کیا پنجاب میں پرویز الٰہی کے اقتدار کا خاتمہ ہونے جارہا ہے؟

عمران خان کی جانب سے فوجی قیادت پرحملوں میں تیزی آنے کے بعد اب ایک مرتبہ پھریہ افواہیں گرم ہوگئی ہیں کہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کے اقتدار کا خاتمہ ہونے جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب میں حکومت کی تبدیلی کے لیے سب سے تگڑی آپشن تو چوہدری شجاعت حسین کی جانب سے اپنے 10 منحرف اراکین اسمبلی کو نااہل کروانا ہے جیسا کہ عمران خان نے بطور پارٹی سربراہ کیا تھا۔ یاد رہے کہ عمران خان نے اپنے 25 اراکین پنجاب اسمبلی کو وزارت اعلیٰ کے الیکشن میں حمزہ شہباز کو ووٹ دینے پر الیکشن کمیشن کے ذریعے نااہل کروا دیا تھا۔ اسی فارمولے کے تحت چوہدری شجاعت حسین بھی الیکشن کمیشن کو اپنی ہدایت کے برخلاف حمزہ شہباز کی بجائے پرویز الٰہی کو ووٹ دینے پر نا اہل کروانے کے لیے الیکشن کمیشن سے رجوع کر سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت چودھری شجاعت حسین کی صدارت کا معاملہ الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے جس پر اگلے چند روز میں حتمی فیصلہ آ جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جیسے ہی الیکشن کمیشن چوہدری شجاعت حسین کی پارٹی صدارت کو دوبارہ کنفرم کرے گا، شجاعت حسین اپنے اراکین پنجاب اسمبلی کو پرویز الٰہی کا ساتھ چھوڑنے کی وارننگ دیں گے۔ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو شجاعت حسین الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر نااہلی کا ریفرنس دائر کر دیں گے جس کے بعد پرویزالٰہی کا بطور وزیراعلیٰ برقرار رہنا ممکن نہیں رہے گا۔
سیلاب زدہ علاقوں میں امداد کاموں کے جائزہ کیلئے آرمی چیف کادوہ بلوچستان
قاف لیگ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بننے کے لئے ووٹ دینے والے اراکین اسمبلی پہلے ہی ان سے ناراض ہیں چونکہ ان میں سے کسی ایک کو بھی پنجاب کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ عمران خان نے پرویز الٰہی پر واضح کردیا تھا کہ ان کی 10 نشستوں کے عوض انہیں وزارت اعلیٰ دی جا چکی ہے لہذا اب قاف لیگ کا کوئی آدمی صوبائی کابینہ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ پرویز الٰہی کے وزیراعظم بننے کے فورا ًبعد یہ خبر گرم ہو گئی تھی کہ جس طرح تحریک انصاف نے حمزہ کی حکومت گرانے کے لیے سیاسی اور قانونی وسائل استعمال کیے تھے بالکل ایسے ہی اب (ن) لیگ بھی کرے گی، تاہم ایک مہینے سے زائد وقت گزر جانے کے باوجود مسلم لیگ ن اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے کوئی ہلچل نہیں دیکھی گئی۔
اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے پرویز الٰہی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ شجاعت حسین سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کسی صورت قاف لیگ کے دس اراکین اسمبلی کو نااہل نہیں کروا سکتے۔ انکا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پارٹی صدر کے اختیارات سے متعلق حالیہ فیصلہ واضح ہے جس کی روشنی میں مسلم لیگ (ق) کے 10 اراکین کی ڈس کوالیفیکیشن کی درخواست اگر الیکشن کمیشن میں دائر کی جاتی ہے تو وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پہلے دن ہی فارغ ہو جائے گی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے ان 25 اراکین صوبائی اسمبلی کو نااہل کر دیا تھا جنہوں نے پارٹی چیئرمین عمران خان کی ہدایت کے مطابق وزارت اعلٰی کے لیے ووٹ پرویز الٰہی کو دینے کی بجائے حمزہ شہباز کو دیا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ پارٹی صدر سے زیادہ طاقت اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر کے پاس ہوتی ہے۔ اگر اس کی رائے کی خلاف ورزی ہو گی تو اراکین پر نااہلی کی شق کا اطلاق ہو گا، ورنہ نہیں۔ یعنی اس فیصلے کی روشنی میں ایک جماعت کا صوبائی پارلیمانی لیڈر اپنی پارٹی کے مرکزی صدر سے زیادہ طاقتور اور با اختیار ہو گیا ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے پنجاب اسمبلی کے سپیکرکا انتخاب بھی لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس الیکشن میں آئینی طریقہ کار کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا اور بیلٹ پیپرزپرسیریل نمبر لگا کر سیکرٹ بیلٹ کی آئینی منشا کو سبوتاژ کیا گیا۔ تاہم اس پٹیشن پر بھی ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں آیا۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اب مسلم لیگ ن کے پاس پنجاب میں حکومت کی تبدیلی کےراستے مسدود ہو چکے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی جارحانہ سیاست کی بدولت کچھ امکانات ایسے بھی ہیں کہ شاید ان کی جماعت کے اندر ہی دراڑ پڑ جائے۔ اس کے علاوہ پنجاب حکومت کو کسی قسم کا خطرہ مجھے دکھائی نہیں دے رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے ساری سیاسی کوششوں کے سامنے بند باندھ دیا ہے۔ اگر ن نے کچھ اور اراکین کو ادھر ادھر کر لیا تو وزیر اعلٰی کے خلاف اسی وقت عدم اعتماد کی تحریک آجائے گی۔ اگر ایسا نہیں ہو رہا تو پھر مجھے تو پنجاب کی سیاسی صورت جہاں ہے جیسے ہے کی بنیاد پر دکھائی دے رہی ہے اور چودھری پرویز الٰہی بھی اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔
