جسٹس ثاقب نثار کا پھر اپنے واٹس ایپ ہیک ہونے کا واویلا

 

سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار کی کئی سازشی آڈیوز اور ویڈیوز حکام تک پہنچ چکی ہیں جنہیں کسی بھی وقت سامنے لایا جا سکتا ہے۔ آڈیوز اور ویڈیوز کی صورت میں اپنی ماضی کی سیاہ کاریاں سامنے آنے کے خدشات کا شکار سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اب خود ہی ایف آئی اے سے رابطہ کر لیا ہے۔ میاں ثاقب نثار نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ’ہیک‘ ہونے والے واٹس ایپ اکاؤنٹ کی ریکوری کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائمز ونگ کو شکایت درج کرائی گئی ہے۔ سابق چیف جسٹس کے مطابق یہ شکایت ان کے بیٹے نے سائبر کرائم ونگ میں ’آن لائن‘ درج کرائی تھی۔

تاہم میاں ثاقب نثار کا دعویٰ ہے کہ ایف آئی اے نے ابھی تک ان کے بیٹے کی شکایت پر مقدمہ درج نہیں کیا اور نہ ہی تفتیشی ایجنسی نے شکایت درج کرنے کی تصدیق کی ہے، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کہ ایف آئی اے نے شکایت درج کرانے کے بعد ان کے بیٹے سے رابطہ نہیں کیا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ہیکر نے ان کی ذاتی چیٹ سے کچھ معلومات لیک کی ہیں تو ثاقب نثار نے نفی میں جواب دیا۔سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ابھی تک ہیکر کی شناخت معلوم نہیں ہوسکی ہے اور وہ اُس کے مستقبل کے اقدامات سے لاعلم ہیں۔

دوسری طرف یف آئی اے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایجنسی، سابق چیف جسٹس کے بیٹے کی شکایت پر ادارے کے ایس او پیز پر عمل کرے گی۔ذرائع نے بتایا کہ ایجنسی کو اپنے آن لائن پورٹل اور دیگر فورمز کے ذریعے بہت زیادہ شکایات موصول ہوتی ہیں لیکن اس کے پاس ان تمام شکایات پر کارروائی کرنے کے لیے مطلوبہ عملے کی کمی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایف آئی اے سائبر کرائمز کے انسداد کے لیے درکار جدید آلات سے لیس نہیں ہے۔

دوسری جانب آج کل جس طرح سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے وضاحتوں کا سلسلہ جاری ہے اور انھوں نے تازہ بیان یہ داغ دیا ہے کہ میرا واٹس ایپ ہیک ہو گیا ہے اور خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ان کے ڈیٹا کو کسی خاص مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یعنی انھوں نے چوری پکڑے جانے سے پہلے ہی اپنی عزت تار تار ہونے کا واویلا شروع کر دیا ہے تاکہ انھیں شک کا فائدہ پہنچ سکے کہ شاید سامنے آنے والی آڈیوز ان کی نہیں بلکہ جعلی ہیں۔

خیال رہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ چندروز قبل میرا وٹس ایپ ہیک ہو گیا تاحال ریکور نہیں کیا جا سکا۔ خدشہ ہے کہ میرے موبائل ڈیٹا کو کسی خاص مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے تاہم اپنی خفت کو مٹاتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ میرا وٹس اپ ہیک کرنے والوں کو شرمندگی ہی ہوگی۔ اس سے قبل بھی میری مختلف ویڈیوز کو جوڑ کر ایک آڈیو بنائی گئی تھی۔ کسی کی نجی زندگی میں مداخلت چوری کے زمرے میں آتا ہے۔ ان کی ایسی بے ربط باتوں سے لگتا ہے کہ ان کے واٹس ایپ میں موجود اچھا خاصہ مواد متعلقہ لوگوں کے ہاتھ لگ چکا ہے جس میں ان کے متنازع فیصلوں اور ہینڈلرز بارے تمام معلومات موجود ہے اور اپنی چوری سامنے آ جانے کے خوف سے ہی میاں ثاقب نثار نے وضاحتوں کا سلسلہ جاری کر رکھا ہے۔

دوسری طرف متوقع آڈیولیک کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صحافی عادل شاہ زیب کا کہنا تھا کہ انہیں مکمل یقین ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار  کا واٹس ایپ ہیک ہونے والا بیان اس بات کی پیشگی اطلاع ہے کہ ان کے واٹس ایپ کے ڈیٹا کو جوڑ کر ان کی جعلی آڈیو بنائی جائے گی۔ صحافی نے مزید کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ سابق چیف جسٹس کی آڈیو ریلیز ہونے والی ہے جس سے بہت سے لوگ چونک جائیں گے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل صحافی عمر چیمہ نے بھی اپنےوہ-لاگ میں کہا تھا کہ آڈیو لیکس کا طوفان ابھی تھمتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ کچھ آڈیو لیکس آچکی ہیں اور آئندہ کچھ دنوں میں مزید  آنے  کا خطرہ ہے۔ یہ وہ آڈیو ٹیپس ہیں جس میں ماضی اور حال دونوں کی ریکارڈنگز ہیں۔ ان میں حاضر سروس اور سابق دونوں طرح کے جج صاحبان کی مختلف کیسز کے حوالے سے غیر متعلقہ افراد سے گفتگو ریکارڈ ہے۔

گلوکار عاصم اظہر اداکاری کے میدان میں قسمت آزمائی کرینگے

Back to top button