جنرل باجوہ نے ابصار عالم سے معافی کیوں مانگی؟

سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے انکشاف کیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان کے بیٹے پر تشدد کے واقعے پر معذرت کرنے کے لیے انہیں گھر بلایا مگر انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اللہ سب سے بڑا منصف ہے میں نہیں چاہتا کہ وہ مجھ سے معافی مانگیں۔
وی نیوز کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں سابق چیئرمین پیمرا نے بتایا کہ ان کے بیٹے کے ساتھ ہونے والے سلوک کی تفصیلات منظر عام پر آنے کے بعد جنرل باجوہ نے ان سے رابطہ کیا اور گھر بلوایا۔ ’ایک ڈیڑھ ماہ قبل مجھ سے جنرل باجوہ نے لاہور میں مقیم ایک صحافی دوست کے ذریعے رابطہ کیا تھا کہ مجھے آپ کے بیٹے کا پتا چلا مجھے تو پہلے کچھ پتا نہیں تھا کہ کیا ہوا تو میں سوری فِیل کر رہا ہوں۔ آپ میرے گھر آئیں میں معافی مانگنا چاہتا ہوں‘۔
ابصار عالم نے بتایا کہ جنرل باجوہ کے پیغام کے جواب میں انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں معافی لینے ان کے گھر نہیں جانا چاہتا۔ میرا تو ایسا کوئی شوق نہیں ہے نہ میں چاہتا ہوں کہ وہ مجھ سے معافی مانگیں جو ہونا تھا وہ ہو گیا، وقت گزر گیا‘۔ابصار عالم کے مطابق انہیں جنرل باجوہ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ ’چونکہ وہ خود میرے گھر نہیں آ سکتے کچھ مسائل کی وجہ سے تو ان کے کزن گھمن صاحب ان کی طرف سے میرے گھر آجائیں گے‘۔ تاہم میں نے کہا میری طرف سے ان کے ساتھ کوئی میل ملاپ نہیں۔ اللہ سب سے بڑا منصف ہے۔
یاد رہے کہ چند ہفتے قبل ابصار عالم نے بتایا تھا کہ ان کے بیٹے کو راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں جنرل باجوہ کے بیٹے کی آمد کے موقع پر سیکیورٹی اہلکاروں نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس سے وہ شدید نفسیاتی مسائل کا شکار ہو گئے تھے اور سالوں ان کا علاج کروانا پڑا۔
ابصار عالم نے بتایا کہ جنرل باجوہ کے علاوہ انہیں عمران خان سے بھی ملاقات کا پیغام ملا مگر وہ نہیں گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جانب سے پیغام پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کے ذریعے ملا جو کہ ایک مشترکہ دوست کے پاس ملے تھے۔فواد چوہدری صاحب نے کہا کہ ’آپ زمان پارک تشریف لائیں عمران خان صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں، میں ملوانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ میں سوچوں گا مگر میرا دل نہیں کیا کہ جاؤں کیونکہ میں منافقت نہیں کر سکتا‘۔
ابصار عالم سے پوچھا گیا کہ آج کل عمران خان کی اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی ہے جس کے وہ خود بھی خلاف ہیں تو پھر بھی وہ کیوں خان صاحب سے ملنا نہیں چاہتے تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں ان کی بندوق کا کارتوس نہیں ہوں، نہ کسی اور کی بندوق کا کارتوس ہوں کہ جس کو اپنی مرضی کے وقت پر کوئی چلا لے اور پھر سائیڈ پر کر دے۔ میرا ایک ایمان اور نظریہ ہے جو اس وطن کے ساتھ ہے‘
اس سوال پر کہ ان کے پیمرا کے دور میں کچھ اینکرز ان کے خلاف کیوں ہو گئے تھے، ابصار عالم کا کہنا تھا کہ چونکہ اس وقت وہ چند جرنیلوں اور ججوں کی سازش کا حصہ نہیں بنے اس لیے ان کے خلاف عدالتی فیصلہ آگیا۔ابصار عالم کے مطابق اس وقت کچھ ججوں اور جرنیلوں نے اس ملک کے خلاف سازش کی۔ پاکستان کو چین سے دور کرنے کی سازش کی جس میں بین الاقوامی طاقتیں ملوث تھیں۔ اس سازش کے تحت امریکا کے کیمپ میں پاکستان کو رکھا جانا تھا چین کے کیمپ میں نہیں جانے دینا تھا، سی پیک کو ناکام کرنا تھا۔ پاکستان کے جج، جرنیل اور میڈیا کے لوگ اس میں ملوث تھے۔اسی سازش کے تحت اس وقت کی حکومت کے خلاف ایک پورا منصوبہ لانچ کیا گیا اور جو جو شخص اس سازش کے خلاف تھا اسے نشانہ بنایا گیا اور جو میڈیا ہاوسز کالے دھن کو سفید کرنے میں ملوث تھے وہ اس سازش کا حصہ بنے کیونکہ چور چور کا ساتھی ہوتا ہے۔
ان ٹی وی چینلز میں میرے خلاف باقاعدہ نشانہ بنا کر پروپیگینڈا مہم چلائی۔ اور میں ان کو کبھی بھی معاف نہیں کروں گا۔ یہ جتنے دہرے چہرے مذہب کے لگائے ہوئے ہیں اللہ کے سامنے ان کی منافقت اور عیاری عیاں ہے۔ میں قیامت والے دن ان کو گلے سے پکڑ کر نہ گھسیٹوں تو میرا نام ابصار عالم نہیں۔
ابصار عالم کا کہنا ہے کہ اس ملک کے عدلیہ کے نظام پر انہیں ذرا اعتماد نہیں۔ میں مر بھی جاؤں تو اپنے بچوں کو وصیت کر کے جاؤں گا کہ اس نظام سے انصاف مت لینا، اللہ پر چھوڑ دینا اور اللہ پر چھوڑا ہے میں نے تو پھر کیا ہوا۔ آپ کو آج بتا رہا ہوں دو ججز ہیں دو جرنیل ہیں دو میڈیا ہاوسز کے لوگ ہیں، میں نے ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑا ہے۔ میں ان کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔ انہوں نے جتنے جھوٹ بولے، جتنا پروپیگینڈا کیا صرف اس وجہ سے کہ میں ان کی جیب میں نہیں تھا میں پاکستان کے خلاف سازش کا حصہ نہیں تھا۔ آپ دیکھ لیں کہ تب سے لے کر آج ملک کی حالت کیا ہے؟
انہوں نے باجوہ ڈاکٹرائن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چاہے عمران خان وزیراعظم تھے یا شاہد خاقان عباسی تھے یا نواز شریف ان سب میں کامن فیکٹر باجوہ ڈاکٹرائن تھا۔
ابصار عالم کا کہنا تھا کہ بطور چیئرمین پیمرا ان پر دباؤ ڈالا جاتا تھا کہ پسندیدہ افراد اور چینل کو کچھ نہ کہیں اور ناپسندیدہ چینل کے خلاف ایکشن لیں۔ مجھے کہا جاتا تھا کہ یہ یہ بندہ گالیاں دے رہا ہے فیک نیوز دے رہا ہے یہ چینل جھوٹی خبریں دے رہا ہے ان کو کچھ نہ کہیں۔ کوئی کفر کے فتوے بانٹ رہا ہے، کوئی غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹ رہا ہے ان کو کچھ نہ کہیں۔ اور یہ یہ چینل صحیح کام کر رہے ہیں ان کے خلاف کارروائی کریں، کیبل پر ان کے نمبر تبدیل کر دیں، فلاں فلاں اینکر پر پابندی لگا دیں۔ان سے پوچھا گیا کہ یہ سب دباؤ ان پر کس کی جانب سے تھا، تو ان کا کہنا تھا کہ جنرل فیض حمید نے کہا اور بھی جرنیلوں نے کہا مگر میں نے کبھی ہاں میں جواب نہیں دیا۔ میں نے کہا آپ نے جو کرنا ہے کر لیں پھر انہوں نے کر لیا۔ لاہور ہائی کورٹ کے ذریعے مجھے نکلوا دیا۔ابصار عالم نے بتایا کہ ان کے پاس کال ریکارڈنگز ہیں اور ناجائز دباؤ کا ریکارڈ موجود ہے۔
ان کے مطابق مَیں نے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف، آرمی چیف جنرل باجوہ اور چیف جسٹس ثاقب نثار کو خط لکھا لیکن کوئی کچھ نہیں کر سکا پھر میں نے پریس کانفرنس کی جس میں دھمکی آمیز کال کا ثبوت دیا گیا تھا۔
ابصار عالم کا مزید کہنا تھا کہ اس ملک اس وطن نے مجھے جو کچھ دیا ہے اسی لیے مجھے اتنا دکھ ہے کہ اس وطن کے ساتھ یہ لوگ کرتے کیا ہیں۔ اور میں نے یہ فیصلہ کیا ہوا ہے کہ میں مر جاؤں گا لیکن میں سچ بولنا بند نہیں کروں گا۔ میری کمٹنٹ اس وطن کے ساتھ ہے اس دھرتی کے ساتھ ہے کسی میڈیا ٹائیکون کے ساتھ نہیں ہے۔
