جھوٹا عمران ملکی سیاست کیلئے کلنک کا ٹیکہ کیسےبنا؟

سینئر لکھاری ڈاکٹر خالد جاوید جان کا کہنا ہے کہ اپنے خلاف مقدمات سے بچتے اور بھاگتے ہوئے بالآخر عمران خان اپنے جھوٹ کے گڑھے میں گر چکے ہیں اور مکافاتِ عمل کا سامنا کررہے ہیں۔ گرفتاری سے بچنے کے لئے، عدالتوں میں پیش نہ ہونا بھی ان کے اس جھوٹ کی قلعی کھولتا ہے کہ ان کی نام نہاد سیاسی جدوجہد انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام کے لئے تھی اور انصاف امیر اور غریب کے لیے ایک جیسا ہونا چاہئے ۔ یہ الگ بات ہے کہ موصوف کے لیے انصاف وہی ہے جو ان کی ہر ناانصافی کو جواز مہیا کرے۔

روزنامہ جنگ کیلئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ڈاکٹر خالد جاوید جان کا مزید کہنا ہے کہ اگر عمران خان کے اعمال کی فہرست مرتب کی جائے تو ان میں سیاسی ذہانت ، مردم شناسی ، علمی قابلیت ، انتقامی صلاحیّت ، اخلاقی اقدار کی پاسداری اور دور اندیشی دور دور تک نظر نہیں آتی ۔ پاکستان کے سیاسی کلچر کو جو پہلے ہی زہر آلودہ تھا اسے انہوں نے مزید تعفّن زدہ بنانے اور سیاسی اختلافِ رائے کو ذاتی دشمنیوں میں تبدیل کر نے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ۔ آج عمران خان کی سیاست کے تیرہ سالہ دورِ ستم نے پاکستانی معاشرے کو جس طرح تقسیم در تقسیم کر دیا ہے۔ اس کی صورتِ حال ڈکٹیٹر جنرل ضیاء کے دور سے بھی زیادہ خوفناک ہے ۔ کیونکہ ان میں نہ صرف جنرل ضیاء کے دور کی مذہبی منافقت پائی جاتی ہے ۔ جس نے پاکستان کو انتہا پسندی کا گڑھ بنا کر خون میں نہلا دیا بلکہ ان کے اندر دیگر تین فوجی ڈکٹیٹروں کی صفات بھی بدرجہ ء اتم پائی جاتی ہیں،اس میں جنرل ایوب خان کی رعونت ، جنرل یحیٰی خان کی رنگین مزاجی اور جنرل پرویز مشرف کی نام نہاد روشن خیالی بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ خالد جاوید جان کا مزید کہنا ہے کہ اگر ہم عمران خان کی شخصیت کا جائزہ لیں تو وہ تضادات سے بھری پڑی ہے۔ حکومت سے باہر اور حکومت کے اندر نجانے انہوں نے کون سا ایسا کارنامہ سرانجام دیا ہے جس کی وجہ سے ان کے حامی کبھی انہیں اما م خمینی اور کبھی چے گویرا سے تشبیہ دیتے ہیں۔

خالد جاوید جان کے مطابق اپنی سیاست کے ابتدائی 15سال تک باوجو د ہر قلا بازی لگانے اور فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کی کاسہ لیسی کرنے کے ، خان صاحب چند سیٹوں سے آگے نہ بڑھ سکے۔ پھر جب اسٹیبلشمنٹ کے پروجیکٹ عمران خان نے انہیں اپنے کندھوں پر بٹھا لیا اور ان کا امیج ایک دیانتدار اور محب وطن مسیحا کے طور پر تراشنا شروع کیاتو ان کے اندر کا وہ عمران خان باہر آگیا جس کا ذکر ڈاکٹر اسرار اور حکیم محمد سعید نے برسوں پہلے کیا تھا۔ بعد میں جسکی تصدیق سرفراز نواز دیگر سیاسی و عسکری واقفانِ حال نے کردی ۔ خالد جاوید جان کا مزید کہنا ہے کہ برطانیہ اور دیگر مغربی جمہوریتوں کی مثالیں دینے والے عمران خان نے دشنام طرازی، بدزبانی اور گالی گلوچ کا وہ طوفانِ بدتمیزی برپا کیا جس کی مثال نہیں ملتی ۔ پھر پاکستانی تاریخ کی بدترین دھاندلی کے بعد برسرِ اقتدار آنے والے شخص نے پہلے سو دنوں میں کرپشن ختم کرنے کے بلند بانگ دعوے کئے لیکن اپنے پونے چار سال کے دورِ اقتدار میں انٹرنیشنل ٹرانسپیرنسی کے مطابق پاکستان میں کرپشن 24درجے بڑھ گئی ۔ سیاسی مخالفین اور میڈیا کا گلا دبانے کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ پاکستانی تاریخ کا سب سے زیادہ قرضہ لینے کے باوجود نہ صرف کوئی نیا میگا پروجیکٹ شروع نہ ہوسکا بلکہ اپنے اعلان کردہ پچاس لاکھ گھروں میں سے ایک گھربھی نہ بن سکا نہ ہی ایک کروڑ نوکریوں میں سے کسی کو کوئی نوکری ملی۔ تقریباََ 6جی ڈی پی کی رفتار سے ترقی کرتی ہوئی معیشت کو پہلے سال ہی منفی شرح میں پہنچا دیا۔ جسکی تنزلی آج بھی جاری ہے اور جاتے جاتے آئی ایم ایف کی شرائط کو توڑ کر ملک کو ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچا دیا۔ خارجہ پالیسی ایسی کہ سعودی عرب اور چین جیسے دوستوں کو پاکستان سے دور کر دیا۔ محمد بن سلمان کو ناراض کیا اور سی پیک کو رول بیک کردیا۔ ڈاکٹر خالد جاوید جان کے مطابق ریاست ِ مدینہ کے داعی نے لندن کے مئیر کے انتخاب میں اپنے ہم وطن سلمان محمد صادق کی جگہ اپنے سابقہ رشتے دارکی کھلے عام حمائت کی۔ ہوس ِ اقتدار کی انتہا تو یہ ہے کہ اقتدار حاصل کرنے کے لئے ایک طرف جنرل باجوہ اور جنرل فیض کے ساتھ ملکر چور دروازے ڈھونڈھتے رہے اور دوسری طرف ضعیف الاعتقادی کی حد کر دی کہ ایک خاتون سے محض اس لیے شادی کی کہ اسکے عملیات کی وجہ سے وزیرِ اعظم بن سکے ۔ خالد جاوید جان کے مطابق ہر تخلیق کار اپنی شاہکار تخلیق سے پہچانا جاتا ہے ۔ آپکی عظیم تخلیق عثمان بزدار تھے۔ جس سے آپ کی مردم شناسی اور دیانت داری کا پتہ چلتا ہے۔ اگر یہ عمران خان کی مردم شناسی کی علامت ہے تو اس سے ’’ بُری چوائس ‘ ‘ کوئی اور ہو نہیں سکتی اور اگر اس کا مقصدکسی کے ذریعے کرپشن کرنا تھا تب بھی ان کو بد دیانت اور کرپٹ ثابت کرنے کےلئے عثمان بزدار ہی کافی ہے۔ کیا یہ مکافاتِ عمل نہیں کہ اپنے سیاسی مخالفین سے ہاتھ تک نہ ملانے کا روادار انہی سے رابطے کی بھیک مانگ رہا ہے ؟ دوسروں کو چور چور

سرکاری ملازمین کا سالانہ 34کروڑ یونٹ مفت بجلی استعمال کاانکشاف

کہنے والا آج خود سرٹیفائیڈ چور ثابت ہو چکا ہے اور ابھی یہ ٹریلر ہے فلم تو ابھی باقی ہے۔

Back to top button