پٹرول کی قیمت میں اضافے پر حکومتی اتحادی جماعتیں ناخوش

عمران خان حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے پر عمل درآمد کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ اٹھانے پر مسلم لیگ نواز کی اتحادی جماعتیں وزیر اعظم شہباز شریف سے خوش نہیں اور اس فیصلے کو اگلے الیکشن میں اپنے سیاسی مستقبل کے لیے نقصان دہ قرار دے رہی ہیں۔ ان کا گلا ہے کہ عمران حکومت کی ناقص پالیسیوں کا بوجھ موجودہ حکومت نے اپنے سر کیوں لیا۔ تاہم شہباز شریف کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ اقتدار میں رہنے کی قیمت ہے جسے ادا کئے بغیر چارہ نہیں تھا کیونکہ اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کیا جاتا تو آئی ایم ایف پاکستان کو ایک ارب ڈالرز قرض کی اگلی قسط جاری نہ کرتا جس سے سنگین تر معاشی بحران پیدا ہو جاتا۔

اپریل میں اقتدار میں آنے کے بعد موجودہ اتحادی حکومت کی جانب سے کئی روز تک اہم سیاسی و انتظامی فیصلے سامنے نہیں آئے، تاہم اب پیٹرولیم منصوعات کی قیمت میں بڑے اضافے کا سخت فیصلہ سامنے آیا ہے جس کا عندیہ وزیر خزانہ کئی ہفتوں سے دے بھی رہے تھے۔ ماضی میں تحریک انصاف کی حکومت پر ڈالر اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سمیت معاشی پالیسیوں پر تنقید کرنے والی جماعتیں اقتدار سنبھالنے کے بعد اب خود شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ مسلم لیگ ن ہو یا پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام ہو یا آزاد اراکین یا حکومت میں شامل دیگر جماعتیں، ماضی میں یہ سب تحریک انصاف کی معاشی پالیسیوں پر کڑی تنقید، اور احتجاجی جلسے اور عوامی مارچ کرتی رہی ہیں۔ اب موجودہ حکومت میں بھی مہنگائی عروج پر ہے، ڈالر روپے کے مقابلے میں ریکارڈ سطح پر اور پیٹرول 30 روپے زیادہ مہنگا ہو چکا ہے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا حکومت میں شامل اتحادی جماعتیں اب مطمئن ہیں؟ کیا ان کا اعتماد اب بھی حکومت پر برقرار ہے؟ اسکا جواب نہ میں یے۔ اس وقت اتحادی جماعتیں کشمکش میں مبتلا نظر آتی ہیں کہ ماضی میں جن فیصلوں پر وہ تنقید کر رہی تھیں، اب ان کا اب دفاع آخر کیسے کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اتحادی جماعتیں حکومت پر مکمل اعتماد کا اظہار کر رہی ہیں تو کچھ جماعتیں ہچکچاہٹ اور حکومت کے بعض فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔

پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے مصطفی نواز کھوکھر حکومتی پالیسیوں سے ناخوش نظرآ رہے ہیں، ساتھ ساتھ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی رائے کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ لیکن یہ پیپلز پارٹی کی پالیسی نہیں ہے اور مصطفی نواز اس لیے نالاں ہیں کہ ان کو ان کی مرضی کی وزارت نہیں ملی تھی لہذا انہوں نے کابینہ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ مصطفی نواز نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ آئی ایم ایف پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 30 روپے فی لیٹر اضافے سے بھی مطمئن نہیں۔ اب حکومت کو ایک سخت بجٹ بھی دینا پڑے گا۔ سوال تو یہ ہے کہ عمران کی ناکامیوں اور ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کا بوجھ اپنے سر لینے میں کیا حکمت ہے؟‘ انہوں نے کہا کہ ’نئے مینڈیٹ والی حکومت کو آئی ایم ایف سے مذاکرات کرنے چاہئیں۔ ہمیں بہت سخت حالات کا سامنا کرنا پڑے گا اور ایک فریش مینڈیٹ والی حکومت بات چیت کے لیے بہتر پوزیشن میں ہوگی۔‘

یاد رہے کہ عمران خان کی حکومت نے 2019 میں آئی ایم ایف کے ساتھ چھ ارب ڈالرز کا تین سالہ معاہدہ کیا تھا لیکن وہ سخت پالیسی وعدوں پر عمل درآمد میں مشکلات کا شکار ہے۔ دونوں کے درمیان توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے جائزے پر حالیہ اجلاس رواں ہفتے ہوا۔

حلف برداری تقریب پر دائر حمزہ شہباز کی درخواست نامکمل قرار

بگڑتی معاشی صورت حال میں عوام سب سے زیادہ متاثر ہے۔ اس حوالے سے اتحادی جمعیت علمائے اسلام کی شاہدہ اختر علی نے کہا کہ ’قیمتوں میں اضافہ کرنا بھی ہے تو غریب افراد کیسے اتنا بوجھ برداشت کریں گے؟ ایسی پالیسیاں لے کر آنا چاہ رہے ہیں جہاں غریب افراد کو سبسڈی دی جائے، حکومتی جماعت نے اس سے متعلق حامی بھی بھری ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ معیشت پہلے سے ہی زوال پذیر ہے اور ہمیں سخت فیصلوں کی پہلے سے ہی توقع تھی۔ حکومت معاشی اصلاحات کرنے جا رہی ہے جس میں ایک متبادل دیا جا سکے جس کا مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ قیمتوں کے حوالے سے اتحادی جماعتیں فی الحال اس لیے بھی خاموش ہیں کیونکہ کچھ فیصلے ابھی پائپ لائن میں ہیں۔

لیکن بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ نے کہا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ خوشی سے نہیں کیا گیا۔ ان کے بقول ’قیمتوں میں اضافے پر اطمینان ہو ہی نہیں سکتا، وزیراعظم نے ایک ماہ تک سوچ بچار کے بعد یہ فیصلہ کیا۔ عمران خان جان بوجھ کر پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کرکے گئے تھے، لہٰذا اس وقت ملک میں مہنگائی کی ذمہ دار تحریک انصاف ہے۔‘

قومی اسمبلی میں آزاد رکن محسن داوڑ کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ترجیحات دیکھنا ہوں گی۔ ہم معاشی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں لیکن اس کے حل کے متبادل طریقے ہیں جس پر بحث ہونی چاہیے۔‘انہوں نے گذشتہ برس شائع ہونے والی یو این ڈی پی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ تحریک انصاف حکومت نے پاکستانی اشرافیہ کو 2400 ارب روپے کی سبسڈی دی۔ محسن داوڑ نے سوال اٹھایا: ’کوئی اشرافیہ کو سبسڈی دینے پر بات کیوں نہیں کرتا؟ بھاری ڈیفنس بجٹ پر کیوں بحث نہیں کی جاتی؟ ہمیں تمام پہلووں پر سوچنا ہوگا، اگر نہیں سوچیں گے تو اس طریقے سے نظام نہیں چلے گا۔‘

یاد رہے کہ رواں ہفتے آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان دوحہ میں مذاکرات ہوئے جس میں آئی ایم ایف کے حکام نے ایندھن اور توانائی کی سبسڈی کو ختم کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ اس کے بعد ہی 26 مئی کو حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں 30 روپے کے اضافے کا فیصلہ سامنے آیا۔ وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک پریس کانفرنس میں کہا: ’آئی ایم ایف نے پیٹرول کی قیمت بڑھانے تک ریلیف سے انکار کیا ہے۔‘ مفتاح اسماعیل نے یہ بھی کہا کہ 15 دن میں 55 ارب روپے کا نقصان برداشت کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق عوام پر کسی بھی قسم کا بوجھ ڈالنا حکومت کے لیے مشکل فیصلہ تھا۔

Related Articles

Back to top button