‘جارح مزاج عمران خان اب منتوں پر کیوں اتر آیا؟

سانحہ نو مئی کو مبصرین پی ٹی آئی کے لیے ‘نائن الیون’ اور کچھ اسے پارٹی کے لیے سب سے بُرا دن قرار دیتے ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس دن سے محض ایک روز قبل تک پی ٹی آئی ملک کے سیاسی منظر نامے پر چھائی ہوئی تھی اور عمران خان مقبولیت کے نئے ریکارڈز قائم کر رہے تھے۔ایک ماہ کے دوران پی ٹی آئی کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں تھی لیکن جس طرح سیاسی رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالا گیا اور پھر ایک ہی جیسی پریس کانفرنسز میں پی ٹی آئی چھوڑ کر سیاست سے تائب ہونے جیسے واقعات شاید پہلی بار سامنے آئے۔ اسی وجہ سے ماضی قریب میں دھمکیاں دینے والا جارح مزاج عمران خان اب مذاکرات کیلئے منتوں ترلوں پر مجبور ہے تاہم دوسری جانب سے کوئی مثبت جواب سامنے نہیں آ رہا۔
ایک ماہ کے دوران پی ٹی آئی کے ساتھ کیا کچھ ہوا؟ آنے والے دنوں میں اس پارٹی کا کیا مستقبل ہو گا؟ کیا سابق وزیرِ اعظم عمران خان دوبارہ پارٹی کو منظم کر سکیں گے؟ کیا مقدمات کا سامنا کرنے والے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو کوئی رعایت مل سکے گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو پاکستان کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ نو مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے ہنگاموں بالخصوص فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد ملک کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ اس وقت بظاہر غصے میں ہے اور پی ٹی آئی زیرِ عتاب ہے۔سیاسی مبصرین سمجھتے ہیں کہ نو مئی کے واقعات کے بعد عمران خان سیاسی تنہائی کا شکار ہوئے اور ایسے میں جہانگیر ترین کی قیادت میں استحکامِ پاکستان کے نام سے نئی سیاسی جماعت بھی وجود میں آ گئی۔
سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ نو مئی 2023 پی ٹی آئی کا نائن الیون تھا۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد اگر لاہور کی مال روڈ پر جلسہ کر لیا جاتا تو زیادہ لوگ جمع ہو سکتے تھے۔ اس سے نہ صرف پارٹی کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوتا بلکہ عمران خان کو ہمدردی بھی ملتی۔ لیکن یہاں پی ٹی آئی کی حکمتِ عملی میں نقائص نظر آئے۔اُن کے بقول پاکستانی فوج کی فارمیشن کمانڈرز کے اجلاس سے یہی عندیہ ملتا ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے لیے ‘زیرو ٹالیرنس پالیسی’ ہے۔لیکن سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کو اتنی جلدی نہیں توڑا جا سکتا۔ ماضی میں پیپلزپارٹی کو بھی توڑنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن پارٹی مزید مضبوط ہو کر سامنے آئی۔ اُن کے بقول سیاسی رہنما کی غلطی کو لوگ معاف بھی کر دیتے ہیں۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ عمران خان کی نو مئی کی مبینہ غلطی کو شاید اُن کے حامی اور کارکن اتنی سنجیدگی سے نہ لیں لیکن ریاستی اداروں نے نو مئی کے واقعات پر سخت ردِعمل دیا ہے۔
دوسری طرف سینئر صحافی اور تجزیہ کار چوہدری غلام حسین سمجھتے ہیں کہ عمران خان پر فوج مخالف بہت زیادہ ملبہ ڈال دیا گیا ہے۔ نو مئی کو جو کچھ بھی ہوا اُس کے بعد سے اُن کے پیچھے تمام ریاستی ادارے پڑے ہوئے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اِس وقت پی ٹی آئی کے تمام بڑے رہنما جماعت چھوڑ کر جا چکے ہیں یا اُنہیں چھوڑنے پر مجبور کیا گیا ہے جس کے باعث عمران خان کو سیاسی نقصان ہوا ہے۔
پاکستان میں جمہوری اقدار پر نظر رکھنے والے ادارے ‘پلڈاٹ’ کے سربراہ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ نو مئی کے واقعات نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے حالات یکسر بدل گئے ہیں۔اُن کے بقول عمران خان نے بہت جارحانہ مؤقف اپنا رکھا تھا اور یہی وجہ ہے کہ اُن کی گرفتاری کے بعد اُن کے حامی بھی مشتعل ہو گئے۔
احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ نو مئی کے بعد اب پی ٹی آئی نے دفاعی پوزیشن اختیار کر لی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کے قریبی ساتھی اُنہیں چھوڑ کر جا چکے ہیں جب کہ جو رہ گئے ہیں وہ خاموش ہیں اور پارٹی کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہیں۔
دوسری طرف پی ٹی آئی کی مخالف سیاسی جماعتیں نو مئی کے واقعات کے بعد چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو آڑے ہاتھوں لے رہی ہیں۔ سیاسی جماعتوں اور اُن کے قائدین کا مؤقف ہے کہ نو مئی کو ہونے والی تمام تر شرانگیزی کے پیچھے عمران خان کا ہاتھ ہے۔ تاہم سابق وزیرِ اعظم ان الزامات کی متعدد بار تردید کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ اُن کی 27 سالہ سیاسی جدوجہد میں اُنہوں نے کبھی تشدد پر مبنی سیاست نہیں کی۔عمران خان نو مئی کے واقعات کو سازش قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس کی زیرِ نگرانی جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ بھی کر چکے ہیں۔
احمد بلال محبوب کے بقول عمران خان پر الزام لگانے والے یہی کہہ رہے ہیں کہ وہ منصوبہ سازوں میں شامل تھے اور اُنہی کے کہنے پر سب کچھ ہوا تھا لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ بات کس حد تک درست ہے۔اُن کے بقول یہ جس نے بھی کیا اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سب منظم طریقے سے ہوا، ورنہ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں بہت سے احتجاج اور مظاہرے ہوئے لیکن فوجی تنصیبات کی توڑ پھوڑ نہیں ہوئی۔وہ کہتے ہیں کہ احتجاجی مظاہرے گورنر ہاؤس، وزرائے اعلٰی کے دفاتر کے باہر یا پارلیمان کے باہر ہوتے رہے ہیں، لیکن فوجی تنصیبات پر حملوں کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔
خیال رہے گزشتہ ہفتے پاکستانی فوج کا فارمیشن کمانڈز اجلاس آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی سربراہی میں ہوا تھا جس میں نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی توثیق کی گئی۔
پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب کی رائے میں ابھی تک نو مئی کے واقعات کا ڈراپ سین نہیں ہوا۔ ابھی تو بہت سی نئی باتیں سامنے آ رہی ہیں، ابھی
اداکارہ صحیفہ جبار موت کا انتظار کیوں کرنے لگیں؟
صورتِ حال واضح نہیں ہے یوں کہہ لیں کہ یہ ایک ڈویلپنگ اسٹوری ہے۔
