نواز شریف کو چوتھی بار وزیر اعظم بنانے کا ”جھانسہ“ دیا جارہا ہے؟

سینئر صحافی نصرت جاوید نے کہا ہے کہ مسلم لیگ نون کے بعض رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ ان کے لیڈر نواز شریف کو چوتھی بار وطن عزیز کا وزیر اعظم ”منتخب کروانےکا ”جھانسہ“ دیا جارہا ہے۔ان کی فہم کے مطابق نواز شریف صاحب کی وطن آمد کے لئے ”حفاظتی ضمانت“ ہوبھی گئی۔ وہ چند گھنٹے بھی جیل میں گزارے بغیر عدالت کی اجازت سے لاہور پہنچنے کے بعد مینارِ پاکستان کے جلسے سے خطاب کو بھی چلے گئے تب بھی ان کا وزارت عظمیٰ تک پہنچنے کا راستہ صاف نہیں ہوگا. اپنے ایک کالم میں نصرت جاوید شمالی اور وسطی پنجاب کے مسلم لیگ نون کے رہنماؤں کے خدشات بیان کرتے ہیں جن کا خیال ہے کہ الیکشن کی تاریخ اور شیڈول آگیا اور میاں نواز شریف نے قومی اسمبلی کے کسی حلقے سے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تو ان کے خلاف اعتراضات اٹھائے جائیں گے۔ ممکنہ اعتراضات کی وجہ سے نواز شریف کو قومی اسمبلی کی کسی نشست سے خود کوامیدوار کھڑاہونے کا اہل ثابت کرنے کے لئے طویل قانونی جنگ لڑنا ہوگی۔ اس عمل میں کم از کم 10سے 14مہینے لگ سکتے ہیں۔ نوازشریف فی الفور چوتھی مرتبہ وزیر اعظم بننے کے اہل نظر نہ آئے تو ان کی جماعت کو آئندہ انتخابات میں سادہ اکثریت کے حصول میں بھی بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کا نتیجہ ایک بار پھر وفاق اور پنجاب میں مخلوط حکومتوں کی صورت بھگتنا ہوگا جو پاکستان کے دائمی مسائل کے حل کے لئے سخت فیصلے لینے کی سکت سے محروم ہوں گی اور یوں ایک بار پھر مسلم لیگ (نون) کا ”بچا کچھا بھرم“ خاک میں مل جائے گا. نصرت جاوید بتاتے ہیں کہ 2021 کے دسمبر میں مسلم لیگ (نون) کے ایک اہم رہ نما کے فرزندکی اسلام آباد کے ایک مشہور ہوٹل میں دعوت ولیمہ میں مسلم لیگ (نون) کے تین کے قریب رہ نما جو 1990سے اپنے حلقوں میں انتخاب میں حصہ لیتے ہوئے ہارتے یا جیتتے رہے ہیں وقفوں سے مجھے ہال سے باہر نکال کر ایک کونے میں لے جاتے رہے اور سرگوشیوں میں میرے روبرو اصرار کرتے رہے کہ ان کی دانست میں پیپلز پارٹی ایک سازش کے تحت ان کی جماعت کو عمران حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کو ”ورغلا“ رہی ہے۔انہیں یقین تھا کہ اکتوبر2021میں آئی ایس آئی کا سربراہ لگانے کے عمل نے عمران حکومت کو مقتدر حلقوں کے ساتھ ”سیم پیج“ پر رہنے نہیں دیا۔ لہٰذا عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی تو بآسانی کامیاب بھی ہوجائے گی اس لئے ان کی جماعت کو تحریک عدم اعتماد پیش کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔بہتر یہی ہوگا کہ ”عمران خان کو لانے والے“ اب ”موصوف کا اصل“ بھی جان لیں۔مسلم لیگ کونے میں بیٹھ کر ان کے مابین ابھرتے اختلافات سے لطف اٹھائے۔ گفتگو کرنے والے مسلم لیگی شمالی اور وسطی پنجاب میں قومی اسمبلی کے تین اہم حلقوں سے 2018کا انتخاب ہارچکے تھے . عمران حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے تصور سے وہ فطری طورپر گھبرائے ہوئے تھے۔انہیں یقین تھا کہ اگر عمران حکومت کو آئینی مدت مکمل کرنے دی جائے تو 2023کا انتخاب لڑنے کے لئے تحریک انصا ف سے پاکستان کے کئی حلقوں میں نام نہاد الیکٹ ایبلز رابطہ ہی نہیں کریں گے۔ پنجاب کا اس تناظر میں خاص طورپر ذکر ہوا جہاں عثمان بزدار کی وزارت اعلیٰ آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے صوبے کو تحریک انصاف سے بیزار بنانے کا سبب بتائی گئی۔ مسلم لیگی رہ نماوں کو یقین تھا کہ اگر عمران حکومت کو آئینی مدت مکمل کرنے دی جائے اور اس کے بعد بروقت انتخاب ہوجائیں تو نون لیگ 1997کی طرح ہیوی مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں لوٹ سکتی ہے۔ نصرت جاوید کہتے ہیں کہ دسمبر 2021 میں ہوئی اس گفتگو کے بعد اپریل 2022میں تحریک عدم اعتماد بالآخر پیش ہوکر کامیاب بھی ہوگئی۔ عمران خان اس کے بعد اپنے عہد کے مطابق ”مزید خطرے ناک“ ہوگئے۔ مسلم لیگ (نون) نے دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر بھان متی کا کنبہ دکھائی دیتی ایک حکومت بنائی۔اس حکومت نے پاکستان کو دیوالیہ سے بچانے کے نام پر مسلسل 16مہینوں تک پاکستان کے عوام کو مہنگائی کے عذاب میں مبتلا رکھا۔مسلم لیگ (نون) کا ووٹ بینک اس کی وجہ سے دق زدہ محسوس ہورہا ہے۔اس ووٹ بنک کو دوباہ حاصل کرنے کے لئے نواز شریف کو 21اکتوبر کے دن پاکستان لانے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ عجب اتفاق یہ ہوا کہ مسلم لیگ کے جن تین رہ نما?ں سے میری دسمبر2021میں ہوئی ایک شادی میں گفتگو ہوئی تھی وہ حال ہی میں ہوئی شادی کی دو تقاریب میں مجھے علیحدہ علیحدہ ملے۔ وہ تینوں اس بار بھی گھبرائے ہوئے تھے۔ انہیں خدشہ تھا کہ ان کے قائد کے خلاف مبینہ طورپر ایک اور ”سازش“ تیار ہوگئی ہے۔ اب کی بار مگر”سب پہ بھاری“ کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔ سرگوشیوں میں اشارے ”ان“ کی جانب ہورہے ہیں۔ مجھ سے بات کرنے والے مصر تھے کہ نواز شریف کو چوتھی بار وطن عزیز کا وزیر اعظم

ایس ایم ظفر نےنور جہاں کو پردہ دار خاتون کیسے ثابت کیا؟

”منتخب کروانے“کا ”جھانسہ“ دیا جارہا ہے.

Back to top button