جسٹس فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کی سازش ناکام کیسے بنائی؟

تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کا ٹرائل رکوانے سے متعلق جو شور شرابہ جاری ہے اس کا واحد مقصد عمران خان کو انجام سے بچانے کی ایک کوشش ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر 9 رکنی بنچ تشکیل دیاچیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود کو بنچ میں شامل کر کے سیاسی چال چلی تھی مگر دونوں سینیئر جج صاحبان نے قانون کے مطابق پوزیشن لے کر چیف جسٹس کی یہ چال ناکام بنا دی۔سماعت میں چیف جسٹس اور قاضی فائز عیسیٰ کے اختلافات واضح طور پر نظر آئے۔ دوران سماعت قاضی فائز عیسیٰ نے دل کی ساری بھڑاس نکالی۔ جب تک جسٹس فائز عیسیٰ بولتے رہے بنچ میں سے کوئی بھی جج ان کے سامنے نہیں بولا، سب خاموش رہے۔کرکٹ کی زبان میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چھکا مارا ہ جسٹس عیسیٰ نے جو اعتراض اٹھائے وہ بالکل قانون کے مطابق ہیں۔ ہمارا سول نظام عدالت انصاف کے تقاضے پورے کرنے سے قاصر ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالتوں کی جانب سے سنائی گئی موت کی اکثر سزائیں ہائی کورٹ میں جا کر ختم ہو جاتی ہیں۔
خیال رہے کہ جسیے ہی سپریم کورٹ میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائلز کے خلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر ہوئیں پی ٹی آئی کے کیمپ میں خوشی کی لہر دوڑگئی۔ خاص طور پر پی ٹی آئی کے حامی وکلا کو یقین تھا کہ فیصلہ ان کے حق میں آئے گا۔ یہ پیش رفت ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے۔ جب دو دن پہلے ان درخواستوں میں سے ایک کے درخواست گزاراعتراز احسن اور ان کے وکیل لطیف کھوسہ نے چیف جسٹس پاکستان عطا بندیال سے ملاقات کی تھی۔
واضح رہے کہ سانحہ 9 مئی کو لے کر فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف اب تک سپریم کورٹ میں چار درخواستیں دائر کی گئیں۔ ان میں سے ایک درخواست چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اپنے وکیل حامد خان ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی تھی۔
دوسری درخواست سول سوسائٹی کے ارکان نے ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کے ذریعے اور تیسری درخواست اعتزاز احسن نے اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دی۔ بعد ازاں سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے بھی ملٹری کورٹس کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی۔ یہ درخواست انہوں نے اپنے وکیل عزیز چغتائی کے توسط سے دائر کی۔ لیکن منگل کے روز تک ان میں سے کسی بھی درخواست پر سپریم کورٹ نے غور نہیں کیا تھا۔ بلکہ عمران خان کی درخواست تو اعتراض لگاکر واپس کردی گئی تھی۔
تاہم منگل کی سہ پہر اچانک ان درخواستوں پر سماعت کی خبر ’’بریکنگ نیوز‘‘ کے طور پر نشر ہوئی۔ حالانکہ وکلا کے حلقوں میں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ چیف جسٹس عطا بندیال اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے اس قسم کا کوئی قدم اٹھانے سے گریز کریں گے۔ لیکن اس اندازے کے برعکس سپریم کورٹ کا 7 رکنی بینچ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ حکومت نے یہ اعلان کیا تھا کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث جو ملزمان فوجی تنصیبات پر حملوں اور اس کی منصوبہ بندی میں شریک رہے۔ ان کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالتوں میں کیسز چلیں گے۔ اب تک ایک سو سے زائد افراد کے مقدمات فوجی ٹرائل کے لئے بھیجے بھی جا چکے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ دو روز پہلے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال سے درخواست گزار اعتزاز احسن اور ان کے وکیل لطیف کھوسہ نے ملاقات کی تھی۔ ذرائع کے بقول یہ ملاقات سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے چیمبر میں ہوئی۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نہ صرف اعتزاز احسن کے شاگرد رہ چکے ہیں۔ بلکہ ماضی میں وہ اعتزاز احسن کی قانونی فرم میں بطور جونیئر وکیل پریکٹس کیا کرتے تھے۔ اس پس منظر اور اعتزاز احسن سے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی حالیہ ملاقات کے بعد فوجی ٹرائل کے خلاف درخواستوں کے اچانک سماعت کے لئے مقرر کئے جانے پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال سے ملاقات سے قبل اعتزاز احسن پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سے مل کر آئے تھے۔ جس سے شکوک و شبہات بڑھ گئے ہیں۔
وکلا سیاست میں متحرک رہنے والے ایک سے زائد وکلا نے اس پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے والوں کا موقف ہے کہ فوجی عدالتوں میں ڈیو پراسس نہیں ہوتا۔ مطلب یہ کہ منصفانہ سلوک عام عدالتی نظام کے ذریعے ہی دیا جا سکتا ہے۔ لیکن جب ایک درخواست گزار کیس چلنے سے پہلے منصف کے ساتھ جاکر ملاقاتیں شروع کر دے تو پھر اس ڈیو پراسس پر سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ انتہائی متنازع بات ہے۔ بلکہ ایک طرح سے ’’مس کنڈکٹ‘‘ کے زمرے میں آتی ہے۔
سول عدالتوں میں اگر ڈیو پراسس ہوتا تو کیا فوجی عدالتوں کی ضرورت پڑتی؟ پچھلے سات آٹھ ماہ سے تحریک انصاف کو عدلیہ کی جانب سے جو بے مثال ریلیف دیا جا رہا تھا۔ اس کے پیش نظر 9 مئی کے واقعات میں فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے مقدمات ملٹری کورٹس میں چلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ان وکلا کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ فوجی ٹرائل میں مقدمات چلانے کے عمل کو کالعدم قرار دے دیتی ہے تو اس کے نتائج کسی غیر معمولی واقعہ کو جنم دے سکتے ہیں۔
ادھر فوجی ٹرائل کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے معاملے کو پی ٹی آئی اپنی کامیابی سمجھ رہی ہے۔ پہلے ہی یہ تاثر عام تھا کہ فوجی ٹرائل کے خلاف سپریم کورٹ میں اب تک جتنی درخواستیں دائر کی گئیں۔ اس میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی منشا شامل تھی۔ یعنی یہ ایک طرح سے بظاہر پراکسی پٹیشنز تھیں۔ خاص طور پر پی ٹی آئی رہنما حامد خان ایڈووکیٹ کے پروفیشنل گروپ سے تعلق رکھنے والے وکلا فوجی ٹرائل کے خلاف سب سے زیادہ متحرک ہیں۔ اگرچہ عاصمہ جہانگیر مرحومہ سے منسوب انڈیپنڈنٹ گروپ کے وکلا نے بھی فوجی ٹرائل نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ لیکن ان کی تجویز میں وہ شدت نہیں پائی جاتی۔ جو تحریک انصاف کے حامی وکلا دکھارہے ہیں۔
