عمران خان کے مکمل مائنس ہونے تک انتخابات نہیں ہونگے؟

سیاسی و دفاعی تجزیہ کار عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ جو لوگ 5 اگست کو پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی گرفتاری پر پاکستان کی سڑکوں پر ایک خوفناک ابتری اور افرا تفری دیکھنے کی امید رکھتے تھے، انہیں مایوسی ہوئی ہوگی۔ ملک میں مکمل خاموشی رہی اور لوگ اپنے اپنے کاموں میں مگن رہے۔یہ 9 مئی اور اس سے قبل مارچ کی صورتحال سے بالکل مختلف تھا جب عمران خان کے حامیوں نے ریاست کو یوں آڑے ہاتھوں لیا کہ ملک میں تقریباً خانہ جنگی کی سی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ جہاں 9 مئی کو فوجی عمارتوں پر حملے کیے گئے، مارچ میں عمران خان کو گرفتار کرنے کی کوشش پر پی ٹی آئی کارکنان نے پنجاب پولیس پر پٹرول بم پھینکے تھے۔ اس کے بعد فوج اور حکومت نے عمران خان کے خلاف ایک بیانیہ بنایا جس میں ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے ریاست کے خلاف بغاوت کی ہے جو کہ قانوناً جرم ہے۔

عائشہ صدیقہ کے مطابق توشہ خانہ کیس میں سول کورٹ کے حالیہ فیصلے کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ عمران خان کے اس بیانیے کو کمزور کیا جائے کہ وہ کرپشن کے خلاف لڑنے والے ایک سیاستدان ہیں۔ کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ عمران خان کرپشن میں ملوث تھے کیونکہ انہوں نے اپنے اثاثہ جات الیکشن کمیشن سے چھپائے اور ریاستی تحفوں کو بیچنے کے متعلق جھوٹ بولا۔تاہم، کورٹ کے فیصلے یا سڑکوں پر نظر آنے والی خاموشی سے کہیں ظاہر نہیں ہوتا کہ عمران خان کے متوالوں یا ایک عام آدمی کے خیالات میں کوئی تبدیلی آ گئی ہے۔ گرفتاری سے الٹا شاید ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہی ہوگا تاہم یہ ایک ایسا چیک ہے جسے کیش تبھی کروایا جا سکتا ہے جب ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کروائے جائیں جس کا فی الحال دور دور تک امکان نظر نہیں آتا۔ عائشہ صدیقہ کا مزید کہنا ہے کہ عمران خان نے اپنا احتجاج جلد انتخابات کے مطالبے سے شروع کیا تھا۔ لیکن یہ مشکل نظر آتا ہے کیونکہ مشترکہ مفادات کونسل، جو کہ وفاقی اکائیوں کے درمیان مسائل کو حل کرنے کا فورم ہے، 2023 میں ہوئی مردم شماری کی منظوری دے چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کو انتخابات مزید ملتوی کرنا ہوں گے کیونکہ اسے نئی مردم شماری کے تحت دوبارہ حلقہ بندیاں کرنا ہوں گی۔ لیکن نئی حلقہ بندیوں میں مزید مسائل ہیں اور اس سے نیا تنازع کھڑا ہوگا۔ تاریخ دان یعقوب بنگش کے مطابق نئی حلقہ بندیوں کے تحت ایک بھی نشست کے اضافے کے لئے قومی اسمبلی کی منظوری درکار ہوگی جو کہ اس وقت ناممکن ہے۔ دو صوبوں میں نگران حکومتیں کام کر رہی ہیں جس کا مطلب ہے کہ نیا قانون نہیں بن سکتا۔

عائشہ صدیقہ کے مطابق یہ تو واضح نہیں کہ انتخابات کب ہوں گے لیکن کچھ پرامید تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ اگلے برس مارچ میں ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ اس دوران عمران خان اور ان کی جماعت کو مزید پیچھے دھکیلا جائے گا۔ یہ البتہ طے ہے کہ جب تک اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے عمران خان کے خلاف دیا گیا فیصلہ کالعدم قرار دے کر انہیں کوئی ریلیف فراہم نہ کر دیا جائے، وہ انتخابات سے نااہل ہی رہیں گے۔ عمران خان پر مہربان چیف جسٹس عمر عطا بندیال جو اب پی ٹی آئی سربراہ کا بھرپور دفاع کر کر کے شاید تھک چکے ہیں ستمبر میں ریٹائر ہونے جا رہے ہیں اور بہت کچھ اب ان کے بعد آنے والے چیف جسٹس پر منحصر ہوگا۔ اعلیٰ عدلیہ سرگرم ہو بھی جائے تو بھی ریلیف دینے کا عمل کٹھن ہوگا اور کافی وقت لے گا۔ یہ حقائق عمران خان کے اگلی پارلیمنٹ کا حصہ ہونے کی راہ میں حائل ہیں۔

عائشہ صدیقہ کے مطابق جن سیاسی مبصرین سے میری بات ہوئی ہے ان کا ماننا ہے کہ اس وقت پاکستان میں سیاسی ڈوریں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر ہلا رہے ہیں اور وہ اس وقت تک انتخابات کے لئے تیار نہیں ہوں گے جب تک کہ عمران خان کی امیج بڑی حد تک گہنا نہ جائے۔ عائشہ صدیقہ کا مزید کہنا ہے کہ گذشتہ بہت سے سالوں میں قبل از انتخابات بیانیہ بنانے میں تو فوج نے مہارت حاصل کر لی ہے لیکن انتخابات کے دن دھاندلی کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ اب ایک ہی امید باقی بچی ہے کہ میڈیا میں موجود اسٹیبلشمنٹ کے دوست عمران خان کے خلاف ایک بھرپور مہم چلائیں۔ ایک ایسی مہم جس پر عوام کو بھی یقین آ جائے۔ دوسرا راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان میں اگلے چھ ماہ میں کوئی معجزاتی معاشی کایا پلٹ رونما ہو جائے جس سے عوامی تاثر میں تبدیلی آ جائے۔ پاکستان کی معاشی کارکردگی اور عمران خان کی مقبولیت اب تناسب معکوس کی صورت ایک دوسرے سے جڑی ہیں۔ ریاست کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی تو عمران خان مزاحمت کا استعارہ بن کر ابھرے گا۔ سڑکوں پر کوئی بڑا احتجاج نہ بھی نظر آئے، عوام

منیب اور ایمن کے گھر ایک اور پیاری پری کی آمد

میں حکومت کے لئے خفگی یا عدم اطمینان میں اضافہ ہو گا۔

Back to top button