ثاقب نثار عمران کا سہولت کار کیوں بنا ہوا ہے؟

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اپنے متنازع ماضی اور حالیہ وضاحتوں کی وجہ سے ایک بار پھر تنقید کی زد میں ہیں اور نون لیگی قیادت کا کہنا ہے کہ جسٹس ثاقب نثار جس طرح اپنے سپریم کورٹ میں عمران خان کو ریلیف فراہم کرتے رہے اسی طرح اب بھی مختلف عدالتوں میں اپنا اثر ورسوخ استعمال کر کے ان کیلئے سہولتکار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔سینئر صحافی اسد علی طور نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کا آج بھی عدلیہ پر گہرا اثر ہے۔ خواہ وہ عملہ ہو یا بنچز ہوں، ثاقب نثار ان بااثر شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے عدلیہ میں مداخلت کا غیرمعمولی کردار ادا کیا ہے۔

صحافی اسد علی طور نے اپنے وی-لاگ میں مزید کہا کہ حال ہی میں صحافی زاہد گشکوری سے گفتگو میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے انکشاف کیا ہے کہ دو ہفتے پہلے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ان سے رابطہ کیا اور اپنے خلاف جاری متعدد مقدمات میں ان سے مدد طلب کی، عمران خان نے انہیں کہا کہ میں بہت مقدمات میں پھنسا ہوا ہوں۔ میری مدد کریں تاہم قابلِ غور بات یہ ہے کہ عمران خان نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے مدد کیوں مانگی۔

ایسی کونسی خاصیت ہے سابق چیف جسٹس میں جس کی بنا پر وہ عمران خان کی مدد کر سکتے ہیں۔ آج کے دن تک ان کی عدلیہ میں دخل اندازی اس کی وجہ ہے۔ خواہ وہ عملہ ہو یا بنچز ہوں،  ثاقب نثار  ان بااثر شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے عدلیہ میں مداخلت کا غیرمعمولی  کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اپنے دور میں عدلیہ میں بہت زیادہ ‘انوسٹمنٹ’ کی ہے۔ چن چُن کے انہوں نے ججز کا انتخاب کیا اور انہیں ترقی دی۔ سینارٹی کے اصول کو نظرانداز کرتے ہوئے جونیئر ججز کو ترقی دی۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے عدالتی عملے میں من چاہی بھرتیاں کیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے رجسٹرا خواجہ داود، جو کہ چیف جسٹس کے رشتہ دار تھے، ان کے ذریٰعے بہت ساری بھرتیاں کیں۔ ان تمام چیزوں کی پیش نظر وہ آج بھی سپریم کورٹ میں ‘موور اینڈ شیکر’ مانے جاتے ہیں۔

ان کے خلاف مسلم لیگ ن کی جانب سے کیس یہ ہے کہ جسٹس ثاقب نثار نے ہمارے خلاف بہت ہی جانبدار کارروائی اور فیصلہ کیا۔ 2017 میں جب ثاقب نثار چیف جسٹس تھے تو اس وقت وہ مسلم لیگ ن کے خلاف مہم چلا رہے تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید اس وقت ڈی جی سی تھے۔ ایک واٹس ایپ گروپ تھا جس میں ثاقب نثار، فیض حمید اور سپریم کورٹ کے تین اور جج صاحبان شامل تھے۔ اس میں انتخابی عزرداریوں کا فیصلہ ہوتا تھا، اس میں سیاستدانوں کے مقدمات کی فیصلے ہوتے تھے کہ فلاں کو نااہل کرنا ہے، فلاں کو رکھنا ہے فلاں کو ٹارگٹ کرنا ہے، فلاں کے خلاف کیس ٹیک اپ کریں۔ اور ان پر عملدرآمد ہوتا تھا۔ ثاقب نثار خود فرعون وقت بن کر کہتے تھے کہ دو تین کو تو میں ایک نظر سے نااہل کر دیتا ہوں۔

یہ ساری گیم تھی جس کا جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے صحافی جاوید چوہدری کو دیئے گئے انٹرویو میں خلاصہ کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ ‘میں نے فیض حمید کو بھجوا کر عمران خان کو صادق اور امین کروایا تھا۔ عمران خان کا بنی گالہ والا فارم ہاوس غیرقانونی ثابت ہو گیا تھا تو میں نے ثاقب نثار سے کہہ کر ریگولرائز کروایا تھا’۔اتنی ان کی حیثیت اور طاقت تھی۔

موصوف ثاقب نثار گیم کیسے کرتے تھے یہ کہانی بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ ن لیگ کی گردن اتارنے کی گیم چل پڑی تھی۔ سینیٹ کا الیکشن تھا جو 2018 کی اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے سے پہلے تھا۔ 2018 عام انتخابات میں ن لیگ کو نہ بھی جیتنے دیتے توکم از کم ان کی سینیٹ میں اکثریت رہتی کیونکہ اس وقت وہ اکثریت میں تھے اور سینیٹ کی سب سے زیادہ نشستیں جیت سکتے تھے۔ جسٹس ثاقب نثار نے میاں نواز شریف کو ن لیگ کی صدارت سے فارغ کروا دیا اور جو سینیٹرز ن لیگ کی ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہےتھے انہیں آزاد قرار دے دیا۔

اس سے جنرل فیض حمید کو ‘ہارس ٹریڈنگ’ کا قانونی راستہ مل گیا اور آزاد منتخب ہونے والوں کی اکثریت پاکستان تحریک انصاف میں چلی گئی۔ پنجاب سے ن لیگ کے 2 سینیٹرز کو نااہل کیا ۔ وہاں سے پی ٹی آئی نے اپنے سینیٹرز منتخب کروا لئے۔ یوں جسٹس ثاقب نثارنے سینیٹ میں پی ٹی آئی کی اکثریت بڑھوا لی۔ اس طرح سے پولیٹیکل انجینئرنگ کی گئی۔

انتقامی کارروائی کے طور پر، جان بوجھ کر میاں نواز شریف، ان کے بچوں اور اہل خانہ کے کیسز اور ریفرنسز کا فیصلہ ایک ساتھ دیا۔ عام انتخابات 23 جولائی سے پہلے انہوں نے ایک فیصلہ سنوایا، میاں نواز شریف اور مریم نواز کو سزا سنوائی، ان کو وطن واپسی پر گرفتار کروا کے جیل میں ڈلوایا  تاکہ وہ انتخابات کے وقت باہر نہ ہوں۔ اسی کیس میں ضمانت کے لئے جب مریم نواز اور نواز شریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنا تھا  تو  فیض حمید جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے گھر پہنچ گئے تھے تاکہ انہیں سمجھا سکیں کہ ہماری دو سال کی محنت ضائع نہ کر دینا۔ جب وہ نہ مانے تو  فیض حمید کے احکامات پر ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس لا کر ان کا قلع قمع کر دیا۔

معزز جسٹس منیب اختر سندھ ہائیکورٹ میں چوتھے نمبر پر جونیئر جج تھے لیکن چونکہ وہ ثاقب نثار کے مینٹور خالد انور کے داماد تھے تو ثاقب نثار ان کو ترقی دے کر سپریم کورٹ لے آئے۔ حالانکہ ان سے کئی درجے قابل اور سینیئر جج جسٹس عقیل عباسی  کو ترقی نہیں دی۔ اس وقت ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کے جج صاحبان کو یہ توجیہہ پیش کہ کہ میں نے سندھ  ہائیکورٹ کے تمام ججز بشمول جسٹس عقیل عباسی، عرفان سعادت اور احمد علی شیخ ے پوچھ لیا ہے۔ سب اس فیصلے پر متفق ہیں۔ اس پر سندھ ہائیکورٹ کے جج صاحبان نے تردید کی اور بتایا کہ انہوں نے ہمیں صرف مطلع کیا تھا کہ جسٹس منیب اختر کو ایلیویٹ کر کے سپریم کورٹ لے جارہا ہوں۔ ہم احترام میں خاموش رہے۔

اب جسٹس اعجازالاحسن کو دیکھ لیں۔ جب ثاقب نثار پی ٹی آئی کے امیدواروں کی انتخابی مہم کے لئے مختلف حلقوں میں دورے کررہے تھے تو یہ موصوف ثاقب نثار کے ساتھ ہوتے تھے۔ ان کے بہت قریبی رہے ہیں۔ معزز چیف جسٹس عمر عطا بندیال بھی ثاقب نثار کے بہت قریبی رہے ہیں۔ عمران خان کو صادق اور امین قرار دینے والے بنچ کا بھی وہ حصہ تھے۔

ثاقب نثار کے داغدار ماضی کی انھیں کارستانیوں کی وجہ سے وہ لیگی قیادت کے نشانے پر ہیں کہ عمران کیلئے عدلیہ کو مینج کرنے میں بڑا کردار بابا رحمت کا ہے تاہم جسٹس ثاقب نثار اس طرح کے تمام دعووں کی تردید کرتے ہیں۔

عمران خان کی ناجائز بیٹی ٹیریان، اصل کہانی کیا ہے؟

Back to top button