کیا آئین ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام کی اجازت دیتا ہے؟

ملک بھر میں ایک ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام کی افواہوں کے باوجود آئین پاکستان میں ایسی کوئی شق نہیں جس کے تحت ایک غیر منتخب ٹیکنوکریٹس کی حکومت کو ملک کی باگ دوڑ سونپی جا سکے۔ یاد رہے کہ پاکستان ان افواہوں کی زد میں ہے کہ موجودہ حکومت کی جگہ فوجی اسٹیبلشمینٹ ایک ٹیکنوکریٹس کی حکومت بنانے کا سوچ رہی ہے جس کی مدت دو سال ہوگی اور جس کا بنیادی ایجنڈا تباہ حال ملکی معیشت کو بحال کرنا ہوگا، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ایسی حکومت کے وزیر خزانہ حفیظ شیخ ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب ان افواہوں کے بعد وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان میں ٹیکنوکریٹ حکومت کی کوئی گنجائش نہیں، اگر وقت سے پہلے حکومت گھر جاتی ہے تو 90 دن کے اندر اور اگر وقت پورا کر کے جاتی تو 60 دن کے اندر نئے الیکشن ہونگے، اس سے پہلے اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد نگراں حکومت وجود میں آئے گی، اور اس کے علاوہ آئین میں کسی اور سیٹ اپ کی گنجائش نہیں۔ وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ٹیکنوکریٹ حکومت کسی کی خواہش تو ہو سکتی ہے لیکن عملی طور ایسا ممکن نہیں، ویسے بھی ملکی معیشت کی بحالی ایک منتخب حکومت ہی کر سکتی ہے چونکہ عالمی مالیاتی ادارے غیر منتخب حکومتوں سے معاہدے نہیں کرتے۔
اس سے پہلے پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر نے دعویٰ کیا تھا کہ وفاقی حکومت کے کچھ نمائندوں نے ان کیساتھ ٹیکنوکریٹ حکومت بنانے کے بارے میں ’غیر رسمی گفتگو‘ کی تھی، جس سے انھیں یہ عندیہ ملا کہ ایسا کچھ ہونے جا رہا ہے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اپنے مؤقف پر ڈٹی ہوئی ہے کہ وہ پاکستانی معیشت کو بچانے کے نام پر ایسے کسی سیٹ اپ کو قبول نہیں کرے گی۔ دوسری جانب وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے اسد قیصر کے دعوے کو فضول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کی تمام باتیں بے بنیاد ہیں۔ ایسے میں اہم ترین سوال یہ ہے کہ ٹیکنوکریٹس کی حکومت کیا ہوتی ہے؟
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹیکنوکریٹ حکومت میں سیاستدانوں کے بجائے ان لوگوں کو رکھا جاتا ہے جو اپنے شعبے کے ماہر ہوتے ہیں اور باقاعدہ طور پر انتخابات لڑ کر نہیں آتے۔ مثال کے طور پر اس نظام میں وزیرِ خزانہ ایسے شخص کو بنایا جا سکتا ہے جو ماہرِ معاشیات ہو اور بین الاقوامی ادارے جیسے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے بات چیت کرنے کا اہل ہو یا ان کی حکمتِ عملی کو سمجھتا ہو۔ ایسے نظام کو لانے کی ضرورت تب پیش آتی ہے جب یا تو کسی ملک میں پارلیمان پر سے بھروسہ اٹھ گیا ہو یا پھر انتخابات کروانے میں وقت درکار ہو اور اس مختصر دورانیے میں حکومت بھی چلانی ہو۔ ایسی صورتحال میں مختلف شعبوں سے ماہرین کو لایا جاتا ہے اور کچھ عرصے کے لیے سیاسی یا معاشی مسائل کے حل کے لیے حکومت ان کے ہاتھ میں دے دی جاتی ہے۔ معروف آئینی ماہر بیرسٹر صلاح الدین احمد کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کے آئین میں تو ایسے کسی نظام کو تسلیم نہیں کیا جاتا ہاں اگر مارشل لا لگا کر آئین شکنی کی جائے تب ایسا نظام آ سکتا ہے۔
لیکن کئی لوگ پاکستان میں سابق جنرل ایوب خان کے دور کی مثال دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ تب متعارف۔کروایا گیا ٹیکنوکریٹ نظام بہت ’پائیدار‘ رہا، لیکن تاریخ پر نظر رکھنے والے اس کے برعکس بتاتے ہیں۔ جنرل ایوب کے دور پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی عباس ناصر کہتے ہیں کہ ’یہ وہ ہی دور تھا جب ملک کی معیشت کا ایک بڑا حصہ نام نہاد 22 خاندانوں کے ہاتھوں میں آ گیا تھا۔ جس کے بعد پاکستان کا ایک بڑا طبقہ معاشی محرومیوں کا شکار ہونا شروع ہوا۔
بیرسٹر صلاح الدین بھی کہتے ہیں کہ جنرل ایوب خان کے دور میں ٹیکنوکریٹ نظام کے تحت حکومت چلانے کے کوئی خیر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے تھے۔ اس کی بڑی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنوکریٹ یا بیوروکریٹ پارلیمان کو جوابدہ نہیں ہوتے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ایوب خان کے دور کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے لیکن اس کے سیاسی و معاشی نتائج ’سمجھنے والوں کے سامنے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ آپ سیاسی مسائل کو بند کمرے میں بیٹھ کر نہیں سلجھا سکتے۔ اگر ایسا ہو سکتا تو ایوب خان کے دور کے آخر میں مشرقی پاکستان کا کوئی حل نکلتا لیکن اسکےالٹ ہو گیا اور مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا۔ انکا کہنا ہے کہ مشرقی پاکستان میں پنپنے والی سیاسی و معاشی بے چینی ایوب دور سے شروع ہوئی تھی جسکا نتیجہ یہی نکلا کہ لوگ جب کھلے عام احتجاج نہیں کر سکے اور اپنے بنیادی سیاسی حقوق نہیں حاصل کر سکے تو انھوں نے پاکستان سے علیحدہ ہونے کو ہی بہتر سمجھا۔ انکا کہنا تھا کہ لوگوں کو سیاسی طور پر شامل کیے بغیر معاملات کا حل نہیں نکل سکتا ’اور اس نظام کو لانے کی بات اگر آج کے سیاسی طور پر گرم ماحول میں بھی کی جا رہی ہے تو اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا۔
