نگراں حکومت عوام کی جیبوں پر بھاری کیوں پڑنے لگی؟

بجلی کی بڑھتی قیمتوں پر عوام کی آہ وزاری اور احتجاج کے دوران نگراں حکومت نے عوام پر پٹرول بم بھی گرا دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق بجلی کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے عوامی حلقوں میں غم و غصے آسمان کی بلندیوں کو چھونا شروع ہو گیا ہے۔ عوام کے اندر ایک ایسا لاوا پک رہا ہے جس کا نتیجہ سول نافرمانی کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل ہوشربا اضافے کے بعد عوامی خدشات درست ہوتے معلوم ہوتے ہیں کہ نگراں حکومت کو بنیادی طور پر سخت فیصلے کرنے کیلئے اقتدار میں لایا گیا ہے تاکہ ان کے ذریعے بغیر کسی سیاسی نقصان کے عوام پر گرانی کا بوجھ لادا جا سکے۔

خیال رہے کہ رات گئے نگراں حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 14 روپے 91 پیسے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 18 روپے 44 پیسے بڑھا دی گئی ہے۔ جس کے بعد ملکی تاریخ میں پہلی بار پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت 300 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔

فناس ڈویژن سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی قیمتوں اور شرح مبادلہ میں اضافے کے پیش نظر حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتوں میں ردوبدل کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کی جانب سے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 14.91 روپے اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 18.44 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔اضافے کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 305.36 روپے ہو گئی ہے جبکہ فی لیٹر ڈیزل 311.84 روپے میں دستیاب ہو گا۔

واضح رہے کہ نگران حکومت کو آئے ابھی ایک ماہ کا بھی عرصہ نہیں ہوا لیکن اس کے باوجود لگاتار دوسری مرتبہ قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس عرصے میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 35 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہو چکا ہے۔اس سے قبل 16 اگست کو بھی نگران حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بالترتیب 17 روپے 50 پیسے اور 20 روپے کا اضافہ کردیا تھا۔

پیٹرولیم مصنوعات میں ایک ماہ سے بھی کم وقت میں یکے بعد دیگرے دوسری مرتبہ اضافے سے ہوشربا مہنگائی میں مزید اضافے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے جہاں روپے کی قدر میں مسلسل کمی کی وجہ سے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں پہلے ہی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔روپے کی قدر میں مسلسل کمی سے نہ صرف مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ یہ مرکزی بینک کو بھی مجبور کر رہی ہے کہ وہ مقامی کرنسی کی بے قابو گراوٹ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے شرح سود میں اضافہ کرے۔

دوسری جانب نگراں حکومت نے آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرتے ہوئے فی لیٹر پیٹرول پر لیوی کی فل شرح عائد کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق فی لیٹر پیٹرول پر 5 روپے لیوی کی شرح بڑھائی گئی ہے جس کے بعد فی لیٹر پیٹرول پر 60 روپے لیوی عائد ہوگئی۔اسی طرح ڈیزل پر 50 روپے لیوی عائد ہے، دونوں مصنوعات پر لیوی 60 روپے فی لیٹر تک بڑھانے کا خدشہ ہے۔

دوسری طرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفیکشن آتے ہی پہلے سے مہنگائی کی دہائی دیتے اور احتجاج کرتے صارفین کے جانب سے حکومت پر شدید تنقید کی گئی۔

ایک صارف نے لکھا کہ پاکستانی ٹیم اور ڈالر کی ٹرپل سنچری کے بعد پیشِ خدمت ہے پیٹرول اور ڈیزل کی ٹرپل سنچری۔

سبحان ایاز نے اتحادی حکومت کو تنقیدر کا نشانہ بناے ہوئے لکھا کہ پٹرول 15 روپے اور ڈیزل 19 روپے مہنگا ہو گیا یہ سب پی ڈی ایم حکومت کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہے، انہوں نے سوال کیا کہ اب غریب بیچارہ کہاں جائے؟

جہاں بعض صارفین حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے وہیں چند نے طنزو مزاح کا سہارا بھی لیا، وقاص نامی صارف نے عوام کے لیے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ شادی اور عشق اپنے شہر میں کیجیئے کیونکہ پیٹرول بہت مہنگا ہو گیا ہے۔

ایک اور صارف نے عوام سے سوال کیا کہ پرانا پاکستان اتنا کافی ہے یا اور پرانا چاہیے؟

ایک صارف نے کہا کہ یہ پرانا پاکستان تو جان ہی نہیں چھوڑ رہا، انہوں نے پڑھی لکھی نوجوان نسل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ملک کو بچائیں اور اگر نہیں بچا سکتے تو اپنے آپ کو بچائیں۔

یوسف خان نے کہا پٹولیم کی قیمتوں میں مزید اضافہ پاکستانی ہجوم کو مبارک ہو، چلو اب سب مل کر سماجی رابطوں کی سائیٹ ’ایکس‘ پر احتجاج کرتے ہیں

کرکٹر شاہین آفریدی سب سے زیادہ کس سے ڈرتے ہیں؟

۔

Back to top button