وقت کفایت شعاری، سادگی، قربانی اور ایثار کا تقاضہ کر رہا ہے

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پوری قوم اس وقت کڑی مشکل سے گزر رہی ہے،وقت کفایت شعاری، سادگی، قربانی اور ایثار کا تقاضہ کر رہا ہے۔

اسلام آباد میں کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ قوم کڑے امتحان اور چیلنج سے گزر رہی ہے، اور وقت ہم سے پکار پکار کر کفایت شعاری، سادگی، قربانی اور ایثار کے جذبے کی تقاضہ کر رہا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ہر دور کی مشکلات میں نہ چاہتے ہوئے بھی غریب نے قربانی دی ہے، غریب مہنگائی میں پسا، بچوں کو ایک وقت کی روٹی دینے پر مجبور ہوا اور غریب انسان عید جیسے مواقع پر دوائی اور دودھ کے پیسوں سے بچوں کے لیے کپڑے خریدنے پر مجبور تھا، صاحب حیثیت لوگوں نے یقناً غریب لوگوں کی مدد میں اپنا حصہ ڈالا ہے مگر یہ سوالیہ نشان ہے کہ کیا سب نے اپنا حصہ ڈالا یا نہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں رہنے کے بجائے ماضی سے سبق حاصل کرکے آج آگے بڑھنے کا فیصلہ کرنا ہے کیونکہ آج قوم کی توقع ہم سے اور قومی ہماری طرف دیکھ رہی ہے، قوم کی نظریں مخلوط حکومت پر ہیں مگر یہ کوئی مذاق نہیں ہے کہ مخلوط حکومت انتہائی کڑے امتحان میں فیصلے کر رہی ہے اور ملک کو اپنی سمت پر لانے کے لیے پوری توانائی سے کوشش کر رہی ہے لیکن اس کے لیے آج عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ چاہے کوئی وزیر، مشیر، معاون خصوصی ہے، چاہے کوئی بیوروکریٹ یا حکومتی عہدیدار ہے ہم سب کو پہلے اس ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا پھر ہم اشرافیہ اور صاحب حیثیت لوگوں سے قربانی کی توقع کر سکتے ہیں، آج ہمیں چیلنج قبول کرنے کے لیے کھڑا ہونا ہوگا تاکہ دنیا کو بھی بتائیں کہ پاکستانی قوم توانا قوم ہے اور پاکستانی حکومت ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہر قدم کو بروئے کار لائے گی اور کسی بھی قدم کو اٹھانے میں تعطل کا شکار نہیں ہوگی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ وقت قوم سے کفایت شعاری اور سادگی کا تقاضہ کر رہا ہے، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) جلد مل جائے گا، حکومت کفایت شعاری کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور ہمیں عملی اقدامات کا مظاہرہ کرنا چاہیے، سرکاری سطح پر اگر ہمیں باہر جانے کے لیے سفری سہولیات ہیں تو میں اکانامی میں جاؤں گا اور اس کو مینج کروں گا۔

قبل ازیں وفاقی کابینہ نے ملکی معاشی حالات کے پیش نظرکفایت شعاری اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق وفاقی وزراء سرکاری گاڑیاں واپس کریں گے اور  پیٹرول کم کریں گے، وفاقی وزراء اپنی تنخواہیں بھی نہیں لیں گے، وزراء سرکاری دفاتر میں خزانے سے کوئی خرچ نہیں کریں گے، سرکاری دفاتر میں بجلی کا کم سےکم خرچ کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے، غیر ضروری غیر ملکی دوروں پر پابندی ہوگی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم آفس اور  وزارتوں کے اخراجات بھی کم کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے، وزارت خارجہ کو فارن مشن کے اسٹاف کوکم کرنےکی ہدایت بھی کی گئی ہے، سرکاری افسران اور  وفاقی کابینہ کے ممبران کے لیے بزنس کلاس سفر پر پابندی لگادی گئی ہے،کابینہ ممبران اور سرکاری افسران فائیو اسٹار ہوٹل میں نہیں ٹھہریں گے، سرکاری تقریبات میں ڈنر اور لنچ میں ون ڈش کی پابندی ہوگی۔

ڈالرکی قیمت میں کمی،سٹاک ایکسچینج میں بھی مثبت دن رہا

Related Articles

Back to top button