21 اکتوبر کو نواز شریف کی وطن واپسی پہلے سے مختلف کیوں؟

پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارنے کے بعد 21 اکتوبر کو لاہور پہنچ رہے ہیں۔ نواز شریف کے سیاسی کیریئر میں یہ تیسری مرتبہ ہے کہ وہ عملی سیاست سے دور رہنے کے بعد اپنی جماعت کی سیاست بچانے کی کوشش کرنے کے لیے وطن واپس آ رہے ہیں۔تاہم گزشتہ ادوار میں نواز شریف کی دو مرتبہ واپسی ان کے لیے پریشانی کا باعث رہی۔ ستمبر 2007 میں جب انہوں نے وطن واپس آنے کی کوشش کی تو انہیں اسلام آباد ایئرپورٹ سے ہی واپس سعودی عرب بھیج دیا گیا جبکہ جولائی 2018 میں انہیں بیٹی مریم نواز کے ہمراہ ایئر پورٹ سے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ دسمبر 2018 میں نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں کمرہ عدالت سے ہی گرفتار کیا گیا تھا جبکہ اکتوبر 2019 میں ان کو طبی بنیادوں پر ضمانت ملی۔ نومبر 2019 میں نواز شریف کو ایئر ایمبولنس کے ذریعے لندن روانہ کیا گیا جس کے بعد ان کی واپسی نہیں ہو سکی۔اب 21 اکتوبر 2023 کو نواز شریف نے وطن واپسی کا ارادہ کیا ہے اور پارٹی سطح پر ان کے استقبال کے لیے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔

نواز شریف کی تیسری مرتبہ باقاعدہ واپسی سے متعلق صحافی مجیب الرحمان شامی بتاتے ہیں ’2007 میں تو پرویز مشرف نہیں چاہتے تھے کہ نواز شریف واپس آئیں اس لئے ان کی راہ میں رکاوٹیں حائل کی گئیں اور انھیں ائیرپورٹ سے ہی واپس بھیجا گیا تاہم اب تو ان کے مخالفین بھی چاہتے ہیں کہ نواز شریف واپس آئیں۔ ان کی واپسی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ آنے کے بعد ان کے ساتھ کیا ہوگا یہ ایک الگ بحث ہے۔‘تاہم مجیب الرحمان شامی نے ان کی واپسی کے متعلق چند سوالات اٹھاتے ہیں کہ کیا نواز شریف کو عدالت کے سامنے پیش ہونا ہو گا، کیا گرفتار ہونا ہو گا، کیا وہ ایک آزاد شہری کی طرح مینار پاکستان میں خطاب کریں گے؟’یہ آنے کے بعد ہی طے ہو سکتا ہے لیکن یہ طے ہے کہ اس بار نہ تو کوئی رکاوٹ ہے اور نہ کسی کی خواہش ہے کہ وہ نہ آئیں۔‘

دوسری جانب سینئر لیگی رہنما راجہ ظفر الحق کا ان سوالوں کے جواب میں کہنا ہے کہ ’پہلے دو مرتبہ کے مقابلے میں اس بار نواز شریف کی واپسی زیادہ متحرک سیاسی سرگرمی معلوم ہوتی ہے۔ وہ آتے ہی عدالت میں جائیں گے، لیگل ٹیم نے تیاری کی ہوئی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی عوام کوئی پروگرام چاہتے ہیں تاکہ معاملات سیدھے ہو جائیں۔‘لیکن فرق یہ ہے کہ اس مرتبہ نواز شریف کی واپسی نگران سیٹ اپ کے دور حکومت میں ہو رہی ہے۔زمانہ طالب علمی سے پاکستان مسلم لیگ کے ساتھ منسلک رہنے والے راجہ ظفر الحق کے مطابق اس وقت نواز شریف سے عوام کو سے بڑی امیدیں ہیں۔ کیونکہ نواز شریف کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ترقیاتی سیاست کرتے ہیں۔ مہنگائی کم کرنا، سی پیک، ایٹمی دھماکے ان کی زندگی انہی خطوط کے اوپر استوار ہے۔ یہ امیدیں پہلے بھی تھیں اور اب تو اور زیادہ ہیں۔‘
اس حوالے سے افتخار احمد کہتے ہیں کہ ’اگر نواز شریف گھر تک پہنچتے ہیں تو انہیں اپنے اوپر مقدمات دیکھنے ہوں گے، اصل مسئلہ یہی ہوگا کہ عدالتی مسائل کیسے حل کریں گے؟ اگران کے پاس کوئی حل نہیں ہو گا تو جیل جانا ناگزیر ہے۔‘افتخار احمد کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس یا پندرہ سال پہلے کے مقابلے میں آج کا پاکستان بہت سنگین ڈگر پر کھڑا ہے۔’ہم ہر طرف سے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ بہت بنیادی چیزوں کو طے کرنا ہے۔ یہ مسائل تقریر سننے یا کرنے سے حل نہیں ہوں گے۔ ہر چیز کے بارے میں منشور دینا ہوگا کہ کیسے چیزوں کو کنٹرول کرنا ہے۔‘
سینئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نواز شریف کی اس بار وطن واپسی کو گزشتہ واپسی کے مقابلے میں آسان بتاتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ان کا ماننا ہے ’قانونی معاملات تو ان کے لیے راستہ نہیں روکیں گے لیکن سیاسی طور پر اپنے لوگوں کو متحرک کرنا اور سرگرم کردار ادا کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔‘گزشتہ ادوار کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ پہلے قانونی، عدالتی اور حکومتی نوعیت کے چیلنجز تھے لیکن اب عدالتی سطح پر ان کے مخالفین موجود نہیں ہیں اور ان کی بات بھی سنی جائے گی۔’حکومتی سطح پر ان کے خلاف کوئی شخص برسراقتدار نہیں ہے۔ وہ مانتے ہیں کہ اس وقت کسی کو دلچسپی نہیں کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے۔ ان کے سامنے سیاسی چیلنج موجود ہے۔ انہوں نے سیاسی طور پر اپنی ساکھ کو بحال کرنا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ایک

اذان سمیع کے اپنے باغی والد سے تعلقات کیسے بہتر ہوئے؟

آزاد پنچھی ہیں۔‘

Back to top button