توشہ خانہ پالیسی 2023 کا اعلان، 300 ڈالر سے زائد کا تحفہ لینے پر پابندی

توشہ خان سے تحائف کی خریداری کے سلسلے میں پالیسی 2023 کا اعلان کر دیا گیا جوکہ فوری نافذ العمل ہوگی، نئی پالیسی کے مطابق کوئی بھی عہدیدار 300 ڈالر سے زائد کا تحفہ نہیں خرید سکے گا۔
دوسری طرف لاہور ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کی تفصیلات کے لیے درخواست پر 13مارچ کی سماعت کا عبوری حکم نامہ جاری کر دیا، عدالت نے توشہ خانہ کا 1990 سے 2001 تک کا ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔
جسٹس عاصم حفیظ کا کہنا تھا کہ توقع نہیں کہ کسی کو بھی مقدس گائے سمجھا جائے گا، وفاقی حکومت کے وکیل توشہ خانہ کی 2002 کے بعد کی تفصیلات کی مصدقہ کاپی ریکارڈ پر لائیں۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کابینہ نے تحائف کے ذرائع کو کلاسیفائیڈ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، سرکاری وکیل کابینہ کے فیصلے سے متعلق دستاویزات ریکارڈ پر لائیں جس کا جائزہ لیا جائےگا۔
عبوری حکم نامےکے مطابق کابینہ کے سیکشن افسر نے بتایا کہ 1990 سے 2001 کا ریکارڈ جزوی طور پر مکمل ہے، 1990سے 2001 کے ریکارڈ کا آئندہ سماعت پر اوپن کورٹ میں جائزہ لیا جائے گا۔عدالت نے حکم دیا ہےکہ اس ریکارڈ کی دستیابی آئندہ سماعت پر یقینی بنائی جائے، درخواست پرسماعت 21 مارچ تک ملتوی کردی گئی۔
خیال رہے کہ درخواست گزارنے قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف کی تفصیلات اور جن اشخاص کو تحفے دیے گئے ان کی تفصیلات مانگ رکھی ہیں۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے ایک روز قبل توشہ خانہ کا 2002 سے 2023 کا ریکارڈ پبلک کر دیا ہے، وفاقی حکومت نے کابینہ ڈویژن کی ویب سائٹ پر توشہ خانہ کا ریکارڈ اپ لوڈ کیا ہے۔
