معاشی اصلاحات نہ کیں تو بوجھ ناقابل برداشت ہو جائیگا

وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ پنشن اصلاحات جیسی دیگر اصلاحات کی ہمیں اشد ضرورت ہے، اصلاحات کی طرف جانا ہوگا ورنہ ایک وقت آئے گا جب یہ بوجھ ناقابل برداشت ہوجائے گا۔

قومی اسمبلی میں فنانس بل کی منظوری کے لیے جاری اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحٰق ڈار نے کہا کہ پنشن اصلاحات جیسی دیگر اصلاحات کی ہمیں اشد ضرورت ہے، اس بجٹ میں ہمارا 800 ارب پنشن پر چلا گیا، یہ ایک خطیر رقم ہے، چند برس قبل یہ اس سے آدھا ہوتا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اصلاحات کی طرف جانا ہوگا ورنہ ایک وقت آئے گا جب یہ بوجھ ناقابل برداشت ہوجائے گا۔

پنشن سے متعلق پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی خورشید شاہ کے سوال کے جواب میں اسحٰق ڈار نے کہا کہ کنٹریکٹ پر کام کرنے والے سرکاری ملازمین کو 2 پنشز میں سے بڑی پنشن کا انتخاب کرنے کا اختیار ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ بہت پرانا مسئلہ چل رہا ہے اسے بہت پہلے ٹھیک ہوجانا چاہیے تھا، حکومت نے سرکاری افسران کے ایک سے زائد پنشنز لینے پر پابندی عائد کردی ہے، یہ غریب ملک پر بہت بڑا بوجھ تھا۔انہوں نے کہا کہ اصولی بات ہے کہ آپ کو ایک پنشن ضرور ملنی چاہیے لیکن یہاں مختلف سرکاری عہدوں پر رہنے والے لوگ ایک سے زیادہ پنشنز لیتے رہے ہیں، یہ پنشنز کئی کئی نسلوں تک چلتی رہیں، ملک میں بعض لوگ بیک وقت آرمی چیف، صدر اور چیف ایگزیکٹو کی پنشن لیتے رہے۔

Back to top button