارے بھی چلاتے تھے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کو دیکھا جائے تو سیٹھ عابد کے بارے میں کچھ اور کہانیاں بھی گردش کرتی نظر آتی ہیں۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ’جب امریکی حکومت نے پاکستان پر ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ درآمد کرنے پر پابندی عائد کی تو یہ سیٹھ عابد ہی تھے جنھوں نے فرانس سے ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ بحری راستے سے پاکستان پہنچایا تھا۔ تاہم نیوکلیئر پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس کہانی کو غلط قرار دیا تھا۔
