PTI کو الیکشن سے پہلے بلا واپس ملنا ناممکن کیوں؟

الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دے کر انتخابی نشان بلا واپس لئے جانے کے بعد جہاں ایک طرف سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے کہ پی ٹی آئی آئندہ الیکشن کس انتخابی نشان پر لڑے گی؟ اور بلا واپس لئے جانے کے بعد پی ٹی آئی امیدواروں کی سیاسی حیثیت کیا ہو گی؟ اور کیا تحریک انصاف الیکشن سے قبل اپنا انتخابی نشان واپس لے پائے گی؟ روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے لیے اپنا انتخابی نشان ’’بلا‘‘ واپس لینا اتنا آسان نہیں۔ اگر یہ انتخابی نشان اسے واپس مل بھی گیا تو اس میں وقت لگے گا۔ بظاہر ایک ڈیڑھ ہفتے میں ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ ایسے میں امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ کرنے کی آخری تاریخ نزدیک آچکی ہو گی۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے 22 دسمبر کو تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دیتے ہوئے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا تھا۔تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن پاکستان کے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم اس کے وکلا اس الجھن میں رہے کہ فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے یا ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے۔اس معاملے سے آگاہ ذرائع نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو لے کر پی ٹی آئی جو کہ اس وقت وکلا کے کنٹرول میں ہے سخت کنفیوژن کا شکار ہے۔ فیصلہ آنے کے بعد پی ٹی آئی کے وکلا یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ الیکشن کمیشن پاکستان کے فیصلے کے خلاف کس عدالت میں اپیل دائر کی جائے۔

بیرسٹر گوہر سمیت بعض وکلا کا موقف تھا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے کیونکہ پہلے بھی پی ٹی آئی کو اس معاملے پر پشاور ہائی کورٹ سے ریلیف مل چکا ہے، جب عدالت عالیہ نے الیکشن کمیشن کو حتمی فیصلہ کرنے سے روک دیا تھا اور بعدازاں چوبیس دسمبر تک فیصلہ سنانے کا حکم دیا گیا۔ تاہم بیرسٹر گوہر کے موقف کے برعکس پی ٹی آئی کے دیگر وکلا نے دوبارہ پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کے بجائے سپریم کورٹ جانے کو قانونی طور پر بہتر سمجھتے ہیں۔ گزشتہ چند فیصلوں میں پی ٹی آئی کو سپریم کورٹ کی طرف سے بھی ٹھنڈی ہوا آئی ہے۔

ذرائع کے بقول جب اس ایشو پر وکلا کے مابین اتفاق نہ ہو سکا تو معاملے کو عمران خان کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یوں کنفیوژڈ وکلا نے ہفتے کے روز اڈیالہ جیل جاکر عمران خان سے ملاقات کی۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو منگل کی صبح عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ تاہم عمران خان سے ملاقات کے باوجود یہ طے نہیں ہو سکا ہے کہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے یا ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے۔ اس پر مشاورت چل رہی ہے۔ امکان ہے کہ منگل تک اس بارے میں حتمی فیصلہ ہو جائے گا۔

یاد رہے کہ کاغذات نامزدگی حاصل کرنے اور جمع کرانے کی تاریخ اتوار کو ختم ہو چکی ہے۔ تحریک انصاف کی کوشش تھی کہ اس مدت کے ختم ہونے سے پہلے بلے کا انتخابی نشان واپس حاصل کر لیا جائے تاہم یہ کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔

ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے امیدواروں کو اصل مسئلہ انتخابی نشان کی الاٹمنٹ کے وقت درپیش ہو گا۔ یہ عمل تیرہ جنوری کو ہونا ہے۔ جس کے بعد بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا کام شروع ہو جائے گا۔ اگر اس وقت تک پی ٹی آئی کو اپنا انتخابی نشان بلا واپس نہ مل سکا تو پھر اس کے امیدواروں کو آزاد حیثیت میں اپنے الگ الگ انتخابی نشان پر الیکشن لڑنا پڑے گا۔ اس صورت میں تحریک انصاف کو دو سو ستائیس مخصوص نشستوں سے محروم ہو جائے گی اور دوسری جانب بالخصوص دیہی علاقوں میں اس کے ووٹرز کو بھی کنفیوژن ہو گی۔ جبکہ الیکشن جیتنے والے پی ٹی آئی امیدواروں کے کسی دوسری پارٹی کو جوائن کرنے پر قدغن نہیں ہو گی کہ ان پر پارٹی ڈسپلن لاگو نہیں ہو سکے گا۔

پی ٹی آئی کو اس کا انتخابی نشان بلا واپس دیے جانے سے متعلق قانونی جنگ طویل ہونے کا امکان موجود ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ منگل کے روز پی ٹی آئی چاہے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کسی عدالت میں بھی چیلنج کرے، اکبر ایس بابر سمیت دیگر درخواست گزار اس کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کریں گے۔کیونکہ زیادہ امکان یہی ہے کہ پی ٹی آئی فیصلے کو چیلنج کرتے وقت صرف الیکشن کمیشن پاکستان کو فریق بنائے گی۔ لہٰذا انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف الیکشن کمیشن جانے والے درخواست گزاروں کو اپنے طور پر فریق بننے کے لیے عدالت سے رجوع کرنا پڑے گا جس کی تیاری وہ کررہے ہیں۔

تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کرنے پر پہلے مرحلے میں عدالت الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرے گی اور یہ سماعتیں دو تین روز لے سکتی ہیں۔ اس دوران درخواست گزاروں کی طرف سے فریق بننے کی درخواست بھی آجاتی ہے، جس کی تیاری کی جارہی ہے تو پھر مزید دو تین روز لگیں گے۔

درخواست گزاروں کو توقع ہے کہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کی جانب سے بھی پی ٹی آئی کو ریلیف ملنا مشکل ہے۔ کیونکہ الیکشن کمیشن پاکستان نے انتہائی ٹھوس شواہد پر انٹرا پارٹی الیکشن کو کالعدم قرار دیا ہے۔ تاہم پھر بھی عدالت کی جانب سے کوئی ایسا فیصلہ آجاتا ہے، جس کی بنیاد پر پی ٹی آئی کو بلے کا انتخابی نشان واپس مل جاتا ہے تو اس فیصلے کے خلاف ناصرف الیکشن کمیشن نظرثانی کی درخواست دائر کر سکتا ہے بلکہ دیگر درخواست گزار بھی ایسی ہی درخواست لے کر متعلقہ عدالت میں

2024 کا الیکشن ماضی کے انتخابات سے زیادہ دھاندلی زدہ ھو گا؟

جائیں گے۔ یوں بلے کی قانونی جنگ مختصر ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

Related Articles

Back to top button