اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کی فوری وطن واپسی روک دی؟

سابق وزیراعظم و رہنما مسلم لیگ (ن) شہباز شریف برطانیہ سے وطن واپسی کے محض 48 گھنٹے بعد ہی دوبارہ لندن روانگی نے کئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔ جہاں ایک طرف شہباز شریف اور مریم نواز کی لندن روانگی کو سیاسی تجزیہ کار لیگی قائد نواز شریف کی وطن واپسی میں تاخیر سے جوڑتے نظر آتے ہیں وہیں دوسری طرف بعض تجزیہ کاروں کے مطابق شہباز شریف لیگی قائد کیلئے اسٹیبلشمنٹ کا خصوصی پیغام لے کر لندن روانہ ہوئے ہیں۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق مریم نواز اور شہباز شریف کی لندن روانگی نے کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں کیونکہ مریم نواز ہر صورت 21 اکتوبر کو نواز شریف کی واپسی جبکہ شہبازشریف تاخیر چاہتے ہیں تاہم حتمی فیصلہ نوازشریف ہی کریں گے۔ذرائع کے مطابق نوازشریف کی پاکستان واپسی کی تاریخ میں ممکنہ طور پر تبدیلی کا امکان ہے۔ذرائع کا مزید دعویٰ ہے کہ مسلم لیگ ن میں دھڑے بندیوں اور بیانیے کی وجہ سے نواز شریف نے شہباز شریف کو لندن طلب کیا ہے۔ ن لیگ کے قائد اب خود پارٹی میں دھڑے بندیوں سے متعلق معاملات حل کریں گے اور یہ بھی طے کرینگے کہ آئندہ کیلئے مسلم لیگ ن کا بیانیہ کیا ہو گا۔
دوسری جانب اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سیاسی صورت حال ایک جمود کے بعد اچانک تیزی کے ساتھ بدل رہی ہے۔ایک طرف مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے 21 اکتوبر کو وطن واپس آنے کا اعلان کر دیا ہے۔تو الیکشن کمیشن نے جنوری کے آخری ہفتے میں انتخابات کروانے کا عندیہ دے دیا ہے۔سپریم کورٹ کی طرف سے نیب ترامیم ختم کیے جانے کے بعد درجنوں سیاستدانوں کے مبینہ کرپشن کیسز کھل چکے ہیں اور بڑی تیزی کے ساتھ احتساب عدالتوں میں مقدمات کی واپس کی گئی فائلیں پہنچا دی گئی ہیں۔تحریک انصاف کی لیڈر شپ یا تو اسیری میں ہے یا روپوش۔ پیپلزپارٹی نے دبے اور کھلے لفظوں میں مسلم لیگ ن کو اپنے نشانے پر رکھ لیا ہے۔ جب سب صحافی اور تجزیہ کار یہ پیشین گوئیاں کر رہے تھے کہ نواز شریف کے لیے سٹیج تیار ہو چکا ہے تو اس سارے ہنگام میں دو تین روز میں ایسے واقعات ہوئے ہیں جنہوں نے اچانک تیز گام تجزیوں کو وہیں روک دیا ہے۔
ہوا کچھ یوں ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے جب واپسی کا اعلان کیا تو مسلم لیگ ن نے زوروشور سے ان کے استقبال کی تیاریاں شروع کر دی۔خود نواز شریف نے لاہور کے فلیٹیز ہوٹل میں منگل کے روز کارکنوں سے خطاب میں دو جرنیلوں اور چار ججوں کے احتساب کی بات کی تھیں جنہوں نے مبینہ طور پر ان کی حکومت کے خلاف سازش کی۔ جب نواز شریف یہ بیان دے رہے تھے تو شہباز شریف وزارت عظمیٰ ختم ہونے کے بعد لندن میں ایک مہینہ گزارنے کے بعد پاکستان واپس آریے تھے جبکہ ادھر سے مریم نواز لندن جانے کے لیے تیار بیٹھی تھیں۔شہباز شریف کو واپس آئے ابھی 24 گھنٹے بھی نہیں ہوئے تھے کہ انہیں نواز شریف نے واپس لندن طلب کر لیا۔جمعرات کی صبح مریم نواز کا ٹکٹ پہلے ہی بک تھا شہباز شریف نے بھی ٹکٹ بک کروایا اور چچا بھتیجی علیحدہ علیحدہ لندن کی طرف روانہ ہو گئے۔
واضح رہے کہ شہباز شریف اور مریم نواز کی لندن روانگی کے حوالے سے کچھ قیاس آرئیاں نواز شریف کے حالیہ خطاب کے حوالے سے بھی ہو رہی ہیں جس میں انہوں کچھ سابق جرنیلوں کے حوالے سے کہا تھا کہ وہ قومی مجرم ہیں جنہیں معاف نہیں کیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیانیے سمیت سپریم کورٹ کے نیب ترمیم کو کالعدم قرار دے کر تمام نیب ریفرنسز بحال کرنے کے فیصلے پر بھی مشاورت ہوگی۔ نواز شریف کی 21 اکتوبر کو لندن سے لاہور روانگی کے ضمن میں بھی اہم پیش رفت ہوسکتی ہے۔
سینئر تجزیہ نگار سلمان غنی کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے پاس نواز شریف کی واپسی کا آخری کارڈ ہے جس کے استعمال کو روکنے کے لیے کچھ قوتیں سرگرم ہیں تاکہ نواز شریف 21 اکتوبر کو پاکستان واپس نہ آئیں۔’ہو سکتا ہے کہ شہباز شریف یہی پیغام لے کر اچانک لندن روانہ ہوئے ہوں حالانکہ نواز شریف کی واپسی کی تاریخ کے حوالے سے لندن میں شہباز شریف نے خود ہی اعلان کیا تھا۔ نواز شریف اب واپس آئیں گئے یا نہیں اس کا انحصار ان پر ہے۔‘سلمان غنی کے مطابق مسلم لیگ ن کے لیے اگر کوئی امید ہے تو وہ نواز شریف کی وطن واپسی اور ان کا الیکشن مہم میں حصہ لینا ہے۔ اگر نواز شریف وطن واپس نہیں آتے تو مسلم لیگ ن کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہوگا۔ کچھ قوتیں چاہتی ہیں کہ نواز شریف نہ آئیں وہ یہاں پر کوئی الیکشن مہم نہ چلائیں۔’اب دیکھنا یہ ہے کہ نواز شریف رکتے ہیں یا نہیں یہ بڑا اہم فیصلہ نواز شریف کا ہوگا، شہباز شریف ریاستی اداروں سے مفاہمت کے قائل ہیں جبکہ نواز شریف ووٹ کو عزت دو کی بات کرتے ہوئے لوگوں کی آواز بننے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ یہ تضاد ہے دونوں بھائیوں کے درمیان، لیکن شہباز وزیر اعظم اس وقت ہی بنتے ہیں جب نواز شریف انہیں بناتے ہیں۔پاکستانی سیاست پر اتھارٹی سمجھے جانے والے سینئر صحافی سہیل وڑائچ سے جب اس صورت حال پر تجزیہ لینے کے لیے رابطہ تو ان کا کہنا تھا ’یہ صورت حال ایسی ہے کہ اس پر ابھی کچھ بھی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔ میں خود بھی صورت حال ابھی دیکھ رہا ہوں۔‘
دوسری جانب لندن سے سینئر صحافی مرتضٰی علی شاہ کا کہنا ہے کہ مختلف تجزیہ کار کہہ رہے ہیں کہ شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کا پیغام لے کر نواز شریف کے پاس جا رہے ہیں لیکن یہ بات درست نہیں ہے۔ شہباز شریف کو مڈل ایسٹ سے تعلق رکھنے والی ایک شخصیت سے ملاقات کے لیے فوری طور پر لندن آنا پڑا ہے۔جبکہ نواز شریف کی وطن واپسی میں تاخیر کی خبروں میں بھی کوئی صداقت نہیں۔ نواز شریف 21 اکتوبر کو پر صورت پاکستان واپسی کا مصمم پلان بنا چکے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ احتساب نواز شریف کے بیانیے کا پکا حصہ ہوگا چاہے اس کے نتائج کچھ بھی نکلیں۔ پاناما بنچ والے ججز پر تنقید کو نواز شریف نہیں چھوڑیں گے۔ جنرل باجوہ اور جنرل فیض پر تنقید کرنے پر اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کوئی پابندی نہیں ہے۔
معروف صحافی اور ٹی وی اینکر اجمل جامی کا کہنا ہے کہ ’یہ درست بات ہے کہ اس بار کسی کے پاس کوئی درست معلومات نہیں ہے۔ تاہم موجودہ صورت حال اور واقعات کا جائزہ لیا جائے تو بار بار بار ذہن اس طرف جاتا ہے کہ نواز شریف نے اپنی تقریر میں جنرل باجوہ اور جنرل فیض کے جو احتساب کی بات کی ہے اس سے تاثر یہ آیا تھا کہ وہ اپنے وطن واپسی کے بیانیے کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔’’ہو سکتا ہے کہ شہباز شریف جو فائر فائٹر سمجھے جاتے ہیں وہ سیز فائر کے لیے متحرک ہوئے ہوں۔ یہ صرف ایک رائے ہو سکتی ہے کیونکہ بظاہر اور کوئی چیز دیکھائی نہیں دے رہی ہے۔‘
دوسری جانب شریف خاندان کے اس اچانک ہونے والے لندن میں اکٹھ پر نواز شریف کے ایک بہت ہی قریبی ساتھی نے اردو نیوز کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’یہ ایسی صورت حال ہے جس کا پارٹی کے اندر کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے جو کوئی بھی کہ رہا ہے کہ اسے پتا ہے تو وہ درست بات نہیں کر رہا ہے۔ میں میاں صاحب کے بہت قریب ہوں میرے علم میں کچھ بھی نہیں ہے بلکہ پارٹی کے اعلی قیادت بھی لاعلم یے۔ جو کچھ بھی ہے وہ نواز شریف شہباز شریف اور مریم نواز کے درمیان ہے لیکن جو کچھ بھی ہے
جماعت اسلامی کا مہنگائی کیخلاف گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا جاری
، ہے غیر معمولی۔‘
