فرح گوگی کے 117 اکاؤنٹس اور خفیہ کمپنیاں پکڑی گئیں

سابق وزیر اعظم عمران خان ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکلات میں دھنستے نظر آتے ہیں۔ جہاں ایک طرف وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے سابق خاتون اول بشری بی بی کی دوست اور فرنٹ پرسن فرح گوگی کو گرفتار کرنے کیلئے انٹرپول سے رابطہ کر لیا ہے  وہیں دوسری جانب فرحت شہزادی عرف فرح گوگی کے خلاف جاری نیب انکوائری میں بڑی پیشرفت سامنےآئی ہے۔ نیب لاہور نے فرحت شہزادی اور ان کے شوہر احسن جمیل گجر کے نام پر 117 بنک اکاونٹس کا سراغ لگا لیا ہے۔نیب نے فرحت شہزادی اور احسن جمیل گجر کو 8 جون کو طلب کر لیا ہے۔ جس کے بعد اب فرح گوگی کا بچنا نا ممکن نظر آتا ہے۔

نیب ذرائع کے مطابق  فرحت شہزادی اور احسن جمیل کے نام چار غیر ملکی بنک اکاونٹس کا سراغ بھی لگا لیا گیا۔ بزدار دور حکومت میں ساڑھے 4 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ بھی نیب لاہور کو مل گیا ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ معروف پراپرٹی ٹائیکون کے بیٹے کے ساتھ بنی گالہ اسلام آباد میں 240 کنال اراضی کی خرید و فروخت ظاہر ہوئی ہے۔ ریکارڈ کے مطابق ملزمان نے مذکورہ بنی گالہ اراضی 530 ملین روپے میں حاصل کی۔

نیب کے مطابق دونوں ملزمان کے نام مجموعی طور پر ڈیڑھ ارب مالیت کی جائیدادیں بھی پائی گئیں ہیں۔ سال 2021 میں ملزمہ فرح گوگی نے ایف بی آر کو کل 97 کروڑ کے اثاثہ جات ظاہر کئے تھے۔ فرحت شہزادی اور شوہر کی ملکیت 10 کمپنیوں کا بھی پتہ لگایا گیا ہے جو مبینہ طور پر مالی لین دین کیلئے استعمال ہوتی رہیں۔ تحقیقات میں نیب تفتیشی ٹیم نے فرحت شہزادی کیلئے کام کرنے والے کیش بوائے کا سراغ بھی لگا لیا۔ کیش بوائے کا مجموعی طور پر 860 ملین کی کیش ٹرانسیکشن کا اعتراف کیا ہے جسکے شواہد نیب نے حاصل کر لئے ہیں۔

ریکارڈ کے مطابق فرحت شہزادی نے ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 50 کروڑ کا کالا دھن سفید کروایا۔ ایمنسٹی سکیم میں 32 کروڑ مالیت زرعی پیداوار کا حصول ظاہر کیا گیا جبکہ ملزمان کی ملکیت کوئی زرعی اراضی تھی ہی نہیں۔ فرحت شہزادی اور احسن جمیل گجر کے اثاثہ جات میں 3 سال کے دوران مبینہ طور پر 420 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ ملزمان نے 2018 سے 2021 کے دوران 1 ارب  سے زائد کی جائیدادیں بھی بنائیں۔

ذرائع کےمطابق فرحت شہزادی اور شوہر کے نام دبئی میں ایک لگژری فلیٹ کا انکشاف بھی ہوا ہے جسے ایف بی آر میں ظاہر نہ کیا گیا۔فرحت شہزادی و شوہر ڈیفنس لاہور میں 8 جائیدادوں کے مالک نکلے جس میں کمرشل پلازہ بھی شامل ہے۔بحریہ ٹائون لاہور میں کروڑوں مالیت کا 4 کنال کا پلاٹ بھی جائیداد میں شامل ہے۔اسلام آباد کے سیکٹر F-7 میں 2 کنال کا بنگلہ ملزمان کے نام ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ نیب تحقیقات میں احسن جمیل گجر اورفرحت شہزادی کے نام 19 گاڑیاں بھی پائی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ ایف آئی اے نے انٹرپول کے ذریعے فرح خان کو گرفتار کر کے پاکستان لانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اور ان کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کے لئے انٹرپول سے رابطہ کیا تھا۔انٹرپول کو ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست پر فرح گوگی کی لیگل ٹیم نے انٹر پول اور ایف آئی اے کو قانونی نوٹس بھی بھجوایا تھا۔
واضح رہے کہ فرح گوگی کو منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا ہے۔عدالت منی لانڈرنگ کیس میں پہلے ہی انھیں اشتہاری قرار دے چکی ہے، فرح گوگی اپنے خلاف جاری تحقیقات سے بچنے کے لیے ملک سے فرار ہیں ، کہا جا رہا ہے کہ فرح گوگی کے خلاف منی لانڈرنگ کے ناقابل تردید ثبوت ایف آئی اے نے حاصل کر لیے ہیں اب انہیں ملک واپس لا کر عدالتی کارروائی کا آغاز کرنا باقی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے متعدد رہنما بشمول وفاقی کابینہ کے اراکین حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ وہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کو اجازت دے کہ وہ سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف  عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرحت شہزادی کو ملک میں واپس لائے تاکہ وہ اپنے خلاف کیسز کا سامنا کرسکیں۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز شریف نے عثمان بزدار کے دور حکومت میں فرحت شہزادی کو پنجاب کی ’اصل وزیراعلیٰ‘ قرار دیا تھا جبکہ دوسری طرف فرحت شہزادی نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطااللہ تارڑ کو ’توہین آمیز‘ بیان اور دبئی کی کاروباری شخصیت، ایک بڑے نیوز چینل اور اس کے اینکر کے خلاف ان پر توشہ خانہ تحائف کی فروخت میں ملوث ہونے کا الزام لگانے پر قانونی نوٹس بھیجا تھا۔خیال رہے کہ گزشتہ برس عمران خان کی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے بے دخلی کے بعد فرح

بشریٰ بی بی کے طاقتور مؤکل کیوں بھاگ نکلے؟

خان ملک چھوڑ کر باہر چلی گئی تھیں۔

Back to top button