ماحولیاتی آلودگی سے سانس لینا بھی خطرناک کیوں ہو گیا؟

پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی اور سموگ ہمارے ماحول کو اس بُری طرح متاثر کر رہی ہے کہ اب کھلی فضا میں سانس تک لینا بھی محفوظ نہیں رہا ہے جس سے بچے اور بڑے مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کی وجہ سے بیماریوں کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے، ان کی موجودہ اور مستقبل کی صحت پر آلودگی کے پڑنے والے ممکنہ اثرات کی وجہ سے تمام بچوں کی بہبود خطرے میں پڑچکی ہے۔۔حکومت نے حال ہی میں صورتحال کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے تمام سکولوں کو جمعے کے روز بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ بچے آلودہ ماحول میں کم از کم تین روز گھر سے باہر نہ نکلیں کیونکہ ہفتہ اور اتوار کو ویسے بھی چھٹی ہوتی ہے۔ اسکے علاوہ سموگ کی وجہ سے موسمِ سرما کی تعطیلات میں بھی توسیع کی گئی۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصہ تک آلودہ ماحول میں سانس لینے کی وجہ سے پاکستانیوں کی اوسط عمر کم ہو رہی ہے اور بچوں کی ذہنی صلاحیتوں بالخصوص ان کے آئی کیو میں واضح کمی واقع ہو رہی ہے۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے صرف موسمی تبدیلیاں ہی نہیں واقع ہو رہیں بلکہ اس کی وجہ سے غربت میں اضافہ، قحط سالی، بیماریوں میں اضافہ، جنگیں، انسانی حقوق کی پامالی اور عالمی امن و امان کو مسائل درپیش آ رہے ہیں۔ اس مسئلے بارے خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی نظراندازی ہماری ماحولیاتی پامالی میں بڑے اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ماحولیاتی تنزلی سے ہر سال پاکستانی معیشت کو تقریباً پانچ سو ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے اور اس میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ اس نقصان میں قحط سالی سے زرعی زمین میں کمی اور اس کا غیر زرعی استعمال، مناسب پانی کی کمی، صحت کے بڑھتے ہوئے مسائل، جنگلات کا کٹاؤ، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات شامل ہیں۔ یہ صورت حال اس قدر بگڑنے لگی ہے کہ یہ اب پاکستانی عوام اور معیشت کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
معاشی اور سماجی وجوہات کی وجہ سے دیہات سے شہروں کی طرف نقل مکانی نے بھی پاکستان میں ماحولیات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس بڑی تعداد میں نقل مکانی نے شہروں میں گنجائش سے زیادہ لوگوں کو آباد کر دیا ہے، جس نے شہری ڈھانچے اور سہولیات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
اس بڑھتی ہوئی شہری آبادی سے فضائی آلودگی اور صحت و صفائی کے خطرناک مسائل بھی پیدا ہوگئے ہیں۔ فضائی آلودگی نے بڑے شہروں میں صحت کے پہلے سے ناپید خطرناک مسائل کو جنم دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ آلودگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی مضر صحت دھند اب بڑے شہروں میں معمول کا حصہ بن گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی آلودگی اور دھند نے صحت کے مسائل کے علاوہ کاروبار زندگی کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ ڈیزل والی گاڑیاں، دو سٹروک انجن والے موٹر سائیکل اور رکشوں کے استعمال سے بڑھتی ہوئی صحت کے لیے نقصان دہ کاربن فضا میں ہمہ وقت موجودگی کا سبب بنتی جا رہی ہے۔
شہروں میں بڑھتی ہوئی تعمیرات اور نئی ہاؤسنگ سوسائٹی کی وجہ سے اینٹوں کے بھٹوں کا بڑھتا ہوا استعمال اور کوڑا جلانے سے فضا میں مضر صحت گرد میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق 2025 تک پاکستان کی آبادی تقریباً 23 کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ جائے گی جس کا مطلب بڑے شہروں میں گاڑیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس عرصے میں تقریباً 30 لاکھ مزید گاڑیاں بشمول موٹرسائیکلیں اور رکشے سڑکوں پر موجود ہوں گے اور موجودہ سطح سے آلودگی میں مزید اضافے کا باعث بنیں گے۔ آبادی کے بڑھنے سے ہمارے پانی کے ذخائر پر بھی برا اثر پڑے گا اور ان میں نہ صرف کمی آئے گی بلکہ ان کی آلودگی میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہو گا۔ لہذا بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومت کو ایک جامع پالیسی تیار کرنا ہوگی۔
