الیکشن میں نون لیگ کو سولو فلائٹ کا فائدہ ہو گا یا نقصان؟

پاکستان میں گذشتہ چند روز کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی جانب سے دیے گئے بیانات نے ملک میں سیاسی گہما گہمی کا آغاز کر دیا ہے اور یوں کئی ماہ کی غیریقینی صورتحال کے بعد اب بالآخر ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔
تازہ ترین بیان میں وفاقی وزیر داخلہ اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ آئندہ انتخابات میں پنجاب میں کسی سیاسی جماعت سے اتحاد نہیں کرے گی بلکہ الیکشن میں قومی و صوبائی نشستوں کے لیے ہر حلقے میں اپنے امیدوار اتارے گی۔عام انتخابات میں صوبے کے ہر حلقے میں شیر کا نشان موجود ہو گا۔‘
اگر ماضی کے ضمنی انتخابات کے نتائج کا جائزہ لیں تو مسلم لیگ ن کو اپنے سخت سیاسی حریف پاکستان تحریک انصاف سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور حلقے کی سطح پر بھی اس کے ووٹ بینک میں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔اس صورتحال میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے اور دوست ممالک سے قرضہ لینے کے اقدام نے مسلم لیگ ن کو انتخابی اعتماد فراہم کیا ہے یا پھر یہ جماعت پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تناؤ کے بعد صوبے میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا کا فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے؟
پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کی سینیئر رہنما عظمیٰ بخاری کا اس ھوالے سے کہنا ہے کہ ملک میں انتخابات کا ماحول بن گیا ہے اور اگلے چند ماہ میں انتخابات ہونے والے ہیں ایسے میں مسلم لیگ ن نے اپنی انتخابی مہم کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کا اگلے انتخابات میں کسی سیاسی جماعت سے انتخابی اتحاد نہ کرنے کے فیصلے کی بنیاد عوام کے اعتماد اور ہماری جماعت کی کارکردگی پر ہے۔عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ’مسلم لیگ ن کا انتخابی اتحاد نہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پارٹی کے اندر بھی ایک ایک حلقے کی سیٹ پر پانچ پانچ امیدوار تیار ہیں۔‘وہ کہتی ہیں کہ ’ہمیں تو اندر کی لڑائیاں سلجھانے میں مشکل ہو رہی ہے ایسے میں ہم کسی سے کیا اتحاد کریں گے۔‘جہانگیر ترین کی زیر قیادت حال ہی میں بننے والی سیاسی جماعت استحکام پاکستان پارٹی سے متعلق بات کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ’اس جماعت کے بیشتر ارکان الیکٹیبلز ہیں، وہ چاہے جس بھی جماعت میں ہوں وہ اپنے حلقوں سے جیتتے آئے ہیں۔’لیکن انھیں بھی کسی بڑی جماعت کے ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ یہ جماعت الیکشن میں کیا کرتی ہے اور ان کے ساتھ کیا حکمت عملی طے کی جاتی ہے، یہ ابھی کہنا قبل از وقت ہے۔‘نو مئی کے واقعات کے بعد سے پی ٹی آئی کے خلاف جاری کارروائیوں کے بعد انتخابی سیاست میں آنے والے مکنہ خلا پر بات کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا ’ہمیں کسی کی جگہ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔’عمران خان کا ووٹر اسی جماعت کا رہے گا ہم صرف اپنے جگہ کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔‘
دوسری جانب سینیئر صحافی و تجزیہ نگار مجیب الرحمان شامی نے مسلم لیگ ن کی جانب سے پنجاب میں انتخابی اتحاد کا فیصلہ نہ کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’مسلم لیگ ن کی جانب سے کیے گئے اعلان کو میں قبل از وقت یا بے وقت سمجھتا ہوں۔‘ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کو یہ اعلان کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ جب انتخابی عمل کا آغاز ہوتا تو یہ چیز خود بخود واضح ہو جاتی۔ اس سے انھوں نے استحکام پارٹی والوں کو بھی خبردار کر دیا اور اپنے حلیفوں کو بھی چوکنا کر دیا ہے۔
مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ ’مسلم لیگ ن کو لگتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف پوری قوت سے میدان میں موجود نہیں ہو گی۔‘ان کا کہنا تھا کہ جیسا کہ رانا ثنا اللہ نے یہ بات بھی کہی ہے کہ عمران خان کسی وقت بھی گرفتار ہو سکتے ہیں تو اگر ایسا ہوا تو مسلم لیگ ن کے لیے انتخابی میدان کشادہ ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے مسلم لیگ ن نے ایسے اعلانات کرنے کو مناسب سمجھا جو یقیناً یہ قبل از وقت ہے۔‘
عمران خان کی انتخابات سے قبل گرفتاری سے کیا پی ٹی آئی کو ہمدردی کا ووٹ ملنے کا امکان ہے اور اس سے مسلم لیگ ن کے ووٹ بینک کو دھچکا پہنچ سکتا ہے؟اس کے جواب میں مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ ’معاملہ اس سے آگے بڑھ چکا ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے مؤثر افراد نے اپنی نئی جماعت بنا لی ہے۔ پی ٹی آئی کو اس وقت تنظیمی مشکلات درپیش ہیں اور پارٹی کو از سر نو تنظیم سازی کی ضرورت ہے ایسے میں اگر عمران خان جیل چلے جاتے ہیں تو ووٹر اور پارٹی کے درمیان رابطے کی کڑی کمزور پڑ سکتی ہے اور ایسی صورت میں مسلم لیگ ن کو فائدہ ملے گا۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ہمدردی کا ووٹ ملنے کا امکان کم ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے خلاف بھی ایک بیانیہ بنایا گیا ہے جس نے عوامی رائے کو متاثر کیا ہے اور اب ہمدردی سے زیادہ ایک خوف کے احساس نے جنم لیا ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کے خلاف کئی ماہ سے مسلسل کارروائی ہو رہی ہے اور وہ اس وقت دباؤ میں ہے جس سے ووٹر میں خوف اور غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوتی ہے اور وہ بد دل ہو کر اس عمل سے باہر ہو جاتی ہے جیسا سنہ 1997 میں پیپلز پارٹی کے ووٹر نے کیا تھا۔‘ان کا کہنا ہے کہ ’پنجاب میں ایک کانٹے کا مقابلہ ہو گا اور پی ٹی آئی پر موجود دباؤ کا فائدہ مسلم لیگ ن حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سب پر واضح ہے کہ ’ملکی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پی ٹی آئی کے خلاف ہوا چل رہی ہے اور انتخابات کے ماحول میں جو رابطہ کاری اور میسیجنگ ہوتی ہے اس سے یقیناً عمران خان کے حریفوں خصوصاً مسلم لیگ کو فائدہ ہو گا۔‘ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کا ہمیشہ سے حلقہ اثر رہا ہے جسے پی ٹی آئی نے کم کیا تھا لیکن اب یہ اس کو واپس لینے کی کوشش کرے گی
خیبرپختونخوا میں مسلم لیگ ن کے ممکنہ انتخابی اتحاد کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہاں جے یو آئی (ف) ایک بڑی جماعت ہے۔انھوں نے کہا کہ ’وہاں جے یو آئی ایف اور اس کے حریفوں کے درمیان ٹھنی ہوئی ہے لہٰذا انتخابی اتحاد کی پیش گوئی کرنا قبل از وقت ہے لیکن وہاں کے نتائج قومی اسمبلی کی سطح پر زیادہ اثر انداز نہیں ہوں گے۔‘
سنیئر صحافی اور اینکرپرسن عارفہ نور نے اس بارے میں تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگرچہ اس وقت انتخابات میں کافی وقت ہے اور ممکن ہے کہ سیاسی جماعتوں کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی آ جائے لیکن مسلم لیگ ن نے جو یہ فیصلہ کیا ہے ان کے لیے یہ ہی سب سے بہتر تھا۔‘وہ کہتی ہیں کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران پنجاب کا ووٹ نواز کے حامیوں اور مخالفوں میں بٹا رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کے خلاف ووٹ پی ٹی آئی کے پاس تھا۔ اب وہ ووٹ پی ٹی آئی کے پاس ہے یا نہیں اس کا فیصلہ اگلے انتخابات میں ہو گا لیکن پنجاب میں عمران خان کے علاوہ مسلم لیگ کے خلاف کوئی ایسا سیاسی رہنما نہیں تھا اور ہے جو انھیں چیلنج دے سکے۔
عارفہ نور کا کہنا ہے کہ ’لیکن اس وقت مسلم لیگ ن کو دو بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ ایک مہنگائی کی وجہ سے ان کا ووٹر پہلے ہی ان سے نالاں ہے اور الیکشن کے دن اسے ووٹ کے لیے نکالنے میں انھیں محنت کرنا پڑے گی۔’دوسرا یہ کہ ماضی کے ضمنی انتخابات میں جب بھی مسلم لیگ ن کے کسی اور جماعت کے امیدوار کو ٹکٹ دیا تو انھیں تلخ تجربے سے گزرنا پڑا کیونکہ پارٹی کے ووٹر اور مقامی قیادت نے پارٹی کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا تھا۔‘ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اس وقت ان وجوہات کے باعث مسلم لیگ ن اس بات کی متحمل نہیں ہو سکتی کہ وہ کسی اور پارٹی کے ساتھ انتخابی اتحاد
بجلی کا بل بڑھانے والی عام عادات کونسی ہیں؟
میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر لے اور بعد میں نقصان اٹھائیں۔
