عمران کی براہ راست تقریر پر دوبارہ پابندی لگنے کا امکان

سینئرصحافی اورتجزیہ کارحامد میر نے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے نئے آرمی چیف کی تقرری بارےغیر ذمہ دارانہ گفتگو کے بعد اس بات کا امکان پیدا ہو گیا ہے کہ پیمرا ان کی براہ راست تقاریر نشر کرنے پر دوبارہ سے پابندی عائد کر دے۔ پیمرا کی جانب سے یہ پابندی خاتون جج زیبا چودہری اور آئی جی اسلام آباد کو کھلی دھمکیاں دینے کے بعد عائد کی گئی تھی۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عمران کی تقاریر براہ راست دکھانے پر پابندی 5 ستمبر تک عبوری طور پر معطل کر دی تھی۔ لیکن 5 ستمبر کو کیس کی دوبارہ سماعت کے دوران اطہر من اللہ نے پیمرا کو حکم دیا کہ وہ پابندی کے حوالے سے اپنی کارروائی سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کرے۔ اسلام آباد نے 5 ستمبر تک عمران کی تقاریر دکھانے پر جو پابندی معطل کی تھی اس حوالے سے کوئی نیا حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا لہذا اب خان صاحب کی تقاریر پر پابندی بحال ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

حامد میر نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی 5 ستمبر کی عدالتی کارروائی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران نے صرف دو روز پہلے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کو خراج تحسین پیش کیا تھا اور کہا تھا کہ اس عدالت نے اے آر وائے نیوز پر پیمرا کی پابندی ختم کر کے دلیرانہ فیصلہ کیا ہے، لیکن عمران خان نے جس ہائیکورٹ کو خراج تحسین پیش کیا تھا اُسی ہائیکورٹ نے ان کی فیصل آباد جلسے کی تقریر میں فوج کے حوالے سے نیا تنازعہ کھڑا کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ چنانچہ حامد میر کے مطابق اب عمران خان یہ نہیں کہہ سکتے کہ عدالت کا رویہ انکے ساتھ ٹھیک نہیں، یا عدالت انکے ساتھ امتیازی رویہ اپنا رہی ہے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ نئے آرمی چیف کے حوالے سے عمران کے بیان پر اُن کے اپنے سپورٹرز بھی کافی پریشان ہیں کیونکہ انھوں نے پبلک میٹنگ میں پاکستان کی نیشنل سکیورٹی کے ذمہ دار ادارے کے بارے میں ایسا بیان دیا ہے کہ جس نے ادارے کے اعلیٰ افسران کو متنازع بنا دیا ہے۔

سینئر اینکرپرسن نے بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیمرا کو ہدایت کی ہے کہ وہ عمران کی تقریر کے معاملے کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ہینڈل کرے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ پیمرا آرٹیکل 19 کے مطابق اپنے قواعد و ضوابط پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ حامد میر نے کہا کہ آرٹیکل 19 میں جو آزادی اظہار رائے کو تحفظ دیا گیا ہے اس کے ساتھ کچھ شرائط بھی رکھی گئی ہیں جن میں سے ایک اہم ترین شرط یہ ہے کہ آپ اپنے آزادی اظہار کے حق کو اس طرح استعمال کریں کہ اس سے پاکستان کی سکیورٹی اور تحفظ پر کوئی آنچ نہ آئے، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے "بولنے کی آزادی لیکن ذمہ داری کے ساتھ” والا فارمولا ذہن میں رکھ کر فیصلہ دیا تھا۔

کیا فوج عمران کے حملوں کا جواب مذمت سے ہی دے گی؟

اس کا مطلب یہ ہوا کہ مادر پدر آزادی کسی کو بھی نہیں دی جا سکتی۔ حامد میر نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران کو بولنے کی آزادی اس شرط پر دی تھی کہ وہ آئندہ گفتگو میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ ایسے میں اطہر من اللہ کو کمرہ عدالت میں یہ ریمارکس دینا پڑے کہ بڑے ذمہ دار لوگ غیر ذمہ دارانہ بیان دے رہے ہیں، کیا سیاسی لیڈر شپ اس طرح کی ہوتی ہے اور ایسی گفتگو کرتی ہے؟ کیا گیم آف تھرونز کیلئے ہر چیز کو سٹیک پر لگا دیا جاتا ہے؟ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عمران خان خود اپنا بھی احتساب کریں اور فیصلہ کریں کہ وہ کیا کرنا چاہ رہے ہیں، موصوف چاہتے ہیں کہ وہ جو مرضی کہتے رہیں اور ریگولیٹر انکو ریگولیٹ بھی نہ کرے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ایسے میں عدالتوں سے ریلیف کی اُمید نہ رکھیں، یہ عدالت کا استحقاق ہے، ہر شہری محب وطن ہے، کسی کے پاس کسی کو غدار یا محب وطن قرار دینے کا اختیار نہیں، اس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیمرا کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں تقاریر اور بیانات ریگولیٹ کرنے کا حکم دیتے ہوئے عمران کی درخواست نمٹا دی۔

Back to top button