کیا شہباز کی اتحادی حکومت آصف زرداری چلائینگے؟

پاکستان میں عام انتخابات کے تقریباً دو ہفتے بعد ملک میں سیاسی غیر یقینی کی صورتحال بالآخر ختم ہوتی دکھائی دیتی ہے کیونکہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر اتحادی حکومت بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ان جماعتوں کی متوقع اتحادی حکومت کو جہاں’پی ڈی ایم ٹُو‘ کا نام دیا جارہا ہے وہیں اب مزید سوالات بھی پیدا ہو رہے ہیں کہ کیا یہ حکومت کامیابی سے چل سکے گی؟نئے حکومتی اتحاد کے اعلان کے ساتھ ہی یہ سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں کہ یہ شراکت کتنی دیرپا اور کامیاب ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ ماضی قریب میں دونوں جماعتوں کے رہنما ایک دوسرے کی قیادت اور پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
مسلم لیگ ن کے سینیٹرعرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ ’اگر صحیح بات کی جائے تو یہ ایک کٹھن سفر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے پہلے کی پی ڈی ایم میں 16 جماعتوں کا اتحاد تھا۔پچھلے اتحاد میں اتفاق تھا۔ اس بار مسلم لیگ ن کے علاوہ دیگر جماعتیں کشتی میں سوار ہونے کی بجائے ساحل پر کھڑا ہونا چاہتی ہیں اور ساحل پر کھڑا ہونے والا تماشہ دیکھنے والوں میں سے ہوتا ہے، ساتھ دینے والوں میں سے نہیں۔
سینیٹر عرفان صدیقی سمجھتے ہیں کہ ملک میں اگلی متوقع حکومت ’اکثریتی‘ نہیں بلکہ ’اقلیتی‘ ہو گی۔وہ کہتے ہیں کہ ’صورتحال کچھ یوں ہے کہ اگر ہم آئی ایم ایف کی سفارشات کو دیکھتے ہوئے کوئی سخت قانون سازی کرتے ہیں تو پیپلز پارٹی تنقید کرے گی۔ اگر ہم پیٹرول کی قیمت بڑھاتے ہیں تب بھی تنقید کرے گی۔‘انھوں نے نئی حکومت کو در پیش چیلنجز گنواتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہمارے ایجنڈے مختلف ہیں، جو ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔’مثال کے طور پر ہم نجکاری کی بات کرتے ہیں اور پیپلز پارٹی نجکاری کے سخت خلاف ہے اور ان معاملات کو دیکھتے ہوئے جب ہم اپنے منشور پر چلیں گے تو اختلافات پیدا ہوں گے۔ جس سے باقی جماعتیں فائدہ اٹھاتے ہوئے اسمبلی تحلیل کروا سکتی ہیں۔‘تاہم عرفان صدیقی نے کہا کہ ’مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی سے سیاسی بُردباری کی امید رکھتی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہمیں اس وقت اپنے اختلافات دیکھنے کی بجائے ان باتوں کو زیرِ غور رکھنا ہے جو ہمیں جوڑتی ہیں۔
لیکن دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ نیا حکومتی اتحاد گذشتہ حکومت سے بہتر ہو گا۔پیپلز پارٹی کے ترجمان فیصل کریم کُنڈی کے مطابق ’حالیہ اتحاد گذشتہ اتحاد سے قدرے بہتر ہے۔ ماضی میں عدم اعتماد کے وقت ہمارے پاس اکثریت نہیں تھی اور ہمارا آپسی اشتراک بھی اتنا اچھا نہیں تھا۔‘تاہم ’اس بار ہم نے مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کر باقاعدہ طور پر چیزوں پر اتفاق کیا ہے اور اس بار جمیعت علماِئے اسلام اور مینگل صاحب کی پارٹی بھی اس میں شامل نہیں۔ اس وقت حکومت میں مسلم لیگ ن کے وزرا ہوں گے، ایم کیو ایم کے ہوں گے اور اِکّا دُکّا اور ہوں گے۔ ہم کابینہ کا بھی حصہ نہیں۔‘ ’پہلے کے مقابلے میں یہ اتحاد بہتر چل سکے گا کیونکہ اتحادی جماعتیں کم ہیں۔ معیشت پر دھیان دینے کے لیے اس وقت فوری کام کرنا ہے جس کے لیے دونوں جماعتوں کے بیچ اتفاق ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’زرداری صاحب کو صدر بنانے کا یہ فائدہ ہے کہ وہ پہلے بھی صدر رہ چکے ہیں اور اس کے نتیجے میں مفاہمت کی سیاست ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ ان کی بات تمام بڑی جماعتیں سنتی ہیں جس کی وجہ سے وہ سب کو ایک پیج پر لاسکتے ہیں۔‘
دوسری جانب تجزیہ کار اور صحافی ضیغم خان ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اتحاد تو ان ہی دو جماعتوں کا بننا تھا کیونکہ پاکستان تحریکِ انصاف ان کے ساتھ حکومت نہیں بنانا چاہتی تھی۔‘ان کے مطابق نئے حکومتی اتحاد کو اندرونی سے زیادہ بیرونی چیلنجز درپیش ہوں گے۔سب سے پہلے تو اسٹیبلشمنٹ سے جھگڑے کا ڈر ہے کیونکہ ماضی میں بھی ایسا ہوا کہ کچھ دن کے بعد اختلافات سامنے آئے تھے۔‘انھوں نے کہا کہ دوسرا چیلنج یہ ہے کہ عمران خان اور ان کی جماعت سے کیسے نمٹیں گے۔
انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی پچھلی حکومت کا ریکارڈ اتنا بُرا بھی نہیں تھا۔ ’ان کی خارجہ پالیسی عمران خان کی حکومت سے قدرے بہتر اور بالکل جارحانہ نہیں تھی۔ ماحولیات پر بھی انھوں نے اچھی بحث جاری رکھی۔تاہم اتحادی حکومت معیشت میں بری طرح ناکام ہوئی۔ان کے مطابق آصف علی زرداری کو صدر بنانے کے بعد ’جوڑ توڑ کی سیاست‘ ایک بار پھر سامنے آئے گی جو ’صرف ن لیگ کے لیے نہیں بلکہ بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے بھی سیٹ بیک ثابت ہو سکتی ہے۔‘
اس بارے میں مزید بات کرتے ہوئے صحافی و تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا کہ ’اب تک ہمارے ہاں صدر کا عہدہ ایک ٹوکن یا علامتی عہدہ سمجھا جاتا تھا لیکن اپریل 2022 کے بعد سے ہونے والے تمام تر بحران سے یہ ثابت ہوا کہ اگر صدر چاہے تو بحران پیدا بھی کر سکتا ہے اور بحران ختم بھی کرسکتا ہے۔‘
انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’صدر اگر چاہے تو اچانک سے فائل اٹھا کر وزیرِ اعظم سے مشورہ کرنے جا سکتا ہے کہ اگلا آرمی چیف کون ہو گا؟ پوری دنیا کو پتا ہے کہ اس پر صرف صدر کے دستخط چاہیے ہوتے ہیں اور اگر چاہے تو سیاسی طور پر اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات سنوار کر بھی رکھ سکتا ہے۔ یہ عہدہ موجودہ صدر عارف علوی نے اہم بنا دیا ہے۔‘انھوں نے حالیہ اتحاد کے بارے میں کہا کہ ’شہباز شریف اور آصف زرداری منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور اس وقت ان دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔‘
