اقتدار چھوڑنا شہباز شریف کو کتنا بھاری پڑے گا؟

11، اپریل 2022 کو عمران خان کی چھٹی کروا کر وزارت عظمیٰ سنبھالنے والے شہباز شریف کی حکومت نے بھی آخرکار اپنا بوریا بستر باندھ ہی لیا ہے۔ پنجاب میں ”شہباز سپیڈ“ کا خطاب پانے والے شہباز شریف نے ایک برس سے زائد عرصہ تک وزارت عظمی کا مزہ لیا لیکن بدترین معیشت اور دگرگوں حالات پر قابو نہ پا سکے۔۔ اب انہوں نے 9 اگست کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا بگل بجا دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہباز شریف نے 9 تاریخ ہی کا انتخاب کیوں کیا؟ علم الاعداد کی روشنی میں اگر ”9“ سب سے زیادہ طاقتور اور پراثر نمبر مانا جاتا ہے تو کبھی کبھی یہ انتہائی کمزور ثابت ہوتا ہے۔ تاہم تاریخ کے کئی عظیم اور نامی گرامی حکمران اس نمبر کے سحر میں گرفتار رہے ہیں؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ شہباز شریف کو یہ تاریخ کتنی راس آتی ہے؟
فی الحال تو وہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کی سمری 9 اگست کو صدر عارف علوی کو بھجوا رہے ہیں، جن کے دستخط نہ کرنے کی صورت میں 48 گھنٹے کے اندر اسمبلیاں خود بخود تحلیل ہو جائیں گی۔
جہاں تک 9 تاریخ کی اہمیت ہے تو پوری دنیا میں لوگ نمبرز کی شعبدہ بازی کے معترف ہیں۔ زمین کی گہرائیوں سے لے کر کائنات کی وسعتوں تک، سب نمبر گیم ہے۔ انسانی زندگی بھی حساب کتاب اور پیمائش سے خالی نہیں۔
دوسری طرف انسانی نفسیات ہے کہ جسے دولت، شہرت اور چودھراہٹ کی لَت لگ جائے تو اسے قائم رکھنے کے لئے محبت اور جنگ کی طرح سب جائز ہے۔۔اور اس جنگ میں ”نمرولوجی“ یا علم الاعداد کی کتنی اہمیت ہے؟ اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ آج بھی دنیا میں کئی بادشاہوں، حکمرانوں اور اہم شخصیات کے نام تک ان کی تاریخ پیدائش اور وقت کے حساب سے تجویز کئے جاتے ہیں اور تو اور بڑے بڑے تاریخی معرکے سر کرنے کے لئے بھی وقت اور تاریخ کا تعین بہت غوروفکر کے بعد کیا جاتا تھا۔ عالموں، جوتشیوں اور علم الاعداد کے ماہرین کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں تاکہ بدشگونی اور نحوست سے بچا جا سکے یعنی اس علم کا شمار دنیا کے قدیم ترین علوم میں ہوتا ہے۔
علم الاعداد کی رو سے ”9“ عوامی خدمت اور بھلائی کے کسی بھی کام کو شروع کرنے کے حوالے سے لکی نمبر ہے۔ یہ معاف کر دینے اور درگذر کرنے کے اوصاف رکھتا ہے، دوسرے لفظوں میں 9 تاریخ کو شروع کئے جانے والے کسی بھی کام میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔
شہباز شریف بھی آئندہ آنے والے وقت کو ہلکا نہ لیں، یہاں پانسہ پلٹتے دیر نہیں لگتی۔ 9 تاریخ کا انتخاب تو ہو گیا لیکن یہ ابتدائی طور پر بہت کھٹن ثابت ہو گا اور اب دھونس اور دھاندلی شہباز شریف اور ان کے حواریوں کے کسی کام نہیں آئے گی۔ اسٹیبلشمنٹ سے بھی آج کل نہ دوستی بھلی نہ دشمنی، اس لئے سب کو اعلیٰ ظرفی اور بلند ہمتی کا مظاہرہ کرنا ہو گا ورنہ یہ فیصلہ تا زندگی پچھتاوے کا باعث بنا رہے گا کیونکہ اچانک رونما ہونے والے واقعات اور تبدیلیوں کو آپ سہہ نہیں پائیں گے۔ دیکھا جائے تو اس وقت پی ڈی ایم کی تمامتر قیادت کو آصف علی زرداری سے دوراندیشی، مفاہمت اور معاملہ فہمی کا سبق لینا چاہیئے۔۔وہ حسب موافق حالات کا رخ موڑنے کا گُر جانتے ہیں۔جلد بازی، خود اعتمادی اور خود مختاری بعض اوقات منہ کے بل ایسا گراتی ہے کہ سنبھلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دولت، طاقت اور دوسروں پر حکومت کرنے کی خواہش جب پاگل پن کی حدوں کو چھونے لگے یا جنون بن جائے تو اکثر بازی پلٹ بھی جاتی ہے۔
دراصل 9 نمبر کا انتخاب کرنے والے اپنی ذات پر کچھ زیادہ ہی بھروسہ کر لیتے ہیں بلکہ خود کو حرف کل سمجھنے لگتے ہیں۔ باہمی جھگڑے ہوں یا اقتدار کی رسہ کشی، یہ ہر قسم کے معاملات کو اپنی اپنی عینک سے دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں۔ غرور اور تکبر ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔ پی ڈی ایم میں بھی اتحادی جماعتیں ایک طرف، بعض اوقات اپنی ہی جماعت کے کرتا دھرتا کھٹکنے لگتے ہیں اور کسی دوسرے کی مداخلت برداشت نہیں ہوتی خواہ وہ ان کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔ ان کی یہی عادات دوسروں کو ان پر تنقید کرنے اور انگلی اٹھانے کا موقع دیتی ہیں۔۔اس لئے ہر قدم پھونک
پنکی پیرنی عمران کوسب سے بڑا سرپرائز دینےکیلئے تیار؟
پھونک کر رکھنا ہو گا خصوصاً جب ڈور بھی آپ کے ہاتھ میں نہیں!!
