ارشد شریف کو پاکستان میں بیٹھے لوگوں نے کینیا میں قتل کروایا

پاکستان سے نکل کر لندن پہنچ جانے والے اینکر پرسن معید پیرزادہ نے الزام عائد کیا ہے کہ کینیا میں مارے جانے والے صحافی ارشد شریف کو پاکستان میں موجود لوگوں نے کینیا کی پولیس استعمال کرتے ہوئے قتل کرایا ہے، انہوں نے الزام عائد کیا کہ کینیا کی پولیس بھتہ لے کر ٹارگٹ کلنگ کرنے میں کافی شہرت رکھتی ہے، اس لیے ارشد شریف آسان ہدف بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ کینیا کے میڈیا نے بھی ارشد کے قتل کے حوالے سے پولیس سٹوری کو مشکوک قرار دیتے ہوئے بہت سے سوالات اٹھائے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اب تک کے حالات کے تناظر میں ارشد شریف کے قتل کا مدعا اے آر وائی کے مالک سلمان اقبال اور عمران خان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

برطانیہ کی نیشنلٹی رکھنے والے معید پیرزادہ نے ارشد شریف کے قتل کے بعد لندن پہنچ کر اپنے وی لاگ میں کہا ہے کہ میری ارشد شریف سے آخری ملاقات جولائی میں اے آر وائی کے آفس میں ہوئی تھی، ارشد نے مجھے بتایا کہ میرا نام ان لوگوں کی لسٹ میں شامل کر لیا گیا ہے جن کو ختم کرنے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔ معید پیرزادہ نے دعویٰ کیا کہ ارشد نے بتایا کہ مجھے قتل کر دیا جائے گا، لیکن میں نے اسکے خدشے کو رد کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ارشد شریف کے خلاف پاکستان میں گھیرا تنگ کر دیا گیا تھا اور انکے خلاف مقدمات قائم کیے جا رہے تھے۔ انکو نامعلوم فون نمبروں سے دھمکیاں دی گئیں، انکے گھر پر دھاوا بولا گیا لہذا ان کے قتل کو ایک حادثہ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔

معید پیرزادہ نے بتایا کہ قتل کے وقت ارشد شریف کے ساتھ کار میں موجود خرم احمد تحقیقات میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ وہ اس واقعے کا عینی شاہد تھا، اس نے بتایا ہے کہ قتل کے وقت کار کی رفتار تیس سے چالیس کلو میٹر فی گھنٹہ تھی، لیکن جب اس نے سڑک پر پڑے پتھروں کی وجہ سے گاڑی آہستہ کی تو اچانک فائرنگ شروع ہوگئی، لہٰذا میں نے کار دوڑا دی۔

ارشد شریف کی والدہ کا جوڈیشل کمیشن کیلئےچیف جسٹس کو خط

معید نے بتایا کہ کینیا میں امریکہ، انگلینڈ اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی ٹھیک ٹھیک موجودگی ہے، اور ان کے ایجنٹ وہاں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ میرے خیال میں ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات میں امریکی سی آئی اے اور برطانوی ایم آئی سکس بہت مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں، انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان ممالک کی خفیہ ایجنسیاں اب تک قتل کے تمام محرکات سے بخوبی آگاہ ہوگئی ہوں گی کہ کس نے کس کو پیسے دیئے، کس نے فائرنگ کی اور قتل کا تانابانا کہاں جا کر ملتا ہے۔ معید نے کہا کہ اگر حکومت عالمی خفیہ ایجنسیوں اور اداروں کو تحقیقات کا حصہ بناتی ہے تو دنیا سمیت پاکستانیوں کا اعتماد بحال ہوگا، اور شکوک و شبہات بھی نہیں رہیں گے کہ کوئی اثر انداز ہوا ہوگا۔

Back to top button