عارف نقوی کی امریکہ حوالگی کے بعد عمران کےبھی پھنسے کا خطرہ

https://youtu.be/ityQ1aKy5hY

ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی کی امریکہ حوالگی کے برطانوی عدالت کے حکم کے بعد چیئرمین تحریک انصاف عمران خان بھی بری طرح پھنسنے نظر آتے ہیں کیونکہ تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ بارے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی سکروٹنی کمیٹی کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ تحریک انصاف کو دبئی میں رجسٹرڈ ووٹن کرکٹ لمیٹڈ نامی ایک کمپنی نے 21 لاکھ ڈالرز سے زائد کی رقم بطور پارٹی فنڈ دی تھی جس کی پاکستانی روپوں میں مالیت 40 کروڑ سے زائد بنتی یے۔ قانونی ماہرین کے مطابق پی ٹی آئی کے بینک اکاونٹس میں ہونے والی یہ ٹرانزیکشن جہاں واضح طور پر غیر قانونی فارن فنڈنگ کے زمرے میں آتی ہے وہیں امریکہ میں عارف نقوی پرمالی فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزامات پر دائر مقدمات میں بھی یہی رقم عمران خان کے گلے کا بھی طوق بن سکتی ہے۔جیال رہےکہ ووٹن کرکٹ لمیٹڈ دبئی دراصل ابراج گروپ کے مالک عارف نقوی کی ملکیت ہے جو 2019 سے لندن میں گرفتار ہیں اور اب ان کی امریکہ حوالگی کیخلاف دائر اپیل مسترد ہو چکی ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ عارف نقوی کی ملکیتی اس کمپنی کا نام ووٹن کرکٹ لمیٹڈ اس لیے رکھا گیا کہ عارف لندن سے 100 کلومیٹر دور واقع آکسفورڈ شائر کے علاقے ووٹن میں بھی ایک رہائش گاہ رکھتے تھے جہاں انہوں نے کئی ایکڑ اراضی پر مشتمل ایک محل نما گھر بنا رکھا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس گھر میں عمران خان بھی ماضی میں کئی مرتبہ بطور نقوی کے مہمان قیام پذیر رہ چکے ہیں۔ اس محل میں ایک کرکٹ گراؤنڈ بھی موجود ہے جہاں ماضی میں پاکستانی کرکٹرز بھی جا کر کھیلتے رہے ہیں۔ برٹش ورجن آئی لینڈ کی دستاویزات میں یہ رہائش گاہ بلڈ لیس ایسٹس لمیٹڈ Bloodless Assets Ltd کی ملکیت کے طور پر رجسٹرڈ تھی لیکن کہا جاتا ہے کہ اس کا اصل مالک عارف نقوی تھا۔ تاہم 2019 میں لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے گرفتاری کے ایک برس بعد ستمبر 2020 میں نقوی نے اس پراپرٹی کو 12 ملین پاؤنڈز میں فروخت کروا دیاتھا۔

لیکن ووٹن پیلیس کے سابقہ رہائشی ابراج گروپ کے مالک نقوی اس واقعے سے بہت پہلے 2013 میں عمران خان کی تحریک انصاف کو ووٹن کرکٹ لمیٹڈ دبئی کے اکاؤنٹ سے 21 لاکھ ڈالرز یعنی 40 کروڑ پاکستانی روپے بطور پارٹی فنڈ عنایت کر چکے تھے جو اب خان صاحب کے گلے پڑنے والے ہیں کیونکہ یہ واضح طور پر غیر قانونی فارن فنڈنگ کا کیس ہے  تحریک انصاف کے اکاؤنٹس میں اس رقم کے وصول ہونے کے شواہد الیکشن کمیشن آف پاکستان کی تیار کردہ سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کے صفحہ نمبر 88 پر درج ہیں۔ یہاں بتایا گیا ہے کہ یونائیٹڈ بینک آف پاکستان نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایت پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کو جو دستاویزات فراہم کی ہیں ان کے مطابق تحریک انصاف کو برطانوی کمپنی ووٹن کرکٹ لمیٹڈ نے کئی اقساط میں 28 فروری 2013 سے 10 اپریل 2013 تک 21 لاکھ ڈالرز سے زائد بطور پارٹی فنڈز دیے تھے جن کی مالیت 40 کروڑ پاکستانی روپے بنتی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹرانزیکشن عمران کی تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کا ایک بہت مضبوط ثبوت ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق پارٹی فنڈنگ کے حوالے سے پاکستانی قوانین بڑے واضح ہیں اور یہ بتایا گیا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو صرف ایک فرد ہی ذاتی حیثیت میں فنڈنگ کر سکتا ہے جبکہ کسی پاکستانی کمپنی یا این جی او سے بھی پارٹی کے لیے فنڈز لینے کی اجازت نہیں ہے۔ ایسے میں جب دبئی میں رجسٹرڈ ایک غیر ملکی کمپنی کی جانب سے تحریک انصاف کو چالیس کروڑ روپوں کی فنڈنگ کا ثبوت سامنے آجائے تو پھر تحریک انصاف اور عمران خان کا بچنا محال ہے۔

یاد رہے کہ منی لانڈرنگ اور مالی بدعنوانی کے الزامات میں زیر حراست ابراج گروپ کے مالک عارف نقوی کو عمران خان کا سپانسر بھی کہا جاتا ہے۔ عارف نقوی کے عمران خان سے قریبی تعلقات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب 2019 میں انہیں لندن ائیرپورٹ پر گرفتار کیا گیا تو انہوں نے رابطے کے لیے جن شخصیات کے نمبر دیے، ان میں ایک فون نمبر عمران خان کا بھی تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا کپتان سے کس قدر گہرا اور قریبی تعلق ہے۔ عمران کی سابق اہلیہ ریحام خان نے بھی اپنی کتاب میں دعویٰ کیا تھا کہ عارف نقوی نے 2013 کے انتخابات میں تحریک انصاف کی مالی معاونت کی تھی۔ خیال رہے کہ عارف نقوی کی جانب سے تحریک انصاف کو ساڑھے پانچ کروڑ روپے کی مالی معاونت پر سٹیٹ بینک آف پاکستان کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ نے نیب کو تحقیقات کے لیے کہا تھا۔ نیب نے یہ انکوائری 2016 میں ختم کر دی تھی اور باقاعدہ پریس ریلیز میں اس کا اعلان بھی کیا تھا۔

واضح رہے کہ ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی پر متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکہ میں بھی کیسز چل رہے ہیں۔ نیویارک کی عدالت ابراج گروپ اور ان کے دیگر شراکت داروں پر فردجرم عائد کر چکی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نقوی نے ابراج گروپ کے ذریعے مختلف کاموں کے لئے حاصل سرمائے کو اپنے اکاؤنٹس اور اپنے اہل خانہ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیا۔ نیویارک کی عدالت کی جانب سے فرد جرم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عارف نقوی نے ایک اور پاکستانی سیاستدان کو ابراج کے فنڈ سے 2013 سے 2016 کے درمیان کئی بار رشوت دی تاہم اس پاکستانی سیاستدان کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ تاہم اب خیال کیا جاتا ہے کہ یہ شخص عمران خان ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ عارف نقوی کی پرائیویٹ ایکوٹی کمپنی ‘ابراج‘ کے دیوالیہ ہونے کے بعد نقوی پر یہ الزام لگا تھا کہ انھوں نے ابراج ایکوٹی سے سینکڑوں ملین ڈالرز اپنے ذاتی اکائونٹ میں ٹرانسفر کروا لیے تھے۔ بعد ازاں برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ عارف نقوی نے آکسفورڈ شائر میں ایک نجی کرکٹ ایونٹ کے ذریعے عمران خان اور انکی جماعت کیلئے بھاری فنڈز جمع کئے اور دبئی کے حکمران خاندان کے ایک فرد سے بھی انہیں فنڈز دلوائے۔

دوسری جانب عمران خان نے بھی عارف نقوی کی آف شور کمپنی ووٹن کرکٹ لمیٹیڈ سے عطیات لینے کا اعتراف کیا تھا لیکن دعویٰ کیا تھا کہ یہ پیسے پاکستانیوں سے اکٹھے کیے گئے تھے اگر چہ عمران خان نے عارف نقوی کا دفاع کیا تھا۔

پنجاب اور کے پی انتخابات سے بڑی آئینی پیچیدگی کا خطرہ

Back to top button